میانمار کی فوج نواز جماعت یو ایس ڈی پی کا قومی انتخابات میں بھاری کامیابی کا دعویٰ
مقامی تجزیہ کاروں اور بین الاقوامی مبصرین نےانتخابات کے اس عمل کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور اسے جمہوری لبادے میں فوجی حکومت کے تسلسل سے تعبیر کیا جا رہا ہے۔

میانمار کی فوج سے منسلک یونین سالیڈیریٹی اینڈ ڈیولپمنٹ پارٹی (یو ایس ڈی پی) نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے ملک میں 2021 میں فوجی حکومت کے اقتدار سنبھالنے کے بعد ہونے والے پہلے قومی انتخابات میں شاندار کامیابی حاصل کی ہے۔ تاہم متعدد مبصرین ان انتخابات کو محض ایک دکھاوا قرار دے رہے ہیں، کیونکہ میانمار کی کئی اہم سیاسی جماعتوں نے ان کا بائیکاٹ کیا تھا۔
یو ایس ڈی پی کے اس دعوے کے پیچھے مرحلہ وار ووٹنگ کا وہ عمل ہے جسے مقامی تجزیہ کاروں اور بین الاقوامی مبصرین نے سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور اسے جمہوری لبادے میں فوجی حکومت کے تسلسل سے تعبیر کیا جا رہا ہے۔
اتوار کو ووٹنگ کے آخری مرحلے کا اختتام ہوا، جبکہ سرکاری نتائج اس ہفتے کے آخر میں متوقع ہیں۔ تاہم پارٹی رہنماؤں کی جانب سے پیش کیے گئے ابتدائی اعداد و شمار کے مطابق یو ایس ڈی پی نے پارلیمان کے دونوں ایوانوں میں بھاری اکثریت حاصل کی ہے۔
یو ایس ڈی پی کا دعویٰ ہے کہ اس نے ایڈوانس ووٹنگ کے ذریعے ایوانِ بالا کی تمام 167 نشستیں جیت لی ہیں۔ مبصرین کے مطابق یہ انتخابات صرف مخصوص علاقوں تک محدود تھے، یعنی وہ شہر اور قصبے جو مکمل طور پر فوجی حکومت کے کنٹرول میں ہیں۔
گزشتہ سال کے آغاز میں جب فوجی حکومت نے انتخابات کرانے کے منصوبے کا اعلان کیا تو اس کے بعد اس نے منظم طریقے سے بڑی سیاسی جماعتوں، جن میں نیشنل لیگ فار ڈیموکریسی (این ایل ڈی) اور کئی نسلی سیاسی گروہ شامل ہیں، کی رجسٹریشن منسوخ کر دی۔ میانمار کے فوجی سربراہ من آنگ ہلائنگ نے ملک کے عام انتخابات پر بین الاقوامی تنقید کو مسترد کر دیا ہے۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔