قومی خبریں

پیپل کوٹی میں بسایا جائے گا ’منی جوشی مٹھ‘، 130 کنبوں کی ہوگی باز آبادکاری، فی الحال 850 سے زیادہ کنبہ راحتی کیمپ میں

مستقل منتقلی کے لیے پیپل کوٹی کے علاوہ تین دیگر مقامات کا انتخاب ہوا ہے، ان میں کوٹی فارم، ایچ آر ڈی آئی اراضی اور ڈھاک گاؤں واقع اراضی شامل ہے۔

<div class="paragraphs"><p>جوشی مٹھ، تصویر آئی اے این ایس</p></div>

جوشی مٹھ، تصویر آئی اے این ایس

 

اتراکھنڈ حکومت نے جوشی مٹھ میں جاری لینڈ سلائڈنگ سے متاثر ہونے والوں میں سے 130 کنبوں کو پیپل کوٹی میں مستقل طور پر بسانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس وقت جوشی مٹھ میں 850 سے زائد کنبے راحتی کیمپوں میں ٹھہرائے گئے ہیں۔ اس سے قبل عارضی باز آبادکاری کے تئیں متاثرین نے دلچسپی نہیں دکھائی تھی۔ دوسری طرف غیر محفوظ ہو چکی عمارتوں سے کنبوں کو محفوظ مقامات پر لے جانے کا عمل جاری ہے۔ شگاف کی وجہ سے جے پی کالونی کی 15 عمارتوں کو توڑنے کا عمل بھی شروع کر دیا گیا ہے۔

Published: undefined

دراصل چمولی ضلع انتظامیہ نے جی ایس آئی کی طرف سے اراضی سروے جانچ کے بعد پیپل کوٹی میں مستقل بازآبادکاری کے لیے دو ہیکٹیئر اراضی کو ہری جھنڈی دے دی ہے۔ اب سی بی آر آئی کی طرف سے اراضی کے ڈیولپمنٹ اور عمارتوں کا لے آؤٹ بنانے کا کام کیا جائے گا۔ منگل کے روز ریاستی سکریٹریٹ واقع میڈیا سنٹر میں سکریٹری ڈیزاسٹر مینجمنٹ ڈاکٹر رنجیت کمار سنہا نے بتایا کہ سمندری سطح سے 1260 میٹر کی اونچائی پر واقع پیپل کوٹی میں مستقل باز آبادکاری کے لیے اراضی کو نشان زد کر لیا گیا ہے۔ جوشی مٹھ شہر سے تقریباً 36 کلومیٹر کی دوری پر واقع پیپل کوٹی میں تقریباً دو ہیکٹیئر رقبہ میں 125 سے 130 کنبوں کو بسایا جائے گا۔ یہاں لوگوں کو پختہ مکانات بنا کر دیئے جائیں گے۔ جو لوگ معاوضہ لے کر خود گھر بنانا چاہیں گے، اس کا بھی متبادل پیش کیا جائے گا۔

Published: undefined

انھوں نے بتایا کہ جی ایس آئی نے اپنی رپورٹ میں اس اراضی کو مستقل منتقلی کے لیے مناسب پایا ہے۔ اب سی بی آر آئی کی طرف سے اراضی ڈیولپمنٹ اور خاکہ پر کام کیا جائے گا۔ ڈاکٹر سنہا نے بتایا کہ بیشتر لوگ مستقل منتقلی کے حق میں ہیں۔ پیپل کوٹی کی اراضی بیشتر لوگوں کو پسند آئی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ مستقل منتقلی کے لیے پیپل کوٹی کے علاوہ تین دیگر مقامات کا انتخاب ہوا ہے اور ان میں کوٹی فارم، ایچ آر ڈی آئی اراضی اور ڈھاک گاؤں واقع اراضی شامل ہے۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined