قومی خبریں

خواتین کے خلاف بڑھتے جرائم کے واقعات پر مایاوتی چراغ پا، یوگی حکومت پر کیا حملہ

بی ایس پی سپریمو مایاوتی نے ایک ٹوئٹ کیا ہے جس میں لکھا ہے کہ ’’یو پی میں خصوصاً خواتین کے خلاف جرائم کے واقعات تھمنے کا نام نہیں لے رہے ہیں، جو انتہائی افسوسناک اور فکر انگیز بات ہے۔‘‘

مایا وتی، تصویر یو این آئی
مایا وتی، تصویر یو این آئی 

بہوجن سماج پارٹی (بی ایس پی) کی قومی سربراہ مایاوتی ان دنوں اتر پردیش اسمبلی انتخابات کی تیاریوں میں پوری طرح مصروف ہیں اور 2022 میں ہونے والے الیکشن کو لے کر ابھی سے ہی یوگی حکومت کے خلاف حملہ تیز کر دیا ہے۔ مایاوتی ریاست میں بدتر نظامِ قانون اور خواتین کے خلاف بڑھتے جرائم کے واقعات کو لے کر یو پی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ بی ایس پی سپریمو نے ریاستی حکومت کو صلاح دی ہے کہ وہ خواتین کی سیکورٹی پر دھیان دے اور ان پر ہو رہے مظالم کے خلاف قدم اٹھائے۔

Published: undefined

مایاوتی نے اس سلسلے میں ایک ٹوئٹ کیا ہے جس میں لکھا ہے کہ ’’یو پی میں خصوصاً خواتین کے خلاف جرائم کے واقعات تھمنے کا نام نہیں لے رہے ہیں، جو انتہائی افسوسناک اور فکر انگیز بات ہے۔ پیلی بھیت و گونڈا میں خواتین کے عدم تحفظ، ایٹہ میں پولس بربریت اور جھانسی میں کیرالہ کی ننوں کو ٹرین سے اتار دینے وغیرہ کے واقعات شرمناک اور انتہائی قابل مذمت ہیں۔ حکومت دھیان دے۔‘‘

Published: undefined

اس سے قبل بھی انھوں نے ایک ٹوئٹ میں لکھا تھا کہ ’’یو پی کے انتہائی افسوسناک و شرمناک ہاتھرس اجتماعی عصمت دری کی متاثرہ فیملی کو انصاف پانے میں جن مشکلات کا لگاتار سامنا ہے وہ جگ ظاہر ہے، لیکن اس سلسلے میں جو نئی باتیں اب کورٹ میں ظاہر ہوئی ہیں وہ متاثرین کو انصاف دلانے کے معاملے میں حکومت کے طریقہ کار پر ایک بار پھر سنگین سوال کھڑے کرتے ہیں۔‘‘

Published: undefined

مایاوتی نے اپنے ٹوئٹ میں یہ بھی لکھا کہ ہاتھرس واقعہ میں نئی باتوں کا ہائی کورٹ کے ذریعہ نوٹس لے کر گواہوں کو دھمکانے وغیرہ کی جانچ کا حکم دینے سے یو پی حکومت پھر کٹہرے میں ہے۔ وہ لوگ سوچنے کو مجبور ہیں کہ متاثرین کو انصاف کیسے ملے گا؟ یہ عام سوچ کہ یو پی میں جرائم پیشوں کا راج ہے اور انصاف پانا انتہائی مشکل، کیا غلط ہے۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined