کیا یوگی آدتیہ ناتھ واقعی بابا گورکھناتھ کے وارث ہیں؟...کرشن پرتاپ سنگھ

اگر یوگی آدتیہ ناتھ گورکھناتھ کی تعلیمات، جن میں عدمِ تعصب، سماجی اصلاح اور اقتدار سے بے نیازی مرکزی اصول تھے، کو عملاً اختیار نہیں کرتے، تو پھر وہ خود کو ان کا حقیقی وارث کس بنیاد پر کہتے ہیں؟

<div class="paragraphs"><p>یوگی آدتیہ ناتھ / آئی اے این ایس</p></div>
i
user

کرشن پرتاپ سنگھ

کسی بھی سچے جمہوری نظام میں اقتدار میں موجود افراد سے یہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ اپنی طاقت اور اختیار کا استعمال اس دانشمندی کے ساتھ کریں کہ ان کی حکومت اُن لوگوں کو بھی اپنی محسوس ہو جنہوں نے انتخابات میں انہیں ووٹ نہیں دیا۔ مقصد یہ ہوتا ہے کہ معاشرے میں بداعتمادی نہ بڑھے اور کوئی طبقہ خود کو نظر انداز یا تحقیر کا شکار محسوس نہ کرے۔ مگر عملی سیاست میں اکثر ایسا نہیں ہو پاتا۔ بعض اوقات حکمراں غیر ضروری تنازعات کو جنم دیتے ہیں اور نئے نئے محاذ کھولتے رہتے ہیں۔

اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے حالیہ دنوں جس انداز میں جیوتش پیٹھ کے شنکراچاریہ سوامی اوِمُکتیشورانند سرسوتی کے ساتھ تنازع کھڑا کیا، اسے اسی تناظر میں دیکھا جا سکتا ہے۔ ابتدا میں تو انہوں نے کوئی براہِ راست اقدام نہیں لیا لیکن بعد میں معاملہ اس وقت سنگین ہو گیا جب پریاگ راج کے ماگھ میلے کے دوران اشنان کے لیے جا رہے سوامی کی پالکی روک دی گئی۔ ان کے شاگردوں کے ساتھ بدسلوکی کی گئی، ان کی چوٹی کھینچی گئی اور مارپیٹ کے الزامات سامنے آئے۔ اس کے بعد اتر پردیش اسمبلی میں، جہاں سوامی اپنا دفاع نہیں کر سکتے تھے، ان کے شنکراچاریہ ہونے پر سوالات اٹھائے گئے۔

اس کے جواب میں سوامی اومکتیشورانند نے بھی سخت ردعمل ظاہر کیا۔ انہوں نے بابا گورکھناتھ کے اقوال کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ چونکہ یوگی نے اقتدار کے لیے ان کے بتائے ہوئے راستے کو ترک کر دیا ہے، اس لیے وہ ’یوگی‘ اور ’ہندو‘ کہلانے کے مستحق نہیں رہے۔

سوامی کے مطابق بابا گورکھناتھ نے اپنی تصنیف ’گورکھ وانی‘ میں واضح کہا ہے کہ اگر کوئی راجہ چاہے تو تخت چھوڑ کر یوگی بن سکتا ہے لیکن کسی یوگی کو راجہ کے تخت پر نہیں بیٹھنا چاہیے، بلکہ اسے راجہ کے دروازے تک بھی نہیں جانا چاہیے۔ ان کے بقول، یوگی آدتیہ ناتھ گزشتہ 9 برسوں سے وزیر اعلیٰ کی حیثیت سے اقتدار میں رہ کر اس تعلیم کے برخلاف عمل کر رہے ہیں اور یوں گورکھناتھ کی روحانی گدی کو مجروح کر رہے ہیں۔


سوامی نے یہ بھی کہا کہ محض گیروا لباس پہن لینے یا کان چھدوا لینے سے کوئی سادھو نہیں بن جاتا۔ انہوں نے یاد دلایا کہ بابا گورکھناتھ کی گدی گئو ماتا کے تحفظ کے لیے معروف رہی ہے۔ اس بنیاد پر انہوں نے یوگی کو چیلنج کیا کہ اگر وہ واقعی اس گدی کے وارث ہیں تو چالیس دن کے اندر گائے کے گوشت کی برآمد پر پابندی لگا کر اپنے ہندو ہونے کا ثبوت دیں۔

یوگی آدتیہ ناتھ پر یہ بھی الزام عائد کیا جاتا رہا ہے کہ وہ عید اور ہولی یا علی اور بجرنگ بلی جیسے مذہبی حوالوں کو سیاسی بیانیے میں ایک دوسرے کے مقابل لا کر فرقہ وارانہ فضا کو تقویت دیتے ہیں۔ اس کے برعکس بابا گورکھناتھ کا ایک قول ہے- ’’ہندو دھیائے دیہورا، مسلمان مسیت، جوگی دھیائے پرمپد جہاں دیہورا نہ مسیت۔‘‘ یعنی یوگی اس اعلیٰ مقام کا دھیان کرتا ہے جہاں نہ مندر ہے نہ مسجد۔

انہوں نے مزید نصیحت کی تھی کہ انسان کو دل میں سکون رکھنا چاہیے، نہ کسی سے بھید رکھے نہ غرور، اور گفتگو میں مٹھاس ہو۔ اسی سبب وہ مختلف مذاہب اور طبقات میں یکساں احترام کے حامل رہے۔ انہیں نہ صرف ہندوستانی ادب کے معماروں میں شمار کیا جاتا ہے بلکہ ہٹھ یوگ روایت کا بانی، متسیندرناتھ کا روحانی فرزند اور شیو کا اوتار بھی مانا جاتا ہے۔

عام طور پر بابا گورکھناتھ کو وسیع النظر، منظم کرنے والے، سماجی مصلح اور یوگ سادھنا کے عظیم علمبردار کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ ایک روایت کے مطابق انہوں نے چار ادوار میں اوتار لیے: ست جگ میں پیشاور، تریتا میں گورکھپور، دواپر میں دوارکا اور کل جگ میں کاٹھیاواڑ کی گورکھ مڑھی میں۔ آچاریہ ہزاری پرساد دویویدی نے لکھا کہ گورکھناتھ نے اپنے زمانے میں رائج مختلف سادھنا کے راستوں سے بغیر کسی تعصب کے مثبت عناصر اخذ کیے۔ اس کے برعکس ناقدین کا کہنا ہے کہ یوگی آدتیہ ناتھ کی سیاست میں رنجش اور مخالفت کا عنصر نمایاں رہتا ہے۔


آچاریہ رجنیش، جنہیں اوشو کے نام سے جانا جاتا ہے، بابا گورکھناتھ کو کرشن، پتنجلی اور بدھ کے ساتھ ہندوستان کی چار عظیم روحانی سمتوں میں شمار کرتے ہیں۔ ان کے مطابق جیسے چار سمتیں ہوتی ہیں، ویسے ہی یہ چار عظیم شخصیات ہیں۔ اوشو کا کہنا تھا کہ گورکھناتھ کے بغیر نہ کبیر ہوتے، نہ نانک، نہ دادو، نہ فرید اور نہ میرا۔ ہندوستان کی سنت روایت ان کی مرہونِ منت ہے۔

گورکھناتھ کے زمانے میں مذہبی اور سماجی حالات پیچیدہ تھے۔ بے شمار فرقے اور مسلک وجود میں آ چکے تھے۔ ذات پات، اونچ نیچ اور رسومات کی کثرت نے معاشرے کو تقسیم کر رکھا تھا۔ ایسے وقت میں ایک ایسی شخصیت کی ضرورت تھی جو عوام کے اندر موجود انصاف اور برابری کی طلب کو سمت دے سکے۔ یہ کردار گورکھناتھ نے ادا کیا۔

انہوں نے بارہ منتشر فرقووں کو منظم کیا، جن میں سے چھ ان کے اپنے قائم کردہ تھے اور چھ شیو سے منسوب۔ انہوں نے ورناشرم کے امتیازات، یوگ کی عوام دشمن کرامات، بھانگ، شراب اور گوشت خوری جیسی چیزوں کی مخالفت کی۔ عورت کے صرف ماں کے روپ کی تعظیم پر زور دیا اور برہمچاریہ اور ضبطِ نفس کو زندگی کا صحیح راستہ قرار دیا۔

گورکھناتھ کہا کرتے تھے کہ وہ زمین پر سوتے ہیں، ان کے پاس بستر نہیں، وہ کنکروں اور پتھروں پر آرام کرتے ہیں اور جنگل میں رہتے ہیں۔ یوگی دراصل فقیر ہوتا ہے، اس کے پاس دولت نہیں اور سب سے اہم بات یہ کہ اس کا کسی سے دشمنی نہیں ہوتی۔ ناقدین کا استدلال ہے کہ اگر وزیر اعلیٰ کی حیثیت سے یوگی آدتیہ ناتھ گورکھناتھ کی تعلیمات کا دسواں حصہ بھی نافذ کرتے تو اتر پردیش کی بہتری ممکن تھی۔ خاص طور پر اندھ وشواس، سماجی برائیاں اور قدامت پرستی، جنہیں گورکھناتھ نے مٹانے کی کوشش کی، آج بھی معاشرے میں موجود ہیں اور ان کے خلاف واضح جدوجہد نظر نہیں آتی۔


بابا گورکھناتھ اس حقیقت سے آگاہ تھے کہ یہ برائیاں آسانی سے ختم نہیں ہوں گی، اس لیے وہ معاشرتی سوچ کو بدلنا چاہتے تھے۔ ان کے فرقہ میں گرو کا مقام سب سے بلند ہے مگر گرو وہ ہے جو علم اور سچائی میں برتر ہو، نہ کہ وہ جو ذات یا خاندان کی بنیاد پر گدی کا دعوے دار ہو۔ ناتھ وہ ہے جو ورناشرم دھرم سے ماورا ہو اور سب گروؤں کا گرو ہو، نا اس سے کوئی بڑا ہے اور نا برابر۔

سوال یہ ہے کہ کیا یوگی آدتیہ ناتھ بھی ان اصولوں کو اسی معنی میں دیکھتے ہیں؟ اگر نہیں، تو پھر انہیں بابا گورکھناتھ کا حقیقی وارث کس بنیاد پر کہا جائے؟

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔