غلط گنتی کی مہم: نئی مردم شماری پر سوالات کیوں اٹھ رہے ہیں؟...جی این دیوی
2026-27 کی مردم شماری کے طریقۂ کار، ذات، مذہب، زبان اور خانہ بدوش و ڈی نوٹیفائیڈ برادریوں کی شناخت سے متعلق سوالات پر سنجیدہ خدشات سامنے آ رہے ہیں۔ کیا یہ گنتی ہندوستان کی حقیقی تصویر پیش کرے گی؟

اب سے تقریباً نو ماہ بعد طویل عرصے سے زیرِ التوا مردم شماری کا ملک گیر عمل مکمل ہو چکا ہوگا۔ یکم اکتوبر 2026 سے یہ مہم مغربی ہمالیائی علاقوں، جموں و کشمیر، لداخ، ہماچل پردیش اور اتراکھنڈ، سے شروع ہوگی اور فروری 2027 تک ملک کے باقی حصوں کو بھی اس میں شامل کر لیا جائے گا۔ اس مردم شماری کی مدت ہی نہیں، بلکہ اس کا پورا طریقۂ کار اور اس سے حاصل ہونے والے ممکنہ نتائج بھی کئی سنجیدہ سوالات پیدا کرتے ہیں۔
سب سے پہلے اس کی مدت پر غور کرنا چاہیے۔ اقوام متحدہ کی سفارش ہے کہ مردم شماری ہر دہائی کے صفر والے سال، مثلاً 2020، میں مکمل کی جائے اور اس کے اعداد و شمار اگلے سال، یعنی 2021، میں دستیاب ہوں، تاکہ مختلف ملکوں اور ادوار کے اعداد و شمار کا باہمی تقابل آسان ہو سکے۔ ہندوستان میں 1871 سے 2011 تک مردم شماری باقاعدگی سے دہائی کے پہلے سال میں ہوتی رہی ہے۔ کووڈ-19 وبا کے باعث 2021 کی مردم شماری ملتوی ہوئی تو اصولی طور پر دو راستے موجود تھے: یا تو اسے کچھ تاخیر کے ساتھ 2023 تک مکمل کر کے 2021 کی مردم شماری ہی تصور کیا جاتا، یا پھر اگلی مردم شماری 2031 تک ملتوی کی جاتی۔ اس کے بجائے 2026 میں مردم شماری کرانے اور یکم مارچ 2027 کو اس کی حوالہ تاریخ مقرر کرنے کا فیصلہ اس قائم شدہ روایت سے انحراف ہے جس کے پیچھے مضبوط شماریاتی منطق موجود تھی۔
حکومت نے اس تبدیلی کی کوئی واضح وجہ نہیں بتائی ہے۔ تاہم اس کا ایک ممکنہ سبب سیاسی طور پر اہم ہے۔ قانون کے تحت پارلیمانی حلقوں کی ازسرنو حد بندی اور لوک سبھا میں نشستوں کی تعداد میں ممکنہ تبدیلی مردم شماری کے اعداد و شمار سے جڑی ہوئی ہے۔ اس لیے نئی مردم شماری محض آبادی گننے کی مشق نہیں، بلکہ ملک کے مستقبل کے سیاسی نقشہ پر بھی اثر انداز ہو سکتی ہے۔
آئین کی ساتویں فہرست میں وفاقی فہرست کی دفعہ 69 کے تحت مردم شماری مرکزی حکومت کی ذمہ داری ہے۔ مردم شماری ایکٹ 1948 بھی اس عمل کے لیے قانونی بنیاد فراہم کرتا ہے۔ اگرچہ عملی سطح پر ریاستی حکومتیں اس پورے عمل میں انتظامی تعاون کرتی ہیں، لیکن مردم شماری کے بنیادی فیصلے مرکز کے دائرۂ اختیار میں آتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس پورے عمل کی شفافیت، سوالنامہ کی ساخت اور اعداد و شمار کے معیار پر پہلے ہی سنجیدہ بحث ضروری ہے۔
سب سے زیادہ پیچیدہ مسئلہ ذات کی گنتی کا ہے۔ حکومت نے مردم شماری میں ذات سے متعلق اعداد و شمار شامل کرنے کا اعلان کیا ہے، لیکن اگر سوال کا ڈھانچہ مناسب نہ ہو تو یہ پورا عمل اپنے مقصد کو پورا کرنے میں ناکام ہو سکتا ہے۔ ہندوستان میں آخری مکمل ذات پر مبنی مردم شماری 1931 میں ہوئی تھی۔ اب اگر ذات کی شناخت کے لیے پہلے ایس سی، ایس ٹی یا ’دیگر‘ جیسی وسیع کیٹیگری منتخب کرنے اور پھر اپنی ذات کا نام درج کرنے کا طریقہ اختیار کیا جاتا ہے تو ہزاروں مختلف نام سامنے آ سکتے ہیں۔ ان ناموں کی یکساں اور سائنسی درجہ بندی ایک بڑا مسئلہ بن سکتی ہے۔
اس کے نتیجے میں ایسا ڈیٹا تیار ہونے کا خدشہ ہے جس میں ذاتوں کے نام تو بے شمار ہوں، لیکن ان کا قابلِ اعتماد شماریاتی تجزیہ مشکل ہو جائے۔ ذات کی گنتی کا مقصد محض نام جمع کرنا نہیں ہونا چاہیے، بلکہ ایسا قابلِ استعمال ڈیٹا تیار کرنا ہونا چاہیے جو سماجی، تعلیمی اور معاشی پالیسی سازی میں مدد دے سکے۔
یہ مسئلہ ڈی نوٹیفائیڈ (مجرم قبائل کی فہرست سے آزاد کی گئی) اور خانہ بدوش برادریوں کے معاملے میں مزید سنگین ہو جاتا ہے۔ برطانوی حکومت نے 1871 کے ’کرمنل ٹرائبس ایکٹ‘ کے تحت متعدد برادریوں کو ’موروثی مجرم‘ قرار دے دیا تھا۔ انہیں نگرانی اور پابندیوں کے تحت رکھا گیا اور ان کی نقل و حرکت تک محدود کر دی گئی۔ آزادی کے بعد یہ نوآبادیاتی قانون ختم ہوا اور ان برادریوں کو آزاد قرار دیا گیا، لیکن قانونی داغ ختم ہونے کے باوجود سماجی اور ادارہ جاتی تعصبات پوری طرح ختم نہیں ہوئے۔
آج بھی ان برادریوں کی آبادی، تنوع اور سماجی صورت حال کے بارے میں قابلِ اعتماد اور تازہ اعداد و شمار کی کمی ہے۔ اگر نئی مردم شماری میں ان کی الگ اور واضح شناخت کے لیے مناسب سوال شامل نہ کیا گیا تو ایک تاریخی طور پر نظرانداز شدہ آبادی ایک بار پھر اعداد و شمار کے حاشیے پر چلی جائے گی۔
ذات کے دو مرحلوں والے سوال کے ذریعے ان سے پہلے ایس سی، ایس ٹی یا ’دیگر‘ میں سے ایک انتخاب کرایا جائے اور پھر نٹ، مداری، بنجارہ یا کسی دوسری شناخت کا نام درج کرنے کو کہا جائے تو اس سے ان برادریوں کی حقیقی آبادی اور اندرونی تنوع کی مکمل تصویر سامنے آنا مشکل ہوگا۔ اگر 2011 کی مردم شماری کے مقابلے میں سوالات کی تعداد بڑھا کر 40 کی جا سکتی ہے تو ایک ایسا سوال شامل کرنا بھی ممکن تھا جس کے ذریعے ڈی نوٹیفائیڈ برادریاں اور خانہ بدوش برادریوں کی شناخت زیادہ درست انداز میں درج کی جا سکتی۔
مذہب سے متعلق سوال بھی کم پیچیدہ نہیں ہے۔ ہندوستان کی سماجی حقیقت کئی سطحوں پر ایک دوسرے میں گھلی ہوئی ہے۔ خاص طور پر بعض قبائلی اور خانہ بدوش برادریوں میں ایک ہی خاندان کے افراد مختلف مذہبی شناختیں اختیار کر سکتے ہیں یا ایک سے زیادہ مذہبی روایات سے وابستہ ہو سکتے ہیں۔ کال بیلیا، مداری، گروڑی، بہروپیے اور گڈیا لوہار جیسی بعض برادریوں میں ایسی مثالیں ملتی ہیں۔ سرحدی علاقوں اور شمال مشرق کی بعض برادریوں میں بھی مذہبی شناخت ہمیشہ ایک واضح خانے میں فٹ نہیں بیٹھتی۔
اگر مردم شماری کا سوالنامہ ہر شخص کو صرف ایک مذہب منتخب کرنے پر مجبور کرتا ہے تو ایسی پیچیدہ سماجی حقیقت لازماً سادہ خانوں میں تبدیل ہو جائے گی۔ نتیجہ یہ ہوگا کہ مردم شماری ہندوستانی معاشرے کی حقیقی مذہبی گوناگونی کے بجائے انتظامی طور پر بنائے گئے زمروں کی تصویر پیش کرے گی۔
قبائلی معاشروں کا مسئلہ اس سے بھی آگے ہے۔ بہت سی قبائلی برادریوں کی مذہبی اور ثقافتی روایات نہ کسی ایک مذہبی کتاب پر مبنی ہیں اور نہ ہی انہیں روایتی مذہبی خانوں میں آسانی سے تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ اس کے باوجود مردم شماری میں انہیں عموماً بڑے مذہبی زمروں میں شامل کر دیا جاتا ہے۔ اگر کسی فرد یا برادری کی اپنی مخصوص مذہبی شناخت موجود ہے تو مردم شماری کا کام اسے کسی پہلے سے موجود خانے میں زبردستی فٹ کرنا نہیں، بلکہ اس شناخت کو درست طور پر ریکارڈ کرنا ہونا چاہیے۔
زبان کے معاملے میں بھی صورت حال تشویش ناک ہے۔ 2011 کی مردم شماری میں شہریوں کی جانب سے درج کرائی گئی ہزاروں مادری زبانوں کو بعد میں محدود تعداد میں زبانوں کے زمروں میں سمیٹ دیا گیا۔ کسی بولی یا زبان کو الگ حیثیت دینے کے لیے بولنے والوں کی ایک مخصوص کم از کم تعداد مقرر کرنا بظاہر انتظامی طور پر آسان طریقہ ہے، لیکن زبان محض بولنے والوں کی تعداد کا نام نہیں۔ زبان شناخت، ثقافت، تاریخ اور اجتماعی حافظے کا بھی حصہ ہے۔
بھوجپوری اس کی نمایاں مثال ہے۔ کروڑوں افراد کے ذریعے بولی جانے والی بھوجپوری کو ہندی کے وسیع تر زمرے میں شامل کر دینا اس زبان کی اپنی لسانی شناخت اور ثقافتی اہمیت کو کم کر دیتا ہے۔ اسی طرح ہندوستان کی متعدد دوسری زبانوں اور بولیوں کو کسی بڑی زبان کے ذیلی گروپ کے طور پر دکھانے سے ملک کی حقیقی لسانی گوناگونی چھپ جاتی ہے۔
مردم شماری کا مقصد یہ نہیں ہونا چاہیے کہ ملک کی پیچیدہ سماجی حقیقت کو سہولت کے لیے چند بڑے خانوں میں تقسیم کر دیا جائے۔ اس کا بنیادی مقصد ہندوستان کے لوگوں کی زیادہ سے زیادہ درست، باریک اور قابلِ اعتماد تصویر پیش کرنا ہونا چاہیے۔
یہی سوال نئے سوالنامے کے بعض دیگر حصوں پر بھی اٹھتا ہے۔ بینک اکاؤنٹ، آدھار اور ٹیلی فون نمبر سے متعلق معلومات کا استعمال کس مقصد کے لیے ہوگا، جبکہ حکومت کے پاس ان میں سے بڑی مقدار میں ڈیٹا پہلے ہی موجود ہے؟ اسی طرح شوہر یا بیوی کا نام درج کرنے کی ضرورت اور اس سے پیدا ہونے والے ممکنہ ڈیٹا کے استعمال پر بھی وضاحت ضروری ہے۔ اگر ایسے اعداد و شمار کسی مخصوص سماجی رجحان، مثلاً بین المذاہب شادیوں، کے تجزیے کے لیے استعمال ہونے ہیں تو شہریوں کو اس کے مقصد اور تحفظات کے بارے میں واضح معلومات ملنی چاہئیں۔ اور کیا ہوگا اگر یہ ڈیٹا مذہبی اقلیتوں کے خلاف نفرت انگیز بیانیہ چلانے والے فرقہ پرستوں کے ہاتھ لگ جائے؟
(مضمون نگار جی این دیوی معروف ثقافتی مفکر ہیں)
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
