قومی خبریں

’مسٹر سنگھ‘ پوسٹر تنازعہ: امریکہ میں ہندوستانیوں کی بے حرمتی پر کانگریس کا اظہارِ ناراضگی، مودی حکومت پر کیا حملہ

ہوم لینڈ سیکورٹی ڈپارٹمنٹ کے قابل اعتراض پوسٹ پر جئے رام رمیش نے کہا کہ یہ معاملہ صرف کسی ایک شخص یا طبقے کی بے حرمتی کا نہیں بلکہ تمام ہندوستانیوں کی عزت و وقار سے متعلق ہے۔

<div class="paragraphs"><p>متنازعہ پوسٹر، تصویر ’ایکس‘</p></div>

متنازعہ پوسٹر، تصویر ’ایکس‘

 

کانگریس جنرل سکریٹری جئے رام رمیش نے امریکہ میں ہند نژاد افراد کے ساتھ مبینہ طور پر ہونے والی بے حرمتی معاملہ میں مودی حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی، جنہوں نے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کو اپنا ’دوست‘ قرار دے کر اپنے بین الاقوامی اثر و رسوخ کا اظہار کیا اور امریکہ میں مقیم ہندوستانیوں کے درمیان ’اب کی بار ٹرمپ سرکار‘ کا نعرہ بھی دیا تھا، آج ہندوستانیوں کی مسلسل بے حرمتی پر خاموش کیوں ہیں؟

جئے رام رمیش نے اپنے آفیشیل ’ایکس‘ ہینڈل پر شیئر کیے گئے ایک بیان میں کہا کہ مودی حکومت کا رویہ ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے وہ اس پورے معاملے میں خاموش شریک ہو۔ انہوں نے امریکہ کے محکمہ ہوم لینڈ سیکورٹی کے آفیشیل ہینڈل سے جاری ایک مبینہ قابل اعتراض پوسٹر کا حوالہ دیتے ہوئے یہ تبصرہ کیا ہے۔ انھوں نے لکھا ہے کہ پوسٹر میں ’مسٹر سنگھ‘ کو نشانہ بنایا گیا اور پگڑی پہنے ہوئے ایک ہندوستانی کی تصویر کے ساتھ ’Get off our roads‘ (ہماری سڑکوں سے ہٹ جاؤ) اور ’Self-deport or find out‘ (خود ملک چھوڑ دو یا پھر دیکھ لینا) جیسے الفاظ استعمال کیے گئے۔

کانگریس لیڈر نے کہا کہ یہ معاملہ صرف کسی ایک شخص یا طبقے کی بے حرمتی کا نہیں بلکہ تمام ہندوستانیوں کی عزت و وقار سے متعلق ہے۔ ان کے مطابق اس طرح کی نسلی دقیانوسی سوچ اور حکومتی سطح پر مبینہ بدتمیزی کے خلاف ہندوستانی حکومت کی جانب سے سخت احتجاج کیا جانا چاہیے تھا۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ امریکہ میں وسیع پیمانے پر مخالفت کے بعد امریکی محکمہ ہوم لینڈ سیکورٹی کو یہ پوسٹ ہٹانی پڑی۔ تاہم انہوں نے دعویٰ کیا کہ پوسٹ ہٹائے جانے کے بعد بھی متعلقہ محکمہ اپنے آفیشیل سوشل میڈیا پوسٹس کے ذریعہ اس مہم اور اس میں استعمال کی جانے والی زبان کا دفاع کرتا رہا۔

جئے رام رمیش نے اپنی پوسٹ میں سوال کیا کہ ہندوستانیوں کی اس مبینہ بے حرمتی پر مودی حکومت کی جانب سے عوامی طور پر کوئی سخت احتجاج کیوں ظاہر نہیں کیا گیا؟ انھوں نے یہ بھی یاد دلایا کہ کمزور مودی حکومت میں ہندوستانیوں کی بے حرمتی کا یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں ہے۔ امریکہ سے ہندوستانیوں کی واپسی کے ایک سابقہ واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’’پوری دنیا نے دیکھا تھا جب ہندوستانیوں کو ہتھکڑیوں اور پیروں میں بیڑیاں ڈال کر امریکی فوجی طیارے کے ذریعہ ہندوستان بھیجا گیا تھا۔‘‘ انہوں نے الزام لگایا کہ اُس وقت بھی مودی حکومت نے اپنے ’دوست‘ کے سامنے ہندوستانیوں کے وقار کے دفاع کے لیے آواز نہیں اٹھائی تھی۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس کے بعد امریکہ نے ہندوستان پر یکطرفہ اضافی ٹیرف بھی عائد کیے، لیکن مودی حکومت اس کا بھی کوئی مؤثر جواب نہیں دے سکی۔

جئے رام رمیش نے مودی حکومت کے ’وشو گرو‘ ہونے کے دعوے پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اگر حکومت بین الاقوامی سطح پر ہندوستان کی مضبوط سفارتی حیثیت کا دعویٰ کرتی ہے تو پھر ہندوستان کے مفادات اور خود مختاری پر مسلسل حملے کیوں ہو رہے ہیں؟ انہوں نے یہ بھی سوال کیا کہ مودی حکومت کے دور میں ہندوستان کی سفارتی طاقت اتنی کمزور کیوں ہو گئی ہے کہ ہندوستان کے اقتصادی اور اسٹریٹجک مفادات متاثر ہو رہے ہیں؟ حکومت اس معاملے پر خاموش کیوں ہے اور آخر ہندوستانی حکومت بار بار کمزور کیوں ثابت ہو رہی ہے؟

جئے رام رمیش نے طنزیہ انداز میں سوال کیا کہ کیا ’دوستی‘ کا مطلب یہ ہے کہ ٹرمپ حکومت ہندوستانیوں کی بے حرمتی کرتی رہے، ہندوستان کے اقتصادی اور اسٹریٹجک مفادات متاثر ہوتے رہیں اور مودی حکومت ہر بار اپنی ناکامیوں پر پردہ ڈالنے کے لیے صرف سرخیوں کے انتظام میں مصروف رہے؟ انہوں نے واضح لفظوں میں کہا کہ خارجہ پالیسی میں دوستی یقیناً اہمیت رکھتی ہے، لیکن قومی مفاد، ہندوستانیوں کی عزت و وقار اور ہندوستان کی خود مختاری سب سے بالاتر ہیں، اور ان معاملات پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔ کانگریس جنرل سکریٹری نے آخر میں مودی حکومت سے جواب طلب کرتے ہوئے سوال کیا کہ آخر حکومت ہندوستان کے مفادات کی مضبوطی سے وکالت کیوں نہیں کر پا رہی ہے؟

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔