’ذات پر مبنی مردم شماری میں تلنگانہ اور بہار والا طریقہ اپنائیں‘، کھڑگے اور راہل نے پی ایم مودی کو لکھا خط
ملکارجن کھڑگے اور راہل گاندھی نے پی ایم مودی کے نام لکھے خط میں کہا ہے کہ ’’حکومت نے مردم شماری میں ذات کی جانکاری درج کرنے کے لیے اوپن-انڈیڈ سوال کا طریقہ منتخب کیا ہے، جو گمراہ کن ہے۔‘‘

’’ہندوستان میں سماجی انصاف کی پالیسیاں درست اعداد و شمار کے بغیر پوری نہیں ہو سکتیں۔ الگ الگ ذاتوں کی تعداد اور ان کی سماجی و معاشی حالت کا صحیح اندازہ تبھی ممکن ہے جب ذاتوں کا شمار درست طریقے سے ہو۔ لیکن حکومت نے مردم شماری میں ذات کی جانکاری درج کرنے کے لیے اوپن-انڈیڈ سوال کا طریقہ منتخب کیا ہے، جو گمراہ کن ہے۔‘‘ یہ باتیں راجیہ سبھا میں حزب اختلاف کے قائد ملکارجن کھڑگے اور لوک سبھا میں حزب اختلاف کے قائد راہل گاندھی نے وزیر اعظم نریندر مودی کے نام تحریر کردہ مشترکہ خط میں لکھی ہیں۔ 20 اگست کو لکھا گیا یہ خط آج کانگریس نے اپنے آفیشیل ’ایکس‘ ہینڈل پر شیئر کیا ہے۔
اس خط میں ملکارجن کھڑگے اور راہل گاندھی نے پی ایم مودی سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ذات پر مبنی مردم شماری میں وہی طریقہ اختیار کریں جو تلنگانہ اور بہار میں ہوئے ذات پر مبنی سروے میں نافذ کیا گیا تھا۔ وہ لکھتے ہیں کہ ’’ہندوستان میں ایک ہی ذات الگ الگ علاقوں میں الگ الگ ناموں، ذیلی ذاتوں اور زبانوں سے جانی جاتی ہے۔ ایسے میں اگر ایک ہی ذات مردم شماری میں الگ الگ ناموں سے درج ہوں گے تو ایک ذات ہزاروں ناموں میں تقسیم ہو جائے گی۔ ملک میں لاکھوں ذاتوں کے نام نکلیں گے اور ذات پر مبنی مردم شماری سے حاصل پوری تعداد ہی غیر مفید ہو جائے گی۔‘‘
اس خط میں دونوں قائدین حزب اختلاف آگے لکھتے ہیں کہ ’’جب کسی طبقہ کی صحیح تعداد ہی درج نہیں ہوگی تو اس کی حالت کا غلط اندازہ سامنے آئے گا۔ اس کا نقصان پسماندہ، انتہائی پسماندہ اور دیگر محروم طبقات کو ہوگا۔ تعلیم، روزگار، منصوبوں اور سماجی انصاف سے جڑے فیصلے بھی متاثر ہوں گے۔‘‘ دونوں نے فکر ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ’’سب سے اہم بات، اس سے یہ بھی پتہ نہیں چلے گا کہ ہندوستان میں او بی سی کی آبادی کتنی ہے، کیونکہ اس مردم شماری میں ’پسماندہ طبقہ‘ لفظ تک شامل نہیں ہے۔‘‘
ذات پر مبنی مردم شماری میں اختیار کیے گئے موجودہ طریقے سے سامنے آنے والے مسائل کا حل بھی کھڑگے اور راہل نے اپنے خط میں پیش کیا ہے۔ انھوں نے لکھا ہے کہ ’’اس (مسئلہ) کا آسان حل پہلے سے موجود ہے۔ ذاتوں کی ایک ڈراپ ڈاؤن فہرست بنائی جائے۔ درج فہرست ذات اور درج فہرست قبائل کو شمار کرنے میں یہی طریقہ اختیار کیا جاتا ہے۔ یہ فہرست موجودہ سرکاری رپورٹس، مثلاً سماجی و معاشی پسماندہ طبقہ کی نئی فہرست اور ہندوستانی اینتھروپولوجی سروے کی بنیاد پر آسانی سے بنائی جا سکتی ہے۔‘‘ ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ ’’تلنگانہ اور بہار کے ذات پر مبنی سروے میں بھی یہی طریقہ اختیار کیا گیا تھا۔‘‘
خط کے آخر میں قائدین حزب اختلاف نے لکھا ہے کہ ’’اس طریقے سے کی جا رہی ذات پر مبنی مردم شماری کو ہم قبول نہیں کرتے۔ حکومت موجودہ سوالنامہ رَد کر سیاسی پارٹیوں، ماہرین اور عوام سے بات چیت کر نیا سوالنامہ تیار کرے، تاکہ ہر ذات اور طبقہ کی صحیح تعداد سامنے آئے اور ذات پر مبنی مردم شماری پوری طرح درست، بامعنی اور مفید ہو۔‘‘ اس خط کے ساتھ دونوں لیڈران نے تلنگانہ اور بہار میں ہوئے ذات پر مبنی سروے کی ’فہرست ذات‘ بھی منسلک کی ہیں۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
