وزیر اعلیٰ مغربی بنگال ممتا بنرجی / آئی اے این ایس
نئی دہلی: سپریم کورٹ آج مغربی بنگال میں جاری خصوصی گہری نظرثانی یعنی ایس آئی آر کے عمل کے خلاف وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کی عرضی پر سماعت کرے گا۔ ایل ایل بی کی ڈگری رکھنے والی ممتا بنرجی اس اہم سماعت کے دوران خود عدالت میں موجود رہ سکتی ہیں۔ ترنمول کانگریس نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ شیئر کی ہے جس میں ممتا بنرجی کو فائلوں کے ساتھ سپریم کورٹ کی جانب جاتے ہوئے دکھایا گیا ہے اور انہیں عوام کی وکیل قرار دیا گیا ہے۔
Published: undefined
ممتا بنرجی نے 28 جنوری کو الیکشن کمیشن اور مغربی بنگال کے چیف الیکٹورل افسر کے خلاف عرضی داخل کی تھی۔ ان کا الزام ہے کہ ووٹر لسٹ میں مبینہ منطقی تضادات کے نام پر تقریباً ایک کروڑ پچیس لاکھ رائے دہندگان کے نام کاٹنے کی کوشش کی جا رہی ہے، جو بڑے پیمانے پر عوام کو حق رائے دہی سے محروم کرنے کے مترادف ہے۔ انہوں نے اس عمل کو غیر جمہوری اور خامیوں سے پُر قرار دیا ہے۔
Published: undefined
چیف جسٹس سوریہ کانت کی سربراہی میں تین رکنی بنچ اس معاملے کی سماعت کرے گی۔ اس سے قبل 19 جنوری کو عدالت عظمیٰ نے الیکشن کمیشن کو ہدایت دی تھی کہ نظرثانی کا عمل شفاف ہو اور عام شہریوں کو کسی قسم کی پریشانی نہ ہو۔ عدالت نے تضادات والی فہرست کو گرام پنچایت اور بلاک دفاتر میں نمایاں طور پر آویزاں کرنے کا بھی حکم دیا تھا تاکہ عوام کو معلومات حاصل ہو سکیں۔
Published: undefined
ترنمول کانگریس کے رکن پارلیمنٹ ڈیرک او برائن نے بھی الزام لگایا ہے کہ کمیشن باضابطہ تحریری ہدایات کے بجائے واٹس ایپ جیسے غیر رسمی ذرائع سے زمینی افسران کو احکامات دے رہا ہے۔ ان کے مطابق یہ طریقہ کار انتخابی عمل کی شفافیت پر سوال کھڑا کرتا ہے۔
سیاسی حلقوں میں اس سماعت کو مغربی بنگال کی آئندہ سیاست اور آنے والے انتخابات کی غیر جانبداری کے تناظر میں انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔ عدالت کا فیصلہ نہ صرف ووٹر لسٹ کی نظرثانی کے عمل بلکہ ریاست میں انتخابی ماحول پر بھی گہرے اثرات مرتب کر سکتا ہے۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined