
جے رام رمیش / سوشل میڈیا
ریزرویشن مخالف تحریک کے درمیان کانگریس نے ایک بار پھر ذات پر مبنی مردم شماری کا معاملہ اٹھایا ہے۔ پارٹی کا الزام ہے کہ مودی حکومت ایمانداری سے ذات پر مبنی مردم شماری نہیں کرانا چاہتی ہے۔ پریس کانفرنس کے دوران کانگریس کے جنرل سکریٹری جے رام رمیش نے کہا کہ ’’20 اگست کو کانگریس کے قومی صدر اور راجیہ سبھا میں حزب اختلاف کے قائد ملکارجن کھڑگے اور لوک سبھا میں حزب اختلاف کے قائد راہل گاندھی نے وزیر اعظم نریندر مودی کو ذات پر مبنی مردم شماری کے سلسلے میں 21 صفحات پر مشتمل خط لکھا ہے۔ یہ کانگریس پارٹی کی جانب سے ذات پر مبنی مردم شماری کے معاملے پر وزیر اعظم کو لکھا گیا تیسرا خط ہے۔‘‘ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ’’اس سے قبل 16 اپریل 2023 کو کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے پہلا خط لکھا تھا۔ اس کے بعد انہوں نے 5 مئی 2025 کو دوسرا خط لکھا تھا، جس میں کچھ تعمیری مشورے بھی دیے گئے تھے۔ لیکن افسوس کی بات ہے کہ ان دونوں خطوط کا اب تک کوئی جواب نہیں ملا۔‘‘
کانگریس راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش کا کہنا ہے کہ ’’کانگریس پارٹی نے 2023 اور 2024 میں لوک سبھا انتخاب کے وقت ذات پر مبنی مردم شماری کا مطالبہ کیا تھا تو نریندر مودی نے کہا تھا کہ ذات پر مبنی مردم شماری کے متعلق کانگریس کا مطالبہ ’اربن نکسل‘ سوچ ہے۔ لیکن 30 اپریل 2025 کو مودی حکومت نے اعلان کر دیا کہ 2027 میں ذات پر مبنی مردم شماری ہوگی۔‘‘ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ’’اس کے کچھ دن بعد کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے وزیر اعظم مودی کو خط لکھ کر ذات پر مبنی مردم شماری کے حوالے سے کچھ مشورے دیے تھے۔ اسی وقت سے کانگریس مطالبہ کر رہی ہے کہ تمام سیاسی پارٹیوں کے ساتھ بات چیت کی جائے، ریاستی حکومتوں سے بات کر مشورے لیے جائیں اور سماجی انصاف کو مدنظر رکھتے ہوئے ذات پرمبنی مردم شماری پر غور کریں۔ لیکن مودی حکومت نے خاموشی اختیار کر رکھی ہے اور کسی سے بھی بات چیت نہیں کی گئی۔‘‘
جے رام رمیش نے الزام عائد کیا کہ ’’وزیر اعظم مودی اور حکومت ایمانداری سے ذات پر مبنی مردم شماری نہیں کرانا چاہتی ہے، کیونکہ جس طریقے سے اسے کرایا جا رہا ہے وہ دھوکہ ہے۔ مودی حکومت جان بوجھ کر ذات پر مبنی مردم شماری کو ٹھنڈے بستے میں ڈالنے کی کوشش کر رہی ہے۔ کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے اور اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے وزیر اعظم مودی کو خط لکھ کر اپنے اعتراضات درج کرائے اور مطالبات رکھے ہیں۔ خط میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ جس طریقے سے ذات پر مبنی مردم شماری کرائی جا رہی ہے، اسے منسوخ کیا جائے۔ بہار اور تلنگانہ میں جو طریقہ اپنایا گیا تھا اسے قومی سطح پر نافذ کیا جائے۔ اگر مودی حکومت سماجی انصاف میں یقین رکھتی ہے تو وہ ایمانداری سے ملک میں ذات پر مبنی مردم شماری کرائے۔‘‘
کانگریس کے جنرل سکریٹری جے رام رمیش کا کہنا ہے کہ ’’21 ستمبر 2021 کو مودی حکومت میں وزارت تعلیم کی جانب سے سپریم کورٹ میں حلف نامہ دیا گیا کہ اگر ذات پر مبنی مردم شماری کرانی ہے تو ذاتوں کی کی ایک فہرست پہلے سے تیار کرنی ہوگی۔ اب پتہ نہیں اس کے بارے میں وزیر اعظم اور وزیر داخلہ کو علم ہے یا نہیں۔ لیکن بہار میں ذات پر مبنی سروے کے لیے 215 ذاتوں کی فہرست بنائی گئی تھی اور ایسا ہی تلنگانہ کے ذات پر مبنی سروے میں ہوا۔‘‘ اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے وہ مزید کہتے ہیں کہ ’’ہمارے ملک میں تقریباً 4200 ذاتیں ہیں، ہر ریاست کے پاس ذاتوں کی فہرست ہوتی ہے، اسی کی بنیاد پر ریزرویشن دیا جاتا ہے۔ مرکزی حکومت کے پاس بھی اپنی فہرست ہوتی ہے۔ اگر حکومت کی نیت صاف ہے تو وزیر اعظم مودی کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے اور قائد حزب اختلاف راہل گاندھی کے خط کا نوٹس لیں گے۔ ذات پر مبنی سروے کے لیے جو سسٹم بہار و تلنگانہ میں اپنایا گیا، اسی کو قومی سطح پر نافذ کریں گے۔‘‘
جے رام رمیش کے مطابق کانگریس پارٹی کا ماننا ہے کہ جس طرح ملک میں ذات پر مبنی مردم شماری کرائی جا رہی ہے وہ عوام کے ساتھ دھوکہ ہے۔ مودی حکومت عوام کو دھوکہ دینے کے بجائے ملک میں صحیح طریقے سے ذات پر مبنی مردم شماری کرائے۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ ’’پہلے تو وزیر اعظم مودی کئی سالوں تک ذات پر مبنی مردم شماری نہیں کرانا چاہتے تھے، لیکن مردم شماری کے اعلان کے بعد سے وہ مسلسل یو-ٹرن مار رہے ہیں۔ جس طرح سے یہ مردم شماری کرائی جا رہی ہے اسے ہم قبول نہیں کریں گے یہ صرف ایک خانہ پری ہے۔ ہماری پارٹی کے لیڈران نے کئی خطوط لکھے ہیں جن کا جواب اب تک نہیں آیا ہے لیکن ہم اس معاملے کو نہیں چھوڑیں گے۔ ہمیں امید ہے کہ وزیر اعظم مودی ہمارے خطوط اور ان کی تجاویز کو سنجیدگی سے لیں گے۔‘‘
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔