’بی جے پی خواتین مخالف اور زانیوں کا ساتھ دینے والی پارٹی ہے‘، رام رحیم کی 21 روزہ پیرول پر کانگریس کا سخت ردعمل
پون کھیڑا نے ’ایکس‘ پر لکھا کہ ’’بی جے پی خواتین کے ریزرویشن اور خواتین کو بااختیار بنانے کے نام پر خواہ جتنا بھی مگرمچھ کے آنسو بہا لے، یہ سب سستے روزانہ چلنے والے ٹی وی سیریل جیسا ڈرامہ ہے۔‘‘

عصمت دری معاملے میں قصوروار ٹھرائے گئے ڈیرہ سچا سودا کے سربراہ گرمیت رام رحیم سنگھ کے پھر جیل سے باہر آنے پر کانگریس نے بی جے پی کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ کانگریس کے راجیہ سبھا رکن اور ترجمان پون کھیڑا نے کہا کہ بی جے پی خواتین کے ریزرویشن اور خواتین کو بااختیار بنانے کے نام پر خواہ جتنا بھی مگر مچھ کا آنسو بہا لے، یہ سب سستے ٹی وی سیریل جیسا ڈرامہ ہے۔
کانگریس لیڈر پون کھیڑا نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر لکھا کہ ’’بی جے پی خواتین کے ریزرویشن اور خواتین کو بااختیار بنانے کے نام پر خواہ جتنا بھی مگرمچھ کے آنسو بہا لے، یہ سب سستے روزانہ چلنے والے ٹی وی سیریل جیسا ڈرامہ ہے۔ ہم اچھی طرح جانتے ہیں کہ یہ پارٹی عصمت دری کرنے والوں کا ساتھ دینے والی اور خواتین مخالف ہے۔‘‘ وہ مزید لکھتے ہیں کہ ’’ڈیرہ سچا سودا کا سربراہ گرمیت رام رحیم سنگھ، جو عصمت دری کے معاملے میں قصوروار ٹھہرایا جا چکا ہے اور 20 سال کی سزا کاٹ رہا ہے، کو 17ویں بار پیرول دی گئی ہے۔ 2017 میں گرفتاری کے بعد سے وہ پہلے ہی 450 سے زائد دن جیل سے باہر گزار چکا ہے۔‘‘ اپنی پوسٹ کے آخر میں پون کھیڑا لکھتے ہیں کہ ’’اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کی بیٹیاں محفوظ رہیں تو اس ملک کو بی جے پی سے آزاد کریں۔‘‘
واضح رہے کہ اگست 2017 میں قصوروار ٹھہرائے جانے کے بعد یہ 17ویں بار ہے جب رام رحیم جیل سے باہر آیا ہے۔ رواں سال وہ تیسری بار جیل سے باہر آیا۔ اس بار رام رحیم 21 روز کی فرلو پر روہتک کی سناریا جیل سے باہر آیا ہے۔ فرلو کے دوران وہ سرسا میں واقع اپنے ڈیرہ ہیڈکوارٹر میں رہے گا۔ عصمت دری کے معاملے میں قصوروار ٹھہرائے جانے کے بعد اسے غیرمعمولی طور پر کئی بار فرلو اور پیرول مل چکی ہے۔
قابل ذکر ہے کہ رام رحیم کو مارچ میں پنجاب-ہریانہ ہائی کورٹ نے 2002 میں ایک صحافی کے قتل کے معاملے میں بری کر دیا تھا۔ اس معاملے میں خصوصی سی بی آئی عدالت نے اسے قصوروار ٹھہراتے ہوئے عمر قید کی سزا سنائی تھی۔ اس کے بعد متاثرہ کے اہل خانہ نے سپریم کا رخ کیا تھا۔ 10 اگست کو سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے ہریانہ حکومت کے رویہ پر اہم تبصرہ کیا تھا۔ رام رحیم کے وکیل نے بتایا تھا کہ ہریانہ حکومت نے ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف کوئی اپیل داخل نہیں کی ہے۔ اس بار چیف جسٹس سوریہ کانت نے کہا تھا کہ ہم جانتے ہیں کہ شاید ریاستی حکومت اپیل میں نہیں آئے گی۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
