
فائل تصویر آئی اے این ایس
مرکزی تفتیشی ایجنسی (سی بی آئی) کے سابق ڈائریکٹرایم ناگیشور راؤ نے پریاگ راج ماگھ میلے میں تنازعہ کا مرکز رہے سری ودیا مٹھ کا دورہ کیا جہاں انہوں نے شنکراچاریہ سوامی اویمکتیشورانند سے تقریباً 25 منٹ تک بند کمرے میں ملاقات کی۔ شروع میں اسے گرو اور شاگرد کی روایت سے متعلق ایک معمول کی ملاقات بتایا گیا مگر بعد میں اس ملاقات کی اصل وجہ سامنے آئی تو معاملہ ایک بار پھر سرخیوں میں آ گیا۔
Published: undefined
خبروں کے مطابق ریٹائرمنٹ کے بعد ایم ناگیشور راؤ اپنے کچھ ریٹائرڈ سینئر افسران اور صحافی ساتھیوں کے ساتھ سول سوسائٹی کی ایک تنظیم سے وابستہ ہیں۔ یہ تنظیم رواں سال کے اوائل میں پریاگ راج کے ماگھ میلے میں مونی اماوسیہ کے دن ہوئے تنازعہ اور اس سے متعلق پورے معاملے کی آزادانہ تحقیقات کر رہی ہے۔ اسی تحقیقات کے سلسلے میں ایم ناگیشور راؤ نے سوامی ایویمکتیشورانند سے ملاقات کر کے تفصیلی بات چیت کی۔
Published: undefined
بتایا جا رہا ہے کہ یہ پوری تحقیقات کئی پہلوؤں پر مرکوز ہے جیسے 18 جنوری 2026 کو مونی اماواسیہ کے دن حالات کیا تھے، شنکراچاریہ کی روایتی پالکی یاترا کو کیوں روکا گیا، پولیس اور انتظامیہ کا کیا کردار رہا اور کس بات پر کہا سنی نے بڑے تنازعہ کی شکل اختیار کی وغیرہ۔ ٹیم یہ بھی سمجھنے کی کوشش کر رہی ہے کہ روایت اور انتظامی فیصلوں کے درمیان ٹکراؤ کے حالات کیوں پیدا ہوئے۔
Published: undefined
اطلاعات کے مطابق ایم ناگیشور راؤ کی ٹیم نے اس پورے معاملے میں پریاگ راج انتظامیہ سے پالکی یاترا کی اجازت، سوامی اویمکتیشورانند کو جاری کئے گئے نوٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے بارے میں معلومات مانگی ہیں۔ اس کے ساتھ ہی ٹیم اس دن موقع پر موجود رہے صحافیوں،پولیس افسران اور عینی شاہدین سے بھی بات کرنے کی تیاری کررہی ہے۔
Published: undefined
ذرائع یہ بھی بتاتے ہیں کہ سوامی اویمکتیشورانند کے خلاف درج ایف آئی آر اور جنسی استحصال کے الزامات کے حوالے سے غیر جانبدارانہ تحقیقات کی جا رہی ہیں تاکہ معاملے کی حقیقت سامنے آسکے۔ ناگیشور راؤ جیسے تجربہ کار سابق بیوروکریٹ اور سینئر صحافیوں کے ذریعہ تیار کی جارہی اس تحقیقاتی رپورٹ کو عام کیا جائے گا جس سے عام لوگ بھی ماگھ میلہ تنازعہ اور اس سے جڑے تمام پہلوؤں کو سمجھ سکیں گے۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined
تصویر: اسکرین شاٹ