قتل معاملہ میں رام رحیم کی بریت کے خلاف سپریم کورٹ میں عرضی، نوٹس جاری
سپریم کورٹ نے صحافی رام چندر چھترپتی قتل معاملہ میں گرمیت رام رحیم کی بریت کے خلاف دائر عرضی پر رام رحیم اور سی بی آئی کو نوٹس جاری کیا ہے۔ عدالت عظمیٰ اس معاملے کی نومبر میں سماعت کرے گی

نئی دہلی: سپریم کورٹ نے صحافی رام چندر چھترپتی قتل معاملے میں ڈیرہ سچا سودا کے سربراہ گرمیت رام رحیم کو پنجاب اور ہریانہ ہائی کورٹ کی جانب سے بری کیے جانے کے خلاف دائر عرضی پر پیر کو نوٹس جاری کیا۔ عدالت نے گرمیت رام رحیم اور مرکزی تفتیشی بیورو (سی بی آئی) سے جواب طلب کیا ہے۔
جسٹس جوئے مالیہ باگچی کی سربراہی والی بنچ نے معاملے کی سماعت 16 نومبر سے شروع ہونے والے ہفتے میں کرنے کی بات کہی۔ سپریم کورٹ نے یہ بھی واضح کیا کہ ریاستی حکومت نے ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل دائر نہیں کی ہے۔ رام چندر چھترپتی کے بیٹے نے ہائی کورٹ کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا ہے۔
یہ معاملہ 2002 میں صحافی رام چندر چھترپتی کے قتل سے متعلق ہے۔ مارچ 2026 میں پنجاب-ہریانہ ہائی کورٹ نے اس معاملے میں گرمیت رام رحیم کو بری کر دیا تھا۔ ہائی کورٹ نے کہا تھا کہ اسے قصور ثابت کرنے کے لیے کافی ثبوت موجود نہیں ہیں اور اسی بنیاد پر خصوصی سی بی آئی عدالت کی جانب سے سنائی گئی عمر قید کی سزا کو کالعدم قرار دے دیا تھا۔ تاہم، عدالت نے قتل کے معاملے میں دیگر 3 مجرموں کی سزائیں برقرار رکھی تھیں۔
رام چندر چھترپتی نے اپنے اخبار کے ذریعے ڈیرہ سچا سودا سے متعلق کئی حساس معاملات کو اجاگر کیا تھا۔ اکتوبر 2002 میں انہیں ان کے گھر کے باہر موٹر سائیکل سوار حملہ آوروں نے گولی مار دی تھی۔ شدید زخمی حالت میں انہیں اسپتال میں داخل کرایا گیا، جہاں علاج کے دوران 21 نومبر 2002 کو ان کی موت ہو گئی۔
اس قتل معاملے کی تفتیش بعد میں سی بی آئی کے سپرد کی گئی تھی۔ پنچکولہ کی خصوصی سی بی آئی عدالت نے جنوری 2019 میں گرمیت رام رحیم اور 3 دیگر ملزمان—کُلدیپ سنگھ، نرمل سنگھ اور کرشن لال کو قتل کا مجرم قرار دیتے ہوئے عمر قید کی سزا سنائی تھی۔
خصوصی سی بی آئی عدالت کے فیصلے کو گرمیت رام رحیم اور دیگر شریک ملزمان نے پنجاب اور ہریانہ ہائی کورٹ میں چیلنج کیا تھا۔ مارچ 2026 میں ہائی کورٹ نے گرمیت رام رحیم کو اس معاملے میں بری کر دیا، جبکہ دیگر تینوں کی عمر قید کی سزائیں برقرار رکھیں۔ اب چھترپتی کے بیٹے کی جانب سے دائر اپیل پر سپریم کورٹ نے رام رحیم اور سی بی آئی سے جواب طلب کیا ہے۔
گرمیت رام رحیم 2017 میں دو سادھویوں کے ساتھ عصمت دری کے معاملے میں قصوروار قرار دیے جانے کے بعد سے جیل میں ہے۔ اس کے بعد وہ کئی مرتبہ پیرول اور فرلو پر جیل سے باہر آ چکا ہے۔ جیل سے رہائی کے دوران وہ اتر پردیش کے باغپت میں واقع ڈیرہ سچا سودا کے برناوا آشرم میں قیام کرتا رہا ہے۔
سِرسا، ہریانہ میں مرکزی دفتر رکھنے والے ڈیرہ سچا سودا کے پیروکار شمالی ہندوستان کی کئی ریاستوں، خصوصاً ہریانہ، پنجاب اور راجستھان میں بڑی تعداد میں موجود ہیں۔ رام رحیم کی پیرول اور فرلو پر رہائی کے معاملے پر ماضی میں بھی سیاسی اور سماجی سطح پر سوالات اٹھتے رہے ہیں۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
