
منوج جرانگے پاٹل / سوشل میڈیا
سماجی کارکن منوج جرانگے پاٹل نے ہفتے کے روز انترولی ساراٹی میں مراٹھا ریزرویشن کے مطالبے کو لے کر ایک بار پھر غیر معینہ مدت کی بھوک ہڑتال شروع کر دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ برادری کی 3 سالہ جدوجہد اب جیت کے قریب ہے۔ انہوں نے پورے مہاراشٹر میں مراٹھا برادری کے لوگوں سے اپیل کی کہ وہ اپنے گھروں سے باہر نکلیں، احتجاجی مقام پر جمع ہوں اور اپنے مقصد کے لیے متحد رہیں۔ اس غیر معینہ مدت کی بھوک ہڑتال سے قبل پولیس نے منوج جرانگے پاٹل کو نوٹس بھیجا۔
جالنا پولیس نے ’بھارتیہ ناگرک سرکشا سنہتا‘ (بی این ایس ایس) کی دفعہ 168 کے تحت یہ نوٹس جاری کیا ہے اور بھوک ہڑتال کے لیے 10 سخت شرائط عائد کیے ہیں۔ اس نوٹس میں پولیس نے واضح کیا ہے کہ بھوک ہڑتال کے دوران نظم و نسق بگڑنی نہیں چاہیے۔ اگر ایسا ہوا تو قانونی کارروائی کی جائے گی اور اس نوٹس کو ثبوت کے طور پر استعمال کیا جائے گا۔ بھوک ہڑتال کی وجہ سے ٹریفک جام نہیں ہونا چاہیے۔ گاڑیوں کی پارکنگ مقررہ جگہ پر ہی کی جانی چاہیے۔ اس کے لیے رضاکار مقرر کیے جائیں اور ان کے نام اور موبائل نمبر پولیس کو فراہم کیے جائیں۔ صوتی آلودگی سے متعلق قوانین پر سختی سے عمل کیا جائے۔ وقتاً فوقتاً پولیس اور انتظامیہ کی جانب سے جو ہدایات دی جائیں گی، ان پر عمل کرنا ہوگا۔ اگر بھوک ہڑتال کے طریقۂ کار یا منصوبے میں کوئی تبدیلی ہوتی ہے تو پہلے پولیس کو اطلاع دینی ہوگی۔
جالنا کے ضلع مجسٹریٹ کی جانب سے نافذ کیے گئے اجتماع پر پابندی اور اسلحہ رکھنے پر پابندی کے احکامات پر سختی سے عمل کرنا ہوگا۔ بھوک ہڑتال کے مقام پر بجلی کی فراہمی متاثر نہ ہو، اس کے لیے منتظمین کو جنریٹر کا انتظام کرنا ہوگا۔ تحریک کے دوران قانونی نظم و نسق کی صورتحال خراب نہ ہو، اس کا مکمل خیال رکھنا ہوگا۔ کسی بھی ذات، مذہب یا برادری کے جذبات مجروح نہیں ہونے چاہئیں۔ اسٹیج سے کوئی بھی اشتعال انگیز یا اکسانے والی تقریر نہیں کی جانی چاہیے۔ بھوک ہڑتال کے مقام اور اس کے آس پاس آتش گیر اشیا کا استعمال نہیں ہونا چاہیے۔ سپریم کورٹ اور بامبے ہائی کورٹ کی ممبئی اور اورنگ آباد بنچوں کی جانب سے مختلف عرضیوں میں دی گئی ہدایات کی خلاف ورزی نہیں ہونی چاہیے۔
اس نوٹ پر منوج جرانگے پاٹل نے جواب دیا ہے۔ انہوں نے لکھا ہے کہ ان کا احتجاج پر امن ہوگا۔ انترولی میں یہ غیر معینہ مدت کی بھوک ہڑتال گزشتہ 3 برسوں سے جمہوری اور پرامن طریقے سے جاری ہے اور آئندہ بھی پرامن ہی رہے گی۔ منوج جرانگے نے لکھا کہ حکومت ہی قوانین کی خلاف ورزی کرتی ہے اور پولیس فورس کا استعمال کرکے مراٹھا برادری پر ظلم کرتی ہے، جیسا کہ پہلے کی تحریکوں میں ہوا ہے۔ اگر کوئی بھی نامناسب واقعہ پیش آتا ہے تو اس کی مکمل ذمہ داری حکومت کی ہوگی۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔