اے آئی امپیکٹ سمٹ 2026 کا آغاز، نئی دہلی بنا عالمی ٹیک مباحثے کا مرکز
نئی دہلی میں اے آئی امپیکٹ سمٹ 2026 کا آغاز، 100 سے زائد ممالک کی شرکت، 70 ہزار مربع میٹر پر ایکسپو، 600 اسٹارٹ اپس اور 500 سے زائد سیشنز کے ذریعے مصنوعی ذہانت کے مستقبل پر عالمی غور و فکر

نئی دہلی: ہندوستان میں اے آئی امپیکٹ سمٹ 2026 کا باقاعدہ آغاز ہو گیا ہے، جس کے تحت دنیا بھر سے ٹیکنالوجی ماہرین، پالیسی سازوں اور صنعت سے وابستہ نمائندوں کی بڑی تعداد نئی دہلی میں جمع ہو رہی ہے۔ پانچ روزہ اس عالمی کانفرنس میں مصنوعی ذہانت کے مستقبل، اس کی گورننس، معیشت اور سماج پر مرتب ہونے والے اثرات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا جائے گا۔
وزیراعظم نریندر مودی آج شام پانچ بجے نئی دہلی کے بھارت منڈپم میں ‘انڈیا اے آئی امپیکٹ ایکسپو’ کا افتتاح کریں گے۔ یہ ایکسپو 16 سے 20 فروری تک جاری رہے گا اور سمٹ کی مرکزی سرگرمیوں کا حصہ ہوگا۔ 100 سے زائد ممالک کی شرکت نے اس تقریب کو عالمی سطح پر غیر معمولی اہمیت عطا کر دی ہے اور ہندوستان کو مصنوعی ذہانت کے بین الاقوامی مکالمے کا مرکز بنا دیا ہے۔
یہ ایکسپو 70 ہزار مربع میٹر سے زائد رقبے پر محیط 10 مختلف میدانوں میں پھیلا ہوا ہے، جہاں عالمی ٹیکنالوجی کمپنیاں، اسٹارٹ اپس، تعلیمی و تحقیقی ادارے، مرکزی وزارتیں، ریاستی حکومتیں اور بین الاقوامی شراکت دار ایک ہی پلیٹ فارم پر اپنی صلاحیتوں اور منصوبوں کی نمائش کریں گے۔ تیرہ ممالک کے قومی پویلین بھی قائم کیے گئے ہیں جن میں آسٹریلیا، جاپان، روس، برطانیہ، فرانس، جرمنی، اٹلی، نیدرلینڈ، سوئٹزرلینڈ، سربیا، ایسٹونیا، تاجکستان اور افریقہ کے نمائندہ پویلین شامل ہیں، جو عالمی تعاون کی جھلک پیش کریں گے۔
ایکسپو میں 300 سے زائد منتخب نمائشی پویلین اور لائیو مظاہروں کا اہتمام کیا گیا ہے، جنہیں عوام، کرہ ارض اور پیش رفت جیسے موضوعاتی سلسلوں میں ترتیب دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ 600 سے زیادہ اعلیٰ صلاحیت کے حامل اسٹارٹ اپس اپنے عملی حل پیش کریں گے، جن میں سے کئی ایسے ماڈلز متعارف کرا رہے ہیں جو پہلے ہی حقیقی نظاموں میں استعمال ہو رہے ہیں اور آبادی کے بڑے حصے کو فائدہ پہنچا رہے ہیں۔
منتظمین کے مطابق اس تقریب میں بین الاقوامی مندوبین سمیت ڈھائی لاکھ سے زیادہ زائرین کی شرکت متوقع ہے۔ پانچ سو سے زائد سیشنز منعقد کیے جائیں گے جن میں تین ہزار دو سو پچاس سے زیادہ مقررین اور پینل اراکین شرکت کریں گے۔ ان مباحثوں کا مقصد مختلف شعبوں میں مصنوعی ذہانت کی تبدیلی لانے والی صلاحیت کو سمجھنا اور ایسے اقدامات پر غور کرنا ہے جن سے یہ ٹیکنالوجی ہر عالمی شہری کے لیے مفید ثابت ہو سکے۔
سمٹ کا ہدف عالمی اے آئی ماحولیاتی نظام کے اندر نئی شراکت داریوں کو فروغ دینا، پالیسی ہم آہنگی کو مضبوط بنانا اور کاروباری مواقع پیدا کرنا ہے تاکہ مصنوعی ذہانت کو ذمہ دارانہ اور جامع انداز میں آگے بڑھایا جا سکے۔
(یو این آئی ان پٹ کے ساتھ)
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔