ڈیزل اور ہوائی ایندھن پر مرکزی حکومت نے اچانک بڑھا دیا ’وِنڈفال ٹیکس‘، کیا عوام پر پڑے گا اس کا اثر؟

ڈیزل کی برآمدگی پر نافذ وِنڈفال ٹیکس کو 8.5 روپے فی لیٹر سے بڑھا کر 15.5 روپے فی لیٹر کر دیا گیا ہے، جبکہ اے ٹی ایف پر یہ ٹیکس 7.5 روپے فی لیٹر سے بڑھ کر 14.5 روپے فی لیٹر ہو گیا ہے۔

<div class="paragraphs"><p>وِنڈفال ٹیکس، تصویر اے آئی</p></div>
i

امریکہ اور ایران میں جنگ تیز ہونے سے مشرق وسطیٰ میں ایک بار پھر کشیدگی بہت زیادہ بڑھ گئی ہے۔ نئے سرے سے شروع ہوئی اس جنگ نے خام تیل کی قیمتوں میں بھی آگ لگا دی ہے۔ ایسے ماحول میں حکومت ہند نے ڈیزل پر لگنے والے ایک خاص ٹیکس میں اضافہ کر دیا ہے۔ مودی حکومت نے ڈیزل کے ساتھ ساتھ ہوائی ایندھن یعنی اے ٹی ایف کی برآمدات پر لگنے والے وِنڈفال ٹیکس میں شدید اضافہ کر دیا ہے۔ یہ اضافہ 7 روپے فی لیٹر تک کا ہے۔

خبر رساں ایجنسی ’رائٹرس‘ کے مطابق حکومت نے ڈیزل کی برآمدگی پر اب تک نافذ وِنڈفال ٹیکس کو 8.5 روپے فی لیٹر سے بڑھا کر 15.5 روپے فی لیٹر کر دیا ہے۔ اسی طرح ہوابازی ٹربائن ایندھن (اے ٹی ایف) پر یہ ٹیکس 7.5 روپے فی لیٹر سے بڑھا کر 14.5 روپے فی لیٹر کر دیا گیا ہے۔ ٹیکس کی یہ بڑھی ہوئی شرحیں 16 جولائی، یعنی آج سے ہی نافذ ہو گئی ہیں۔ غور کرنے والی بات یہ ہے کہ پٹرول پر لگنے والے وِنڈفال ٹیکس میں تخفیف کی گئی ہے۔ اسے پہلے کے مقابلے 1.5 روپے فی لیٹر کم کر دیا گیا ہے۔ پٹرول پر پہلے 4 روپے فی لیٹر وِنڈفال ٹیکس لگایا جاتا تھا، جو اب کم ہو کر 2.5 روپے فی لیٹر ہو گیا ہے۔


قابل ذکر ہے کہ اس سے قبل بھی کئی بار عالمی حالات فکر انگیز ہونے اور خام تیل کی قیمتوں میں تیزی کو پیش نظر رکھتے ہوئے حکومت وِنڈفال ٹیکس میں اضافہ کر چکی ہے۔ جولائی میں جب امریکہ-ایران جنگ کچھ وقت کے لیے رکی ہوئی تھی، تو حکومت نے پٹرول کی برآمدات پر وِنڈفال ٹیکس بڑھا دیا تھا، جبکہ ڈیزل اور اے ٹی ایف پر اس ٹیکس کو کم کیا تھا۔ اب تازہ فیصلے میں ڈیزل اور اے ٹی ایف پر وِنڈفال ٹیکس بڑھانے اور پٹرول پر یہ ٹیکس گھٹانے کا اعلان کیا گیا ہے۔

غور کرنے والی بات یہ ہے کہ پٹرول، ڈیزل اور اے ٹی ایف پر وِنڈفال ٹیکس میں ہوئی تبدیلی کا عام ہندوستانیوں پر اثر نہیں پڑے گا۔ ایسا اس لیے، کیونکہ وِنڈفال ٹیکس حکومت کے ذریعہ کسی کمپنی یا صنعت پر لگایا جانے والا اضافی ٹیکس ہوتا ہے، جس کا مقصد گھریلو بازار میں ایندھن کی دستیابی یقینی بنانا اور برآمد کنندگان کو بین الاقوامی قیمتوں پر زیادہ فائدہ اٹھانے سے روکنا ہے۔ یعنی حکومت کے اس فیصلہ سے ملک کے اندر پٹرول و ڈیزل کی قیمتوں میں کوئی اضافہ نہیں ہوگا۔