’میں نے قومی سلامتی کا مسئلہ اٹھایا، مجھے بولنے دیا جائے‘، راہل گاندھی کے خطاب پر حزب اقتدار نے پھر کیا ہنگامہ

لوک سبھا میں راہل گاندھی کے خطاب کے دوران چین اور قومی سلامتی کے مسئلے پر ہنگامہ دوسرے دن بھی جاری۔ راہل نے کہا کہ وہ قائدِ حزبِ اختلاف ہیں اور قومی سلامتی پر بولنے کے لیے انہیں اجازت کی ضرورت نہیں

<div class="paragraphs"><p>تصویر سوشل میڈیا</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

نئی دہلی: لوک سبھا میں صدر جمہوریہ کے خطاب پر شکریہ کی تحریک کے دوران ہنگامہ آرائی دوسرے روز بھی جاری رہی۔ قائدِ حزبِ اختلاف راہل گاندھی نے ایک بار پھر چین اور سرحدی صورتحال کا معاملہ اٹھاتے ہوئے کہا کہ انہوں نے قومی سلامتی سے جڑا موضوع سامنے رکھا ہے اور انہیں اس پر بولنے دیا جانا چاہیے، مگر حکمراں جماعت کے اراکین کے مسلسل احتجاج کے باعث وہ اپنی بات مکمل نہیں کر پا رہے۔

دوپہر دو بجے کے بعد جب لوک سبھا کی کارروائی دوبارہ شروع ہوئی تو اپوزیشن اراکین ہاتھوں میں پلے کارڈز لیے حکومت کے خلاف نعرے بازی کرتے نظر آئے۔ اسی دوران راہل گاندھی نے چین کے معاملے پر بات شروع کی اور سابق آرمی چیف جنرل منوج مکند نرونے کے ایک اقتباس کا حوالہ دیا۔ راہل گاندھی نے کہا کہ انہوں نے قومی سلامتی کا مسئلہ اٹھایا ہے اور سوال کیا کہ انہیں اس پر بولنے سے کیوں روکا جا رہا ہے۔ ان کے اس بیان پر حکمراں نشستوں سے سخت اعتراضات سامنے آئے اور ایوان کا ماحول ایک بار پھر کشیدہ ہو گیا۔


راہل گاندھی نے اسپیکر سے مخاطب ہو کر کہا کہ وہ قائدِ حزبِ اختلاف ہیں اور انہیں اپنی بات رکھنے کے لیے کسی اجازت کی ضرورت نہیں ہونی چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ صدرِ جمہوریہ کے خطاب اور پیش کیے گئے بجٹ میں بین الاقوامی صورتحال، خاص طور پر چین اور امریکہ کے درمیان کشیدگی، ایک مرکزی موضوع کے طور پر سامنے آئی ہے، ایسے میں ہندوستان اور چین کے درمیان پیش آئے واقعات پر بات کرنا پارلیمانی بحث کا فطری حصہ ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ وہ قومی مفاد میں یہ معاملہ اٹھا رہے ہیں، نہ کہ کسی ذاتی یا سیاسی فائدے کے لیے۔

حکمراں جماعت کے اراکین نے راہل گاندھی کے دعوؤں پر اعتراض کرتے ہوئے شور شرابہ جاری رکھا، جس کے باعث ایوان میں کارروائی کو بار بار روکنا پڑا۔ چیئر کی جانب سے قواعد کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ غیر شائع شدہ مواد یا میگزین مضامین کا حوالہ ایوان میں پیش نہیں کیا جا سکتا مگر راہل گاندھی اس مؤقف پر قائم رہے کہ اگر معاملہ قومی سلامتی کا ہے تو اس پر بحث سے گریز نہیں کیا جانا چاہیے۔

شور شرابے کے دوران راہل گاندھی بار بار کہتے رہے کہ انہیں بولنے دیا جائے کیونکہ وہ ایک سنگین قومی مسئلہ اٹھا رہے ہیں۔ تاہم حزبِ اقتدار کے اراکین کی نعرے بازی اور اعتراضات کے سبب ایوان میں نظم قائم نہ ہو سکا۔ صورت حال اس وقت مزید بگڑ گئی جب راہل گاندھی نے مشرقی لداخ میں پیش آئے واقعات اور فوجیوں کی ہلاکتوں کا ذکر چھیڑا، جس پر حکمراں ارکان کی جانب سے دوبارہ مداخلت کی گئی۔ بالآخر، ہنگامے کے پیشِ نظر لوک سبھا کی کارروائی تین بجے تک کے لیے ملتوی کر دی گئی۔