سپریم کورٹ کے حکم کے بعد بھی گرائے جا رہے ہیں گھر، بلڈوزر کارروائی پر الٰہ آباد ہائی کورٹ کا اظہار ناراضگی

ہائی کورٹ نے کہا کہ ’’حکم کے باوجود توڑ پھوڑ جاری ہے، حالانکہ سپریم کورٹ نے اس اصول پر یہ کہتے ہوئے پابندی عائد کر دی تھی کہ عمارتوں کو سزا کے طور پر توڑنا اختیارات کی تقسیم کی کھلی خلاف ورزی ہے۔‘‘

<div class="paragraphs"><p>الٰہ آباد ہائی کورٹ، تصویر آئی اے این ایس</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

سپریم کورٹ کے فیصلے کے باوجود اترپردیش میں بلڈوزر کے ذریعہ توڑ پھوڑ جاری رہنے کے واقعات پر الٰہ آباد ہائی کورٹ نے سخت ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔ گھروں اور عمارتوں کو گرانے کی تعزیری کارروائی جاری رہنے پر الٰہ آباد ہائی کورٹ نے ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’’عدالت ایسے کئی معاملوں کا گواہ جہاں جرم ہونے کے فوراً بعد کسی رہائشی مکان کے مکینوں کو ’مسماری‘ کا نوٹس جاری کیا جاتا ہے، اس کے بعد قانونی ضرورتوں کو مکمل کرنے کا دکھاوا کر کے اسے مسمار کر دیا جاتا ہے۔‘‘ جسٹس اتل شری دھرن اور جسٹس سدھارتھ نندن کی ڈبل بنچ نے فیم الدین اور 2 دیگر کی عرضی پر سماعت کرتے ہوئے یہ تبصرہ کیا۔

واضح رہے کہ الٰہ آباد ہائی کورٹ نے منگل (3 فروری) کو ہمیرپور سے متعلق ایک معاملے میں عرضی گزاروں کے ذریعہ اپنی جائیدادوں کو بلڈوزر کارروائی سے بچانے کے لیے دائر عرضی پر سماعت کے دوران ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے تلخ تبصرہ کیا۔ عرضی گزاروں کی جانب سے عدالت سے اپنی جائیدادوں کی ممکنہ تباہی کو روکنے کے لیے عدالتی مداخلت کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ الٰہ آباد ہائی کورٹ نے معاملے میں سماعت کرتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے باوجود ریاست میں کئی گھروں کو منہدم کرنے کی تعزیری کارروائی جاری ہے۔


سپریم کورٹ کے فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے الٰہ آباد ہائی کورٹ نے کہا کہ ’’حکم کے باوجود توڑ پھوڑ جاری ہے، حالانکہ سپریم کورٹ نے اس اصول پر یہ کہتے ہوئے پابندی عائد کر دی تھی کہ عمارتوں کو سزا کے طور پر توڑنا اختیارات کی تقسیم کی کھلی خلاف ورزی ہے، کیونکہ سزا دینے کا اختیار صرف عدالت کے پاس ہے۔‘‘

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔