جھارکھنڈ: چترا میں ایئر ایمبولنس تباہ، کولکاتا اے ٹی سی سے آخری رابطہ، 7 افراد جان بحق

رانچی سے دہلی جانے والی ریڈ برڈ ایوی ایشن کی ایئر ایمبولنس چترا کے سمریا جنگل میں گر کر تباہ ہو گئی۔ کولکاتا اے ٹی سی سے رابطہ ٹوٹنے کے بعد مریض، عملہ اور پائلٹس سمیت ساتوں افراد جان بحق ہو گئے

<div class="paragraphs"><p>آئی اے این ایس</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

جھارکھنڈ کی راجدھانی رانچی سے دہلی کے لیے روانہ ہونے والی ریڈ برڈ ایوی ایشن پرائیویٹ لمیٹڈ کی ایک ایئر ایمبولنس پیر کی شام چترا ضلع کے سمریا تھانہ حلقہ کے کرماٹانڈ جنگل میں گر کر تباہ ہو گئی۔ سرکاری تصدیق کے مطابق حادثہ میں طیارہ پر سوار تمام 7 افراد جان بحق ہو گئے۔ یہ پرواز ایک شدید زخمی مریض کو بہتر علاج کے لیے دہلی منتقل کر رہی تھی۔

ڈائریکٹوریٹ جنرل آف سول ایوی ایشن کے مطابق بیچ کرافٹ سی 90 طیارہ نے ہندوستانی معیاری وقت کے مطابق شام 7 بج کر 11 منٹ پر رانچی کے برسا منڈا ہوائی اڈہ سے دہلی کے لیے اڑان بھری تھی۔ پرواز کے دوران شام 7 بج کر 34 منٹ پر کولکاتا فضائی ٹریفک کنٹرول سے اس کا رابطہ اچانک منقطع ہو گیا۔

اس سے قبل طیارہ نے خراب موسم کے باعث راستہ تبدیل کرنے کی درخواست بھی کی تھی۔ کولکاتا سے تقریباً 100 سمندری میل جنوب مشرق میں ریڈیو اور ریڈار رابطہ ٹوٹنے کے بعد ہائی الرٹ جاری کر دیا گیا۔

حادثہ چترا ضلع کی کسرِیا پنچایت کے تحت واقع گھنے جنگلاتی علاقے میں پیش آیا۔ مقامی باشندوں نے تیز دھماکے جیسی آواز سننے اور دھوئیں کا گبار اٹھتے دیکھنے کے بعد انتظامیہ کو اطلاع دی۔ پولیس، ضلع انتظامیہ اور آفات انتظامی دستے فوری طور پر موقع پر پہنچ گئے اور بڑے پیمانے پر تلاش و بچاؤ کارروائی شروع کی گئی۔


حادثہ میں جان بحق ہونے والوں میں مریض سنجے کمار شامل ہیں، جو رانچی کے دیوکمل اسپتال میں زیر علاج تھے اور آگ کے واقعہ میں شدید طور پر جھلس گئے تھے۔ ان کے ساتھ ارچنا دیوی اور دھرو کمار بطور تیماردار سوار تھے۔ طیارہ کے پائلٹ وویک وکاس بھگت اور سبراج دیپ سنگھ تھے، جبکہ ڈاکٹر وکاس کمار گپتا اور نرس سچن کمار مشرا بھی میڈیکل ٹیم کا حصہ تھے۔

ڈائریکٹوریٹ جنرل آف سول ایوی ایشن نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ حادثہ کی وجوہات کا تعین تفصیلی جانچ کے بعد ہی ہو سکے گا۔ ہوائی حادثات کی تفتیش کرنے والی ایئرکرافٹ ایکسیڈنٹ انویسٹی گیشن بیورو کی ٹیم کو جائے حادثہ پر روانہ کیا جا رہا ہے۔ بلیک باکس کی تلاش اور ریڈار ڈیٹا کے تجزیہ کے بعد ہی حتمی رپورٹ جاری کی جائے گی۔

ضلعی پولیس سپرنٹنڈنٹ نے واقعہ کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ تمام لاشیں برآمد کر لی گئی ہیں اور علاقے کو مکمل طور پر سیل کر دیا گیا ہے۔ خراب موسم، تیز آندھی اور گرج چمک کو ابتدائی طور پر حادثہ کی ممکنہ وجہ سمجھا جا رہا ہے، تاہم سرکاری سطح پر کسی نتیجہ کا اعلان جانچ مکمل ہونے کے بعد ہی کیا جائے گا۔ واقعہ کے بعد متاثرہ خاندانوں میں غم کی لہر دوڑ گئی ہے اور پورا علاقہ سوگوار ہے

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔