
اکھلیش یادو / آئی اے این ایس
اترپردیش میں ان دنوں ووٹر لسٹ کی خصوصی گہری نظر ثانی (ایس آئی آر) عمل کے متعلق الیکشن کمیشن اور بی جے پی پر سنگین الزامات عائد کیے جا رہے ہیں۔ ڈمپل یادو کے بعد اب اکھلیش یادو نے بھی الیکشن کمیشن کو ہدف تنقید بنایا ہے۔ انہوں نے واضح طور پر کہا کہ الیکشن کمیشن اور بی جے پی دونوں ملے ہوئے ہیں، یہ دونوں ہی مل کر لوگوں کے نام کاٹنے کی تیاری کر رہے ہیں۔ ساتھ ہی اکھلیش یادو نے سپریم کورٹ سے اس معاملے پر فوری نوٹس لینے کی بھی اپیل کی ہے۔
Published: undefined
سماجوادی پارٹی کے سربراہ اور اترپردیش کے سابق وزیر اعلیٰ اکھلیش یادو نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک ویڈیو پوسٹ کی۔ انہوں نے لکھا کہ ’’معزز سپریم کورٹ سے ہماری اپیل ہے کہ وہ اس بے حد سنگین معاملے پر فوری نوٹس لے، کیونکہ اب کسی اور ادارہ سے انصاف کی امید نہیں بچی ہے۔ بی جے پی اور اس کے اتحادی، مجرموں کی طرح پیش آ رہے ہیں۔ وہ اتر پردیش کے بی ایل او کو ہراساں کر کے، ان پر دباؤ ڈال کر اور دھمکا کر پی ڈی اے سماج، بالخصوص اقلیتی برادری کے ووٹ فرضی دستاویزات کی بنیاد پر کاٹنے کی سازش کر رہے ہیں۔‘‘
Published: undefined
پوسٹ میں اکھلیش یادو مزید لکھا کہ ’’ایس آئی آر میں فارم-7 کے غلط استعمال کو فوری طور پر روکا جائے اور ہر ووٹر کے ووٹ دینے کے آئینی حق کی حفاظت کی جائے۔ بی ایل او سے زبردستی کر رہے مجرمان کے خلاف ایف آئی آر درج کی جائے اور فاسٹ ٹریک سماعت ہو۔ جب تک کوئی شفاف نظام نہ بن جائے تب تک کے لیے فارم-7 کے استعمال پر پابندی عائد کی جائے اور اب تک جو فارم-7 جمع ہوئے ہیں ان سب کو منسوخ کر دیا جائے۔ دعویٰ اور اعتراض کی سرگرمیوں پر فوری روک لگائی جائے۔‘‘
Published: undefined
سابق وزیر اعلیٰ نے پوسٹ میں یہ بھی لکھا کہ ’’ملک کے لوگوں کے ووٹ کاٹنے کی سازش کے پیچھے کون سی ملک مخالف طاقتیں ہیں اس کی عدالتی تحقیقات ہو۔ ملک کے ایماندار صحافی اور افسر سامنے آئیں اور ملک مخالف طاقتوں سے لڑنے میں ہمارا ساتھ دیں۔ پی ڈی اے کے محافظوں سے اپیل ہے کہ وہ ہر جائز ووٹ بنانے اور بچانے کے کام میں پوری مستعدی سے لگے رہیں۔ بھاجپائیوں کی دھاندلی کو ان کی ہونے والی ہار کی مایوسی سمجھیں اور ان کی دھوکہ دہی کے ثبوت جمع کر کے ان کے خلاف ایف آئی آر کی تیاری کریں۔ سچ تو یہ ہے کہ جیسے جیسے پی ڈی اے خاندان بڑھ رہا ہے، ویسے ویسے بھاجپائی ڈر رہا ہے۔‘‘
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined