قومی خبریں

ای ڈی کی بڑی کارروائی، ریلوے گھوٹالے میں شامل افراد اور کمپنیوں کی جائیداد ضبط، مقدمہ درج، تحقیقات شروع

ای ڈی کو تحقیقات کے دوران پتہ چلا کہ اس گھوٹالے کے ذریعہ بڑی تعداد میں ریلوے فنڈ کا غلط استعمال کیا گیا۔ اس میں کئی وکلاء اور پرائیویٹ کمپنیوں کی ملی بھگت بھی سامنے آئی ہے۔

ای ڈی، تصویر آئی اے این ایس
ای ڈی، تصویر آئی اے این ایس 

انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) پٹنہ نے ریلوے کلیمز ٹریبونل (آر سی ٹی) گھوٹالے میں بڑی کارروائی کرتے ہوئے 8.02 کروڑ روپے کی 24 غیر منقولہ جائیدادوں کو عارضی طور بر ضبط کیا ہے۔ یہ کارروائی منی لانڈرنگ کی روک تھام ایکٹ (پی ایم ایل اے) کے تحت کی گئی ہے۔ ای ڈی نے اس گھوٹالے میں شامل مختلف افراد اور کمپنیوں کی جائیدادیں ضبط کرنے کے ساتھ ساتھ ان کے خلاف مقدمہ بھی درج کر لیا ہے۔

Published: undefined

ای ڈی نے اس گھوٹالے میں شامل ایڈووکیٹ ودیانند سنگھ، ایڈووکیٹ پرمانند سنہا، ایڈووکیٹ کماری رنکی سنہا، ارچنا سنہا، وجے کمار، نرملا کماری اور میسرز ہریجگ بزنس اینڈ ڈویلپمنٹ پرائیویٹ لمیٹڈ کی جائیدادوں کو ضبط کرنے کے ساتھ ساتھ ان کے خلاف مقدمہ بھی درج کیا ہے۔ 21 مارچ 2025 کو پٹنہ کی خصوصی عدالت (پی ایم ایل اے) میں استغاثہ کی شکایت (پی سی) درج کی گئی جسے عدالت نے قبول کر لیا ہے۔ اب ای ڈی معاملے کی مزید گہرائی سے تحقیقات کر رہی ہے۔

Published: undefined

تحقیقاتی ایجنسیوں کے مطابق آر سی ٹی کا بنیادی کام ریلوے سے متعلق دعووں اور معاوضے کے مقدمات کو نمٹانا ہے۔ اس گھوٹالے میں کچھ وکلاء اور پرائیویٹ تنظیموں نے مل کر غیر قانونی طریقے سے معاوضے کی رقم کو حاصل کرنے کے لیے فرضی دعوے پیش کیے۔ ان فرضی دعووں سے حاصل رقم سے بے نامی جائیدادوں میں سرمایہ کاری کی گئی جس سے منی لانڈرنگ کا معاملہ بن گیا۔

Published: undefined

قابل ذکر ہے کہ ای ڈی کو تحقیقات کے دوران پتہ چلا تھا کہ اس گھوٹالے کے ذریعہ بڑی تعداد میں ریلوے فنڈ کا غلط استعمال کیا گیا ہے۔ اس میں کئی وکلاء اور پرائیویٹ کمپنیوں کی ملی بھگت بھی سامنے آئی ہے۔ ای ڈی کے افسران کا کہنا ہے کہ ملزمان نے منی لانڈرنگ کے ذریعہ کروڑوں روپے کی جائیداد بنائی۔ ای ڈی نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ اگر ضرورت پڑی تو مزید جائیدادیں بھی ضبط کی جائیں گی۔ اس معاملے میں عدالت کی اگلی سماعت پر سب کی نگاہیں مرکوز ہیں۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined