اولا، اوبر اور ریپیڈو ڈرائیور کی ملک گیر ہڑتال، مطالبات پر مشتمل خط حکومت کو ارسال
سوشل میڈیا پر اعلان کیا گیا کہ 7 فروری کو پورے ملک میں ڈرائیور کام بند رکھیں گے۔ ڈرائیوروں کا کہنا ہے کہ ان کے لیے نہ تو کوئی کرایہ طے ہے اور نہ ہی کوئی اصول ہے، صرف ان کا استحصال کیا جارہا ہے۔

کرایہ اورٓاصول طے کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے اولا، اوبراور ریپیڈو کمپنیوں کے ڈرائیوروں نے ہفتہ کو ملک گیر ہڑتال کردی۔ ڈرائیوروں نے اسے ’آل انڈیا بریک ڈاؤن‘ کا نام دیا ہے۔ اس دوران وہ اپنے موبائل ایپ بند رکھیں گے۔ جس کی وجہ سے لوگوں کو کیب، آٹو یا بائیک ٹیکسی ملنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔
اس ہڑتال کا اعلان تلنگانہ گگ ورکرس یونین اور دیگر تنظیموں نے مشترکہ طور پر کیا ہے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر اعلان کیا کہ 7 فروری کو پورے ملک میں ڈرائیور کام بند رکھیں گے۔ ان کا کہنا ہے کہ ڈرائیوروں کے لیے نہ تو کوئی کرایہ طے ہے اور نہ ہی کوئی اصول ہے، صرف ان کا استحصال کیا جارہا ہے۔
یونین نے مرکزی وزیر ٹرانسپورٹ نتن گڈکری کو خط لکھ کراپنی شکایات سے واقف کرانے کی کوشش کی ہے۔ ڈرائوروں کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے کرائے کا تعین نہ ہونے کی وجہ سے کمپنیاں اپنی مرضی سے پیسے کاٹتی ہیں۔ اس وجہ سے ڈرائیوروں کے لیے زندگی گزارنا مشکل ہو گیا ہے اور انھیں اپنی کمائی کا کوئی بھروسہ نہیں رہ گیا ہے۔
یونین نے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت آٹو، ٹیکسی اور بائیک ٹیکسی کے لیے فوری طور پر کم از کم کرایہ مقرر کرے اور یہ فیصلہ ڈرائیوروں سے مشاورت کے بعد ہی کیا جائے۔ انہوں نے پرائیویٹ ( سفید نمبر پلیٹ) کے کمرشل استعمال پر پوری طرح پابندی لگانے یا انہیں کمرشل کیٹیگری میں تبدیل کرنے کی بات کہی ہے۔ اس کے علاوہ یونین چاہتی ہے کہ حکومت ان کمپنیوں پر کڑی نظر رکھے تاکہ ان کی من مانی کو روکا جا سکے اور ڈرائیوروں کو استحصال سے بچایا جاسکے۔ اس دوران ہڑتال کی وجہ سے لوگوں کو آمدورفت میں کافی پریشانی کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔ کچھ شہروں میں اس کا اثر ہلکا اور دوسروں میں زیادہ ہو سکتا ہے-
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔