اترپردیش: 2 سال میں 1.08 لاکھ سے زائد لوگ لاپتہ، الٰہ آباد ہائی کورٹ نے کہا ’افسروں کی سستی حیران کرنے والی‘

حکومت کی جانب سے داخل حلف نامے کے مطابق یکم جنوری 2024 اور 18 جنوری 2026 کے درمیان ریاست میں تقریباً 108300 لاپتہ لوگوں کی شکایتیں درج کی گئیں، اور محض 9700 معاملوں میں ہی کارروائی کی گئی۔

<div class="paragraphs"><p>الٰہ آباد ہائی کورٹ، تصویر آئی اے این ایس</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

الٰہ آباد ہائی کورٹ کی لکھنؤ بنچ نے بدھ (4 فروری) کو اترپردیش میں تیزی سے بڑھتے ہوئے لاپتہ لوگوں کی تعداد کے متعلق از خود نوٹس لیا اور ایک مفاد عامہ کی عرضی (پی آئی ایل) داخل کرنے کا حکم دیا۔ اس میں کہا گیا کہ گزشتہ 2 سالوں میں 1.08 لاکھ سے زائد لوگ لاپتہ ہو گئے، جبکہ پولیس نے صرف 9700 معاملوں میں ہی کارروائی شروع کی۔

پولیس کی بے عملی پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ہائی کورٹ نے ان اعداد و شمار کو ’حیران کن‘ قرار دیا۔ بنچ نے بدھ کو سماعت کے دوران کہا تھا کہ ’’ہم لاپتہ لوگوں سے متعلق شکایات پر افسران کے رویے سے بہت حیران ہیں، کیونکہ اس طرح کے معاملوں میں ظاہر طور پر فوری کارروائی کی ضرورت ہوتی ہے۔‘‘ عدالت نے یہ بھی ہدایت دی کہ اس معاملے کو جمعرات (5 فروری) کو بھی سماعت کے لیے لسٹ کیا جائے۔


جسٹس عبد المعین اور ببیتا رانی کی ڈویژن بنچ نے یہ تبصرہ وکرما پرساد کی جانب سے داخل ایک کرمنل رِٹ عرضی پر سماعت کرتے ہوئے کیا۔ عرضی گزار نے الزام عائد کیا تھا کہ ان کا بیٹا جولائی 2024 میں لاپتہ ہو گیا تھا اور پولیس اسے تلاش کرنے میں کوئی دلچسپی نہیں دکھا رہی ہے۔ سماعت کے دوران بنچ نے ایڈیشنل چیف سکریٹری (ہوم) سے معاملے میں ایک تفصیلی حلف نامہ طلب کیا۔

حکومت کی جانب سے داخل حلف نامے کے مطابق یکم جنوری 2024 اور 18 جنوری 2026 کے درمیان ریاست میں تقریباً 108300 لاپتہ لوگوں کی شکایتیں درج کی گئیں، لیکن لاپتہ لوگوں کی تلاش کرنے کے متعلق محض 9700 معاملوں میں ہی کارروائی کی گئی۔ جبکہ دیگر معاملوں میں کوئی کارروائی شروع نہیں کی گئی۔ ان اعداد و شمار کو دیکھتے ہوئے الٰہ آباد ہائی کورٹ نے یوپی پولیس کے سست رویے پر ناراضگی کا اظہار کیا اور اس معاملے کو وسیع تر مفاد عامہ سے منسلک مانتے ہوئے کورٹ رجسٹری کو اس معاملے کو ریاست میں لاپتہ افراد کے معاملے سے متعلق مفادِ عامہ کی عرضی کے طور پر درج کرنے کی ہدایت دی۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔