
سوشل میڈیا
ممبئی میں ہوئے 11/26 والے حملہ کے کلیدی ملزم تہوّر رانا کی حراست این آئی اے کو مل گئی ہے، اور ایجنسی نے جمعہ کے روز پوچھ تاچھ شروع بھی کر دی۔ تہوّر کو امریکہ سے ہندوستان لایا گیا ہے، اور ایئرپورٹ پر پہنچتے ہی اسے حراست میں لے لیا گیا۔ ذرائع کے مطابق 11/26 حملوں کا منصوبہ بنانے میں تہوّر کے کردار، پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کے ساتھ اس کے تعلقات اور دہشت گرد تنظیم لشکر طیبہ کے ساتھ اس کے روابط کو لے کر خفیہ ایجنسی نے سوالات پر مبنی ایک طویل فہرست تیار کی ہے۔
Published: undefined
ذرائع کے حوالے سے میڈیا میں آ رہی خبروں میں بتایا جا رہا ہے کہ این آئی اے پہلے دور کی پوچھ تاچھ میں تہوّر رانا کے اہل خانہ کے بیک گراؤنڈ سے متعلق سوال پوچھے گی۔ اس کے بعد 11/26 حملے میں اس کے کردار کو لے کر سوالات کیے جائیں گے۔ پوچھ تاچھ کے پیش نظر ایک ڈائری تیار کی جائے گی اور بعد میں اس کا ڈسکلوزر اسٹیٹمنٹ ریکارڈ کیا جائے گا۔ پوچھ تاچھ کے دوران یہ خیال رکھا جائے گا کہ وہ کسی طرح سے خود کو نقصان نہ پہنچائے۔
Published: undefined
قابل ذکر ہے کہ 64 سالہ تہوّر رانا کو جمعرات کی شام ایک خصوصی طیارہ سے دہلی لایا گیا اور این آئی اے نے انھیں فوراً گرفتار کر لیا۔ دیر رات پٹیالہ ہاؤس کورٹ کی ایک خصوصی عدالت کے سامنے اسے پیش کیا گیا، جس نے 29 اپریل تک این آئی اے کی حراست میں بھیج دیا۔ ڈی آئی جی جیا رائے کی قیادت میں این آئی اے افسران کی 12 رکنی ٹیم، جنھوں نے تہوّر رانا کو بحفاظت ہندوستان لانے میں اہم کردار ادا کیا، انھیں پوچھ تاچھ کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ اس حراستی مدت کے دوران این آئی اے نے وسیع پوچھ تاچھ کا منصوبہ تیار کیا ہے تاکہ ہر طرح کی سازش کے بارے میں پتہ کیا جا سکے۔
Published: undefined
بتایا جا رہا ہے کہ جانچ کرنے والے افسران خاص طور سے یہ جانکاری حاصل کرنے کی کوشش کریں گے کہ تہوّر کو فنڈنگ کہاں سے مل رہا تھا۔ سلیپر سیل سے اس کے تعلقات اور اس کے کاروباری ساتھیوں کی شناخت بھی پوچھی جائے گی۔ اس پوچھ تاچھ سے قبل این آئی اے ہیڈکوارٹر میں تہوّر کو ایک سخت سیکورٹی والے لاک اَپ میں رکھا گیا ہے۔ 24 گھنٹے سیکورٹی گارڈ جیسی سہولیات اسے دی گئی ہیں تاکہ پوچھ تاچھ سے بچنے کے لیے وہ خود کو نقصان نہ پہنچائے۔ حراست میں پوچھ تاچھ ختم ہونے کے بعد رانا کو دہلی واقع تہاڑ جیل میں رکھا جائے گا، جہاں اس کی آمد کو پیش نظر رکھتے ہوئے سخت سیکورٹی انتظامات کیے گئے ہیں۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined