قومی خبریں

سوشل میڈیا کا بڑھتا غلط استعمال،والدین کی عدم توجہی،کم عمر لڑکیاں سنگین مسائل کا شکار

سیل فون کے استعمال پر والدین کی کڑی نگرانی لازمی ہونی چاہیے تاکہ بچے سوشل میڈیا پر موجود فحش مواد یا غلط صحبت سے بچ سکیں۔

<div class="paragraphs"><p>فائل تصویر آئی اے این ایس</p></div>

فائل تصویر آئی اے این ایس

 

تلنگانہ کے بھدراچلم اور کوتہ گوڑم کے علاقوں سے حال ہی میں ایسے افسوسناک واقعات سامنے آئے ہیں جہاں محض 15 سال کی عمر میں لڑکیاں حاملہ ہو گئیں۔ سوشل میڈیا کے ذریعہ کم عمری میں دوستی اور پھر جسمانی کشش کے جال میں پھنس کر یہ لڑکیوں نے اپنی زندگی تباہ کردی۔ بھدراچلم میں دو لڑکیوں کو کیئر ہوم منتقل کیا گیا جبکہ کوتہ گوڑم میں نویں جماعت کی ایک طالبہ نے حمل ٹھہرنے اور والدین کی ڈانٹ کے بعد خودکشی کی کوشش کی۔

Published: undefined

ماہرین اور چائلڈ پروٹیکشن کمیٹی کے مطابق والدین کا حد سے زیادہ بھروسہ یا ضرورت سے زیادہ لاڈ پیار بعض اوقات بچوں کی راہ بھٹکنے کا سبب بن جاتا ہے۔ ماہرین کے مطابق والدین کو اہم باتوں پر توجہ دینی چاہیے۔ میاں بیوی کے درمیان جھگڑے یا غیر ضروری بحث بچوں کے سامنے کرنے سے گریز کریں کیونکہ یہ ان کی ذہنی نشوونما پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ بچوں کو ہر مانگی ہوئی چیز فراہم کر دینا ہی کافی نہیں بلکہ ان کی سرگرمیوں پر نظر رکھنا اور ان کے ساتھ دوستانہ تعلق قائم کرنا ضروری ہے۔

Published: undefined

سیل فون کے استعمال پر والدین کی کڑی نگرانی لازمی ہونی چاہیے تاکہ بچے سوشل میڈیا پر موجود فحش مواد یا غلط صحبت سے بچ سکیں۔ 12 سال کی عمر کے بعد بچوں میں جسمانی اور نفسیاتی تبدیلیاں آتی ہیں۔ اس مرحلہ پر والدین کو ان کا ہم راز بننا چاہیے۔ بچوں کو اس بات کی آزادی دیں کہ وہ اسکول کے معاملات یا ذاتی مسائل آپ سے شیئر کر سکیں۔ انہیں صحیح اور غلط کے درمیان فرق سمجھائیں اور مستقبل کے سلسلہ میں ان میں امید پیدا کریں۔ اگر بچہ کوئی غلطی کرے تو فوراً مارنے پیٹنے یا سخت سست کہنے کے بجائے پیار سے سمجھائیں، ورنہ وہ باغی ہو کر مزید غلط راستے اختیار کر سکتا ہے۔کم عمری میں بچے نئے چیلنجس کا سامنا کرتے ہیں۔ اگر والدین ان کی صلاحیتوں کو نکھارنے میں مدد نہیں کرتے تو وہ دباؤ کا شکار ہو جاتے ہیں۔ موجودہ دور میں سوشل میڈیا ایک ایسا ہتھیار ہے جو ذرا سی لاپرواہی سے معصوم ذہنوں کو تباہ کر سکتا ہے۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined