دہلی میں موسم کی کروٹ: مطلع ابر آلود، بارش اور تیز ہواؤں کی پیش گوئی
دہلی میں فروری کے وسط میں غیر معمولی گرمی کے بعد موسم نے اچانک کروٹ لی ہے۔ محکمہ موسمیات نے 18 فروری کو تیز ہواؤں، ہلکی بارش اور گرج چمک کا امکان ظاہر کیا ہے، جس سے درجۂ حرارت میں عارضی کمی آ سکتی ہے

ملک کی راجدھانی دہلی میں فروری کا مہینہ اس بار مسلسل حیران کر رہا ہے۔ مہینے کے آغاز میں سردی کا احساس ہوا لیکن چند ہی دنوں میں درجۂ حرارت میں تیزی سے اضافہ ہو گیا اور اب بارش کے آثار نمایاں ہیں۔ بدلے ہوئے موسم نے شہریوں کو الجھن میں ڈال دیا ہے۔ بدھ کی صبح سے شہر کے کئی علاقوں میں بادل چھائے رہے جبکہ بعض مقامات پر ہلکی بوندا باندی بھی ریکارڈ کی گئی۔
17 فروری دہلی کا اب تک کا سب سے گرم دن ثابت ہوا۔ زیادہ سے زیادہ درجۂ حرارت 30.9 ڈگری سیلسیس درج کیا گیا جو معمول سے 6.5 ڈگری زیادہ تھا، جبکہ کم سے کم درجۂ حرارت 12.4 ڈگری سیلسیس رہا۔ فروری کے وسط میں اس قدر گرمی نے لوگوں کو وقت سے پہلے گرمی کا احساس دلایا۔ دن بھر تیز دھوپ اور ہلکی حدت محسوس کی گئی۔
محکمہ موسمیات ہند (آئی ایم ڈی) کے مطابق 18 فروری کو دوپہر بعد موسم اچانک بدل سکتا ہے۔ محکمہ موسمیات نے تیز ہواؤں کے ساتھ ہلکی بارش کی پیش گوئی کی ہے۔ اندازہ ہے کہ ہوائیں 30 سے 40 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چل سکتی ہیں۔ گرج چمک اور آسمانی بجلی گرنے کا امکان بھی ظاہر کیا گیا ہے۔ بارش کی صورت میں درجۂ حرارت میں عارضی کمی آسکتی ہے، تاہم یہ راحت زیادہ دن برقرار رہنے کی توقع نہیں۔
ماہرین کے مطابق مغربی ہواؤں کے نظام کے سرگرم ہونے سے اگلے 24 سے 48 گھنٹوں میں کئی ریاستوں میں موسم تبدیل ہوسکتا ہے۔ میدانی علاقوں میں بارش اور تیز ہوائیں چلنے کا امکان ہے جبکہ پہاڑی خطوں میں برفباری بھی ہوسکتی ہے۔
دہلی۔این سی آر میں 19 سے 23 فروری کے درمیان زیادہ سے زیادہ درجۂ حرارت 27 سے 31 ڈگری سیلسیس کے درمیان رہنے کا امکان ہے جبکہ کم سے کم درجۂ حرارت 13 سے 15 ڈگری کے آس پاس رہ سکتا ہے۔
ادھر فضائی آلودگی بھی تشویش کا باعث بنی ہوئی ہے۔ 17 فروری کی شام چار بجے تک اوسط اے کیو آئی 249 درج کیا گیا جو ‘خراب’ زمرے میں آتا ہے۔ تیز ہواؤں اور بارش کی صورت میں آلودگی میں عارضی بہتری ممکن ہے۔
محکمہ موسمیات نے شہریوں کو مشورہ دیا ہے کہ دوپہر بعد غیر ضروری طور پر باہر نکلنے سے گریز کریں اور کھلے مقامات پر احتیاط برتیں۔ آنے والے 48 گھنٹے دہلی کے موسم کے لیے اہم سمجھے جا رہے ہیں۔