قومی خبریں

مشرق وسطیٰ کشیدگی سے کھاد کی قلت کا خدشہ، تلنگانہ کے وزیر اعلیٰ ریونت ریڈی کا انتباہ

تلنگانہ کے وزیر اعلیٰ ریونت ریڈی نے مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے باعث کھاد کی ممکنہ قلت پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے مرکز سے زیادہ یوریا فراہم کرنے کی اپیل کی اور سیاسی اتحاد پر زور دیا

<div class="paragraphs"><p>وزیر اعلیٰ تلنگانہ اے ریونت ریڈی / آئی اے این ایس</p></div>

وزیر اعلیٰ تلنگانہ اے ریونت ریڈی / آئی اے این ایس

 

حیدرآباد: تلنگانہ کے وزیر اعلیٰ اے ریونت ریڈی نے اتوار کو خبردار کیا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے اثرات ہندوستان میں کھاد کی دستیابی پر پڑ سکتے ہیں، جس کے نتیجے میں کسانوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت دی کہ وہ مرکز کو اس بات پر آمادہ کریں کہ ریاست کو یوریا اور دیگر کھادوں کی زیادہ مقدار فراہم کی جائے۔

Published: undefined

ریونت ریڈی نے کہا کہ موجودہ حالات میں سیاسی اختلافات کو بالائے طاق رکھ کر اجتماعی کوششوں کی ضرورت ہے۔ انہوں نے تمام سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں سے اپیل کی کہ وہ وزیر اعظم نریندر مودی سے ملاقات کریں اور تلنگانہ کے لیے کھاد کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے مشترکہ حکمت عملی اختیار کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ انتخابات کے علاوہ دیگر اوقات میں سیاست کے بجائے ریاست کی ترقی کو ترجیح دی جانی چاہیے۔

وزیر اعلیٰ نے سدی پیٹ ضلع کے ننگنور منڈل کے نرمیٹا گاؤں میں ایک عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے ان خیالات کا اظہار کیا۔ اس موقع پر انہوں نے زرعی شعبے سے متعلق کئی اقدامات کا بھی ذکر کیا اور کسانوں کو یقین دلایا کہ حکومت ان کے مفادات کے تحفظ کے لیے سنجیدہ ہے۔

Published: undefined

ریونت ریڈی نے زرعی وزیر تممالا ناگیشور راؤ اور دیگر وزراء کے ہمراہ ایک آئل پام فیکٹری کا افتتاح بھی کیا، جو 32 ایکڑ اراضی پر تقریباً 300 کروڑ روپے کی لاگت سے تعمیر کی گئی ہے۔ اس کے ساتھ ہی اسی احاطے میں 80 کروڑ روپے کی لاگت سے قائم ہونے والی ایک ریفائنری کا سنگ بنیاد بھی رکھا گیا۔ انہوں نے کہا کہ نرمیٹا میں قائم یہ آئل پام فیکٹری ملک کی پہلی ایسی فیکٹری ہے جو صرف 16 مہینوں میں مکمل ہوئی ہے، اور اس کی پیداوار کی صلاحیت 30 سے 180 ٹن فی گھنٹہ ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ریاست میں آئل پام کی کاشت کا رقبہ بڑھ کر تقریباً تین لاکھ ایکڑ تک پہنچ چکا ہے اور حکومت اس بات کے لیے پُرعزم ہے کہ اگر یہ رقبہ دس لاکھ ایکڑ تک بھی پہنچ جائے تو کسانوں کی پیداوار کی خریداری یقینی بنائی جائے گی۔ وزیر اعلیٰ نے اس طرز کی کاشت کو کسانوں کے لیے منافع بخش قرار دیا۔

Published: undefined

ریونت ریڈی نے ’رائتو مہوتسو‘ کے تحت لگائے گئے اسٹالز کا بھی دورہ کیا، جہاں زرعی مشینری، باغبانی، ڈیری اور ماہی پروری جیسے شعبوں کی نمائش کی گئی تھی۔ اس دوران انہوں نے خواتین کی فلاح و بہبود سے متعلق اسکیموں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ حکومت خواتین کو معاشی طور پر خود کفیل بنانے کے لیے سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے، جن میں مفت بس سفر اور خود امدادی گروپوں کو مالی مدد شامل ہے۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined