’ہماری سڑکوں سے ہٹ جاؤ مسٹر سنگھ، آپ کو گاڑی چلانا نہیں آتا‘، ہندوستانی ڈرائیوروں پر امریکہ میں نسل پرستانہ تبصرہ
سکھ کولیشن نے ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ میں کہا کہ ’’9/11 کے 25 سال بعد بھی، سکھوں کو ان کے حلیے کی وجہ سے نشانہ بنایا جا رہا ہے اور ان کی پروفائلنگ کی جا رہی ہے۔‘‘

ڈپارٹمنٹ آف ہوم لینڈ سیکورٹی (ڈی ایچ ایس) کے ایک اشتہار میں ’مسٹر سنگھ‘ سے خود ملک چھوڑ کر جانے کے لیے کہا گیا، جس کی وجہ سے تنازعہ کھڑا ہو گیا۔ تنظیموں نے اسے نسل پرستانہ اور امریکہ مخالف قرار دیا۔ ڈی ایچ ایس نے بغیر لائسنس والے پیشہ ور ڈرائیوروں کے خلاف اپنی مہم کو فروغ دینے کے لیے ’ایکس‘ ایپ پر اے آئی سے تیار کردہ تصاویر کا استعمال کیا، جس میں ایک بھوری داڑھی والے شخص کو دکھایا گیا تھا۔ اس کی ٹیگ لائن تھی ’’ہماری سڑکوں سے ہٹ جاؤ مسٹر سنگھ، آپ کو گاڑی چلانا نہیں آتا۔‘‘
’ایکس‘ پر اس سے متعلق پوسٹ میں ایک چھوٹی ویڈیو کلپ دکھائی گئی ہے جس میں ٹرانسفارمرس فرنچائزی کا مرکزی ولن میگاٹران، الینس کی رہائی کے لیے بات چیت کر رہا ہے۔ یہ لفظ امریکی انتظامیہ غیر ملکی شہریوں کے لیے استعمال کرتا ہے۔ میگاٹران کو ٹرک ڈرائیوروں ہرجندر سنگھ، راجندر کمار، بیکجان بیشکیف، اخرور بوزوروف اور جسویر سنگھ کی رہائی کی کوشش کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے، جو سڑک حادثات اور دیگر جرائم میں شامل تھے۔
ڈی ایچ ایس نے ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ میں کہا کہ ’’اگر آپ اس ملک کے خلاف دشمنی کے جذبے سے آتے ہیں تو یہ جان لیں ہم اپنا دفاع کریں گے۔ ہم امریکی اقدار کا تحفظ کریں گے۔ ہم اپنے ملک کی حفاظت کریں گے۔‘‘ ایک دیگر پوسٹ میں ٹرانسفامرس فرنچائزی کے مرکزی کردار آپٹمس پرائم کو دکھایا گیا ہے، جس کے ہاتھ پر ڈی ایچ ایس کا ایک بیج لگا ہے۔ وہ بھوری ڈارھی والے شخص کا سامنا کرتے ہوئے پیغام دے رہا ہے ’خود ملک چھوڑ دیں یا انجام بھگتیں۔‘
اشتہار میں مسٹر سنگھ کا ذکر کیے جانے پر ہندو امریکن فاؤنڈیشن اور سکھ کوالیشن جیسی تنظیموں نے سخت تنقید کی ہے۔ ہندو امریکن فاؤنڈیشن (ایچ اے ایف) نے ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ میں کہا کہ ’’سنگھ ہندو بھی ہوتے ہیں، سکھ بھی اور امریکی بھی۔ وہ گاڑی بھی چلاتے ہیں۔ ڈی ایچ ایس کی طرف سے نسل پرستانہ، غیر امریکی اور ہندوستان مخالف پروفائلنگ/ٹرولنگ ہمارے ملک کے اجتماعی ضمیر کو جھنجھوڑ دینے والی ہے۔‘‘ ایچ اے ایف نے اسسٹنٹ اٹارنی جنرل ہرمیت کے ڈھلوں اور ایف بی آئی ڈائریکٹر کاش پٹیل کو ٹیگ کرتے ہوئے کہا کہ ’’یہ ایک فیڈرل ایجنسی کی امتیازی پوسٹ ہے جو سیاسی پیغام سے آگے کی بات ہے، ہم اس کی تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہیں۔‘‘
سکھ کولیشن نے ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ میں کہا کہ ’’9/11 کے 25 سال بعد بھی، سکھوں کو ان کے حلیے کی وجہ سے نشانہ بنایا جا رہا ہے اور ان کی پروفائلنگ کی جا رہی ہے۔‘‘ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ’’امریکہ میں لاکھوں سکھوں کی کنیت سنگھ ہے، جس کا مطلب ہے شیر۔ ہم سکھ کے طور پر اپنی شناخت بتانے میں نڈر رہتے ہیں تب بھی جب ہماری حکومت ہمیں دشمن کے طور پر دکھاتی ہے۔‘‘
قابل ذکر ہے کہ یہ تنازعہ ڈی ایچ اے کے ’سی بی پی ہوم‘ پروگرام کو فروغ دینے والی مہم کے دوران سامنے آیا ہے۔ اس پروگرام کے تحت اہل اور بغیر دستاویز والے مہاجر اپنی مرضی سے امریکہ چھوڑنے کے ارادے کا رجسٹریشن کرا سکتے ہیں۔ ڈی ایچ اے کے مطابق جو لوگ خود ملک چھوڑنے (سیلف ڈپورٹیشن) کے لیے رجسٹریشن کراتے ہیں۔ انہیں سفر میں مدد اور 2600 امریکی ڈالر کا ایگزٹ بونس مل سکتا ہے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
