ممتا بنرجی کی ایس آئی آر کے خلاف سپریم کورٹ میں عرضی، الیکشن کمیشن اور ریاستی چیف الیکشن آفیسر کو بنایا فریق

مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے خصوصی گہری نظرثانی یعنی ایس آئی آر کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا ہے، الیکشن کمیشن پر جانبداری کا الزام عائد کرتے ہوئے فوری عدالتی مداخلت کی مانگ کی گئی ہے

<div class="paragraphs"><p>ممتا بنرجی / آئی اے این ایس</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

مغربی بنگال میں ووٹر فہرست کی خصوصی گہری نظرثانی یعنی ایس آئی آر کے معاملے پر سیاسی تنازعہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے۔ وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے اس عمل کو غیر منصفانہ اور جمہوری اقدار کے منافی قرار دیتے ہوئے سپریم کورٹ میں عرضی داخل کر دی ہے۔ اس عرضی میں الیکشن کمیشن اور ریاستی چیف الیکشن آفیسر کو فریق بنایا گیا ہے۔

ممتا بنرجی کی جانب سے دائر کی گئی عرضی میں ریاست میں جاری ایس آئی آر کے طریقۂ کار پر سنجیدہ سوالات اٹھائے گئے ہیں اور اسے انتخابی عمل کو متاثر کرنے کی کوشش قرار دیا گیا ہے۔ عرضی میں کہا گیا ہے کہ ایک ایسا آئینی ادارہ جس سے غیر جانبداری اور شفافیت کی امید کی جاتی ہے، اس کا اس طرح کا طرز عمل کسی بھی جمہوری سماج کے لیے تشویش ناک ہے۔

ممتا بنرجی نے الیکشن کمیشن پر سیاسی جانبداری اور تانا شاہی رویہ اپنانے کا الزام عائد کرتے ہوئے عدالت عظمیٰ سے فوری مداخلت اور مناسب ہدایات جاری کرنے کی درخواست کی ہے، تاکہ ووٹروں کے حقوق اور انتخابی نظام کی ساکھ کو محفوظ رکھا جا سکے۔


وزیر اعلیٰ اس معاملے پر پہلے بھی کھل کر اپنے تحفظات ظاہر کر چکی ہیں اور اس سلسلے میں چیف الیکشن کمشنر کو متعدد خطوط لکھے جا چکے ہیں۔ تازہ ترین خط میں ان کے لہجے کو خاصا سخت اور دو ٹوک بتایا جا رہا ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ ایس آئی آر کے نام پر عام ووٹروں کو ہراساں کیا جا رہا ہے اور اس سے انتخابی فہرستوں میں بڑے پیمانے پر بے ضابطگیوں کا اندیشہ پیدا ہو سکتا ہے۔

اسی تناظر میں پیر کے روز ممتا بنرجی نئی دہلی میں الیکشن کمیشن کے ہیڈکوارٹر میں چیف الیکشن کمشنر سے ملاقات بھی کریں گی۔ ان کے دورۂ دہلی کا مقصد نہ صرف ایس آئی آر کے خلاف اپنا مؤقف براہ راست رکھنا ہے بلکہ اس معاملے پر اپوزیشن جماعتوں کے درمیان وسیع تر اتفاق رائے پیدا کرنا بھی ہے۔

بتایا جا رہا ہے کہ بجٹ اجلاس کے باعث قومی راجدھانی میں موجود اپوزیشن کے سرکردہ رہنماؤں سے بھی وہ ملاقاتیں کر سکتی ہیں۔ ترنمول کانگریس کے اندرونی ذرائع کے مطابق وزیر اعلیٰ نے جان بوجھ کر اپنے دورے کے لیے یہی وقت منتخب کیا ہے تاکہ قومی سطح پر اس مسئلے کو زیادہ مؤثر انداز میں اٹھایا جا سکے۔ اگرچہ ان کی واپسی کی حتمی تاریخ طے نہیں ہوئی، تاہم امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ وہ پانچ فروری سے قبل کولکاتا واپس لوٹ آئیں گی۔ سپریم کورٹ میں دائر عرضی اور الیکشن کمیشن سے ہونے والی ملاقات کے بعد اس معاملے پر سیاسی اور آئینی سطح پر سرگرمیوں میں مزید تیزی آنے کی توقع ہے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔