جے ای ای ایڈوانسڈ 2025: مدھیہ پردیش کے ماجد حسین کا آل انڈیا تیسرا مقام

مدھیہ پردیش کے برہان پور سے تعلق رکھنے والے ماجد حسین نے جے ای ای ایڈوانسڈ 2025 میں آل انڈیا رینک 3 حاصل کر کے ریاست کا نام روشن کر دیا۔ پہلی کوشش میں اس کامیابی پر صوبے بھر میں خوشی کی لہر دوڑ گئی

<div class="paragraphs"><p>آئی اے این ایس</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

ملک کے سب سے بڑے اور باوقار انجینئرنگ امتحان جے ای ای ایڈوانسڈ 2025 کے نتائج جاری کر دیے گئے ہیں۔ اس سال کوٹا کے رجِت گپتا نے آل انڈیا رینک ایک حاصل کر کے پہلی پوزیشن اپنے نام کی، جبکہ سکشم جندل دوسرے نمبر پر رہے۔ تاہم مدھیہ پردیش کے ضلع برہان پور سے تعلق رکھنے والے ماجد حسین نے آل انڈیا رینک 3 حاصل کر کے ریاست کا نام روشن کر دیا ہے۔

ماجد حسین کی یہ کامیابی اس لیے بھی خاص اہمیت رکھتی ہے کہ انہوں نے پہلی ہی کوشش میں یہ مقام حاصل کیا۔ ان کی شاندار کارکردگی کے بعد برہان پور سمیت پورے مدھیہ پردیش میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ اہل خانہ، رشتہ داروں اور دوستوں نے انہیں مبارکباد پیش کی، جبکہ اسکول انتظامیہ اور مقامی حکام کی جانب سے بھی ان کی عزت افزائی کی گئی۔

ماجد حسین اس سے قبل جے ای ای مینز 2025 میں بھی غیر معمولی کارکردگی کا مظاہرہ کر چکے ہیں۔ انہوں نے اس امتحان میں 99.9992 پرسنٹائل اسکور کر کے مدھیہ پردیش میں پہلی پوزیشن حاصل کی تھی۔ مینز میں نمایاں کامیابی کے بعد انہوں نے ایڈوانسڈ امتحان کی تیاری پر مکمل توجہ مرکوز رکھی اور بالآخر آل انڈیا سطح پر تیسری رینک حاصل کرنے میں کامیاب رہے۔


اپنی کامیابی پر اظہار خیال کرتے ہوئے ماجد حسین نے کہا کہ ایڈوانسڈ امتحان کی تیاری ابتدا ہی سے جاری تھی۔ ان کے مطابق سب سے اہم مرحلہ نصاب کا بار بار اعادہ اور امتحان کے پیٹرن کا گہرائی سے تجزیہ کرنا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ انہوں نے اپنی تیاری کو امتحان کی نوعیت کے مطابق ترتیب دیا اور کمزور پہلوؤں پر خصوصی توجہ دی۔

ماجد حسین نے اپنی کامیابی کا سہرا اپنے والدین، اساتذہ اور رہنماؤں کے سر باندھا۔ ان کا کہنا تھا کہ خاندان کی مسلسل حوصلہ افزائی اور اساتذہ کی رہنمائی نے انہیں مشکل مراحل میں بھی ثابت قدم رکھا۔ انہوں نے مستقبل میں ایک کامیاب سافٹ ویئر انجینئر بننے کی خواہش کا اظہار کیا اور کہا کہ وہ اعلیٰ تعلیمی ادارے میں داخلہ لے کر اپنی صلاحیتوں کو مزید نکھارنا چاہتے ہیں۔

دوسری جانب پہلی پوزیشن حاصل کرنے والے رجِت گپتا اور دوسری رینک حاصل کرنے والے سکشم جندل کی کامیابی بھی قابل ذکر ہے، تاہم مدھیہ پردیش کے لیے ماجد حسین کی یہ کامیابی خصوصی اہمیت رکھتی ہے۔ ریاست کے تعلیمی حلقوں کا کہنا ہے کہ ان کی محنت اور لگن دیگر طلبہ کے لیے مثال ہے اور یہ نتیجہ ثابت کرتا ہے کہ مسلسل محنت اور واضح ہدف کے ساتھ کسی بھی بڑے امتحان میں نمایاں مقام حاصل کیا جا سکتا ہے۔