کھڑگے کے اسٹیج کا ’شدھی کرن‘ کرنے والوں کے خلاف ایف آئی آر کا حکم دیں وزیر اعظم: راہل گاندھی
راہل گاندھی نے ہلدوانی کے واقعے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ’’جب کانگریس کے قومی صدر کے ساتھ اس طرح کا واقعہ ہو سکتا ہے تو عام لوگوں کے خلاف بھی ایسے واقعات ہوتے ہوں گے۔‘‘

لوک سبھا میں حزب اختلاف کے قائد اور کانگریس رہنما راہل گاندھی نے ہفتہ کو پریس کانفرنس کرتے ہوئے بی جے پی اور آر ایس ایس کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے پارٹی صدر ملکارجن کھڑگے کے ہلدوانی دورے کا ذکر کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ ان کی تقریر والی جگہ پر ’شدھی کرن‘ کیا گیا تھا۔ انہوں نے اس معاملے میں کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ راہل گاندھی نے کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ہلدوانی کے رام لیلا میدان میں جہاں انہوں نے تقریر کی تھی، وہاں ’شدھی کرن‘ کیا گیا۔ ان کا کہنا ہے کہ اس معاملے میں وزیر اعظم مداخلت کریں اور ایف آئی آر درج کرنے کا حکم دیں۔
راہل گاندھی نے ہلدوانی کے واقعے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ’’جب کانگریس کے قومی صدر کے ساتھ اس طرح کا واقعہ ہو سکتا ہے تو عام لوگوں کے خلاف بھی ایسے واقعات ہوتے ہوں گے۔‘‘ ان کا مطالبہ ہے کہ اس معاملے میں جلد از جلد کارروائی کی جائے۔ قائد حزب اختلاف نے کہا کہ ’’شدھی کرن دراصل چھوا چھوت ہی کا دوسرا نام ہے اور اسی لیے آئین میں اسے غیر قانونی قرار دیا گیا ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ اس طرح کی رسم کے ذریعے دلتوں کو ناپاک قرار دیا جاتا ہے۔ انہوں نے اسے غیر آئینی قرار دیتے ہوئے کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔
راہل گاندھی نے کہا کہ گاؤں کے ساتھ ساتھ شہروں میں بھی دلتوں کے ساتھ امتیازی سلوک ہوتا ہے۔ انہوں نے کنویں سے پانی لینے پر پابندی اور چائے کی دکانوں پر الگ الگ کپ دیے جانے کی مثال دی۔ انہوں نے راجستھان اور اتراکھنڈ کا ذکر کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ راجستھان میں سی ایل پی لیڈر کے مندر جانے کے بعد مندر کا ’شدھی کرن‘ کیا گیا تھا۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ ملک کے مختلف حصوں میں آج بھی دلتوں کے ساتھ امتیازی سلوک کیا جاتا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ آئین نے ’چھوا چھوت‘ کو غیر قانونی قرار دیا ہے، لیکن پھر بھی کئی جگہ دلت بچوں سے اسکولوں میں بیت الخلاء صاف کرانے اور جھاڑو-پونچھا کرانے جیسے واقعات سامنے آتے ہیں۔ راہل گاندھی نے بی جے پی اور آر ایس ایس کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ جب کسی کے مندر جانے کے بعد ’شدھی کرن‘ کیا جاتا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ اس شخص کو اچھوت یا ناپاک سمجھا جا رہا ہے۔
