
راہل گاندھی / ویڈیو گریب
’’نریندر مودی گھبرائے ہوئے ہیں۔ جو تجارتی معاہدہ 4 ماہ سے رکا ہوا تھا، اس میں کچھ بدلا نہیں اور کل شام اس تجارتی معاہدہ پر دستخط کر دیا گیا۔ اس کے پیچھے کیا وجہ ہے، وہ میں جانتا ہوں اور نریندر مودی جانتے ہیں۔‘‘ یہ بیان آج پارلیمنٹ احاطہ کے باہر نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے لوک سبھا میں حزب اختلاف کے قائد راہل گاندھی نے دیا۔ انھوں نے ہندوستان اور امریکہ کے درمیان ہوئے تجارتی معاہدہ کو ہندوستانی کسانوں کے لیے نہ صرف نقصاندہ قرار دیا بلکہ یہ الزام بھی عائد کیا کہ اس تعلق سے انھیں پارلیمنٹ میں بولنے نہیں دیا جا رہا۔
Published: undefined
کانگریس نے رکن پارلیمنٹ راہل گاندھی کی میڈیا سے ہوئی بات چیت پر مبنی ویڈیو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر شیئر کی ہے، جس میں وہ وزیر اعظم نریندر مودی اور ان کی قیادت والی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ’’نریندر مودی جی پر زبردست دباؤ ہے۔ ان کی امیج کا جو غبارہ ہے، جسے ہزاروں کروڑ روپے خرچ کر بنایا گیا تھا، وہ پھوٹ سکتا ہے۔‘‘ وہ مزید کہتے ہیں کہ ’’دراصل مسئلہ نروَنے جی کا بیان نہیں ہے، یہ سائیڈ شو ہے۔ بڑی بات یہ ہے کہ ہندوستان کے وزیر اعظم ’کمپرومائزڈ‘ ہو چکے ہیں۔ اس تجارتی معاہدہ سے نریندر مودی نے ہندوستان کے کسانوں کی محنت کو فروخت کر دیا ہے۔ اس لیے فروخت کیا ہے، کیونکہ وہ کمپرومائزڈ ہیں۔‘‘ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ ’’نریندر مودی نے صرف کسانوں کو ہی نہیں، پورے ملک کو فروخت کر دیا ہے۔ اس لیے مجھ پارلیمنٹ میں بولنے نہیں دے رہے ہیں۔‘‘
Published: undefined
میڈیا اہلکاروں سے بات چیت کے دوران راہل گاندھی نے اُن 2 دباؤ کا ذکر بھی کیا، جس کا سامنا مبینہ طور پر پی ایم مودی کر رہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ’’دباؤ 2 باتوں کا ہے۔ پہلا ’ایپسٹین فائلز‘ اور دوسرا ’اڈانی پر کیس‘۔ نریندر مودی کے یہ 2 دباؤ والے پوائنٹس ہیں اور ملک سمجھ لے کہ وزیر اعظم ’کمپرومائزڈ‘ ہیں۔‘‘ ایسپٹین فائلز کے بارے میں راہل گاندھی کا کہنا ہے کہ ’’ایپسٹین فائلز میں ابھی بہت مال ہے، جسے ریلیز نہیں کیا گیا۔ ایپسٹین فائلز میں جو ہے، اسے پورا ملک جاننا چاہتا ہے۔‘‘ اڈانی معاملہ پر انھوں نے کہا کہ ’’امریکہ میں اڈانی پر کیس ہے، لیکن امریکہ اڈانی کو ہدف نہیں بنا رہا ہے۔ یہ ہدف نریندر مودی کے فنانشیل اسٹرکچر پر ہے۔ جو اڈانی پر کیس ہے، وہ دراصل نریندر مودی پر کیس ہے۔‘‘
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined