تمل ناڈو کے وزیر اعلیٰ بنے جوزف وجے، 9 وزراء نے بھی حلف لیا، راہل گاندھی بھی رہے موجود
وجے نے تمل ناڈو کے وزیر اعلیٰ کے طور پر حلف اٹھا لیا ہے۔ ان کے ساتھ 9 اراکین اسمبلی نے بھی بطور وزیر حلف لیا۔ وجے کی حلف برداری کی تقریب میں لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی بھی شریک ہوئے۔
تملگا ویٹری کزگم (ٹی وی کے) کے صدر جوزف وجے نے اتوار (10 مئی) کو تمل ناڈو کے وزیر اعلیٰ کے عہدے کا حلف اٹھا لیا۔ اسی کے ساتھ ریاست میں تقریباً 6 دہائیوں سے جاری 2 بڑی دراوڑی جماعتوں، ڈی ایم کے اور ’اے آئی اے ڈی ایم کے‘ کے باری باری اقتدار میں آنے کا سلسلہ ختم ہو گیا۔ تمل ناڈو کے گورنر راجندر وشواناتھ آرلیکر نے وجے کو عہدے اور رازداری کا حلف دلایا۔ واضح رہے کہ ہفتہ کے روز 234 ارکان والی اسمبلی میں 120 منتخب اراکین اسمبلی کی حمایت حاصل ہونے کے بعد وجے کو حکومت سازی کی دعوت دی گئی تھی۔
وجے نے صبح 10 بجے کے بعد چنئی کے نہرو اسٹیڈیم میں حلف اٹھایا۔ ان کے ساتھ ٹی وی کے کے کچھ سینئر رہنماؤں سمیت 9 دیگر اراکین اسمبلی نے بھی بحیثیت وزیر حلف لیا۔ وجے کانگریس کے تعاون سے اتحادی حکومت کی قیادت کریں گے۔ گورنر نے وجے کو 13 مئی یا اس سے پہلے اسمبلی میں اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے کی ہدایت بھی دی ہے۔ جن نو لیڈران نے وزیر کے طور پر حلف لیا وہ ہیں بسی این آنند، آدھو ارجن، کے جی ارون راج، کے اے سینگوٹّیان، پی وینکٹ رمن، سی ٹی آر نرمل کمار، اے راجموہن، ٹی کے پربھو اور ایس کیرتھنا۔
حلف برداری کی اس تقریب میں ملک کے کئی بڑے رہنما بھی شریک ہوئے ہیں۔ کانگریس لیڈر اور لوک سبھا میں حزب اختلاف کے قائد راہل گاندھی، تلنگانہ کی سابق گورنر اور بی جے پی لیڈر تمل سائی سوندرراجن، بی جے پی رہنما کے اناملائی اور تمل ناڈو بی جے پی کے صدر نینار ناگیندرن بھی پروگرام میں پہنچے ہیں۔ اس کے علاوہ فلم اور سیاست کی دنیا کی کئی نامور شخصیات بھی اس تقریب کا حصہ بنی ہیں۔ وجے کے والدین بھی اس خاص موقع پر موجود ہیں۔ وہیں اداکارہ ترشا کرشنن کی موجودگی نے بھی لوگوں کی توجہ اپنی جانب مبذول کرائی۔ وجے کے فلمی کیریئر اور سیاست، دونوں میں ان کی مقبولیت کا اثر تقریب میں صاف دکھائی دیا۔
قابل ذکر ہے کہ تمل ناڈو اسمبلی انتخاب میں وجے کی پارٹی کو 108 سیٹیں ملی تھیں، جبکہ حکومت بنانے کے لیے 118 سیٹوں کی ضرورت تھی، جس کی وجہ سے کئی دنوں تک سیاسی ہلچل مچی رہی۔ کانگریس نے پہلے ہی حمایت دے دی تھی اس کے بعد دیگر پارٹیوں نے بھی وجے کی حمایت کر دی۔ اس وقت وجے کی پارٹی ’ٹی وی کے‘ کو کانگریس کے 5 اراکین اسمبلی اور سی پی آئی، سی پی آئی ایم، وی سی کے سمیت آئی یو ایم ایل کے 2-2 اراکین اسمبلی کی حمایت حاصل ہے۔ یہ تمام جماعتیں ڈی ایم کے کی قیادت والے سیکولر پروگریسو الائنس (ایس پی اے) کا حصہ بن کر الیکشن لڑی تھیں۔
Follow us: WhatsApp, Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
