قومی خبریں

گریٹر نوئیڈا: مہاشیوراتری پر کٹّو کا آٹا کھانے سے 40 سے زیادہ لوگ بیمار

ایکو ولیج -3 سوسائٹی کے رہائشیوں نے بتایا کہ اتوار کومہاشیو راتری کا ورت تھا۔ شام کو ورت پورا کرنے کے لیے لوگوں نے کُٹو کے آٹے کا استعمال کیا جس کے بعد ان کی طبیعت بگڑنے لگی۔

<div class="paragraphs"><p>علامتی تصویر</p></div>

علامتی تصویر

 

قومی راجدھانی دہلی سے ملحق اترپردیش کے گریٹرنوئیڈا ویسٹ میں ایکو ولیج -3 اور ہمالیہ پرائیڈ سوسائٹی کے رہائشیوں کو مہاشیو راتری کے ورت میں کٹو کا آٹا کھانا بھاری پڑگیا۔ دونوں علاقوں میں 40 سے زائد لوگوں کی طبیعت بگڑگئی۔ زیادہ ترمتاثرین کواسپتال میں داخل کرایا گیا ہے جہاں ان کا علاج کیا جارہا ہے۔ مقامی لوگوں نے بتایا کہ کُٹو کا آٹا کُھلا ہوا تھا جس کا استعمال کیا گیا۔ اس واقعہ کے بعد ایک بار پھرمحکمہ خوراک کی لاپرواہی سامنے آئی ہے۔

Published: undefined

ایکو ولیج -3 سوسائٹی کے رہائشیوں نے بتایا کہ اتوار کومہاشیو راتری کا ورت تھا۔ شام کو ورت پورا کرنے کے لیے لوگوں نے کُٹو کے آٹے کا استعمال کیا جس کے بعد ان کی طبیعت بگڑنے لگی۔ الٹی، اسہال اور پیٹ میں درد بڑھ گیا۔ بچوں سمیت 30 سے ​​زائد لوگوں کو اس پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔ حالات بگڑنے پر لوگوں کو اسپتال میں داخل کرایا گیا، جہاں صبح تک ان کا علاج جاری تھا۔ وہیں ہمالیہ پرائیڈ سوسائٹی میں بھی 15 سے زیادہ لوگ بیمار ہیں۔ رہائشیوں نے بتایا کہ سبھی نیومیڈ اسپتال میں زیر علاج ہیں۔

Published: undefined

رہائشیوں کا کہنا ہے کہ لوگوں نے سوسائٹی کے قریب مقامی مارکیٹ کی دکان سے آن لائن کُٹوآٹا منگوایا تھا۔ آٹا پیکٹ بند نہیں تھا، وہ کھلا ہوا تھا جس نے لوگوں کو بیمار کردیا۔ اس سلسلے میں محکمہ خوراک کو لوگوں کے بیمار ہونے سے آگاہ کر دیا گیا ہے۔

Published: undefined

یہ پہلا موقع نہیں ہے جب گریٹرنوئیڈا اور گریٹرنوئیڈا ویسٹ میں مہاشیو راتری پر لوگ بیمار ہوئے ہوں۔ اس سے پہلے بھی ایک ہاسٹل کے طلبہ سمیت 300 سے زائد افراد بیمارہوئے تھے۔ اس وقت محکمے نے جانچ کی اور نمونے لیب بھیج کرکارروائی پوری کردی۔ اس کے بعد بھی ضلع میں غیرمحفوظ اورملاوٹ شدہ اشیائے خوردونوش کی فروخت ہو رہی ہے۔ لوگوں کا الزام ہے کہ محکمہ فوڈ کی لاپرواہی لوگوں کو بھاری پڑرہی ہے۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined