’لینڈے ندی پر واقع جھیل کبھی بھی پھٹ سکتی ہے‘، چین نے سیلاب متاثرہ نیپال کو جاری کی وارننگ

چین کے مطابق جھیل کے پانی کا رنگ مسلسل گہرا ہوتا جا رہا ہے، جسے خطرے کی علامت سمجھا جا رہا ہے۔ جھیل ٹوٹنے کی صورت میں دریا میں پانی کا بہاؤ زیادہ سے زیادہ 500 کیوبک میٹر فی سیکنڈ تک پہنچ سکتا ہے۔

<div class="paragraphs"><p>نیپال میں سیلاب کی تباہی کا منظر، تصویر یو این آئی</p></div>
i

نیپال سیلاب کی تباہی کے درمیان ایک نیا خطرہ سر اٹھا رہا ہے۔ چین نے نیپال کو خبردار کیا ہے کہ لینڈے ندی کے بالائی حصے میں بنی جھیل کسی بھی وقت ٹوٹ سکتی ہے۔ چین کے مطابق جھیل کے پانی کا رنگ مسلسل گہرا ہوتا جا رہا ہے، جسے خطرے کی علامت سمجھا جا رہا ہے۔ جھیل ٹوٹنے کی صورت میں دریا میں پانی کا بہاؤ زیادہ سے زیادہ 500 کیوبک میٹر فی سیکنڈ تک پہنچ سکتا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق چین نے یہ اطلاع نیپال کی وزارت خارجہ کے ساتھ شیئر کی ہیں۔ پیغام میں بتایا گیا ہے کہ جھیل کا رنگ مسلسل گہرا ہوتا جا رہا ہے۔ چین کے مطابق یہ اس بات کی علامت ہو سکتی ہے کہ جھیل کسی بھی وقت ٹوٹ سکتی ہے۔

یہ جھیل اسی ہفتے نیپال اور تبت میں آنے والے خطرناک ’فلیش فلڈ‘ کے بعد بنی ہے۔ گلیشیئر ٹوٹنے سے کافی ملبہ نیچے آیا تھا۔ اسی ملبے سے ندی کا راستہ رک گیا، جس سے وہاں ایک قدرتی بند بن گیا۔ اس کے پیچھے پانی جمع ہونے سے جھیل بن گئی۔ یہ جھیل چین کی جانب چوچین ندی اور نیپال کی جانب پیورے پو ندی کے سنگم کے قریب بنی ہے۔ چین کی وزارت آبی وسائل کے مطابق جھیل میں آبی سطح مسلسل بڑھ رہی ہے۔ جمعہ تک اس میں تقریباً 25 لاکھ کیوبک میٹر پانی جمع ہو چکا تھا۔ خطرے کے پیش نظر چین نے نشیبی علاقوں میں رہنے والے لوگوں کو محتاط رہنے کے لیے کہا ہے، جبکہ ڈرون اور سیٹلائٹ کے ذریعے پورے علاقے پر نظر رکھی جا رہی ہے۔


رپورٹس کے مطابق چین نے یہ جاننے کے لیے سیلاب کا ماڈل بھی تیار کیا ہے کہ جھیل ٹوٹنے کی صورت میں کتنا اثر پڑ سکتا ہے۔ اندازے کے مطابق ایسی صورتحال میں دریائی نظام میں پانی کا زیادہ سے زیادہ بہاؤ 500 کیوبک میٹر فی سیکنڈ تک پہنچ سکتا ہے۔ ایسے میں چین کا کہنا ہے کہ اگر قدرتی بند کا کچھ حصہ ٹوٹ بھی جاتا ہے، تب بھی پانی دریا کے کناروں کے اندر ہی رہے گا۔ یعنی آبی سطح اچانک بڑھ سکتی ہے، لیکن بڑے پیمانے پر دریا کے باہر پھیلنے کا امکان کم بتایا گیا ہے۔

چین کے مطابق جمعہ کے روز جھیل کا پانی لینڈے میں کھولا اور تریشولی ندی میں بہنا شروع ہو گیا تھا۔ دوپہر تک وہاں پیدا ہونے والے خطرے کو قابو میں سمجھا گیا۔ پھر بھی نیپال میں تشویش برقرار ہے۔ بدھ کے روز آنے والے فلیش فلڈ میں اب تک 626 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ تبت میں بھی 7 افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہوئی ہے۔ نیپال ابھی حالیہ سیلاب کی بھیانک تباہی اور اس کے زخموں سے سنبھل ہی رہا ہے۔ ایسے میں لینڈے دریا کے بالائی حصے میں بنی یہ جھیل انتظامیہ کے لیے نئی پریشانی بن گئی ہے، کیونکہ اگر اس کا بند ٹوٹ گیا تو نشیبی علاقوں میں ایک بار پھر تباہی مچ سکتی ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔