
لوک سبھا میں راہل گاندھی / ویڈیو گریب
نئی دہلی: پارلیمنٹ میں بجٹ اجلاس جاری ہے اور آج لوک سبھا میں صدرِ جمہوریہ دروپدی مرمو کے خطاب پر شکریہ کی تحریک پر بحث کے دوران اس وقت زبردست ہنگامہ کھڑا ہو گیا جب قائدِ حزبِ اختلاف راہل گاندھی نے ڈوکلام میں چینی دراندازی کا مسئلہ اٹھایا۔ راہل گاندھی جیسے ہی اس موضوع پر بات کرنے لگے، ایوان کا ماحول گرم ہو گیا اور حکمراں جماعت کے اراکین نے سخت اعتراض شروع کر دیا۔
Published: undefined
اس دوران وزیر دفاع راجناتھ سنگھ اور وزیر داخلہ امت شاہ بھی اپنی نشستوں سے کھڑے ہو گئے اور راہل گاندھی کے دعوؤں کی مخالفت کی۔ ہنگامہ اس قدر بڑھا کہ تقریباً 45 منٹ تک کارروائی متاثر رہی اور بالآخر لوک سبھا کی کارروائی ملتوی کرنا پڑی۔
اس معاملہ پر کانگریس نے سخت ردعمل جاری کیا ہے۔ پارٹی نے کہا کہ بی جے پی دہشت گردی سے لڑنے کی بات کرتی ہے مگر ایک اقتباس سے خوف زدہ ہو جاتی ہے۔ کانگریس کے مطابق اصل سوال یہ ہے کہ جنرل نرونے کی کتاب میں ایسا کیا لکھا ہے جس سے مودی حکومت اتنی پریشان ہو گئی کہ راہل گاندھی کو اسے پڑھنے تک نہیں دیا گیا۔ پارٹی نے الزام لگایا کہ لوک سبھا میں قائدِ حزبِ اختلاف کو اپنی بات رکھنے سے روکنا جمہوری روایت کے خلاف ہے اور حکومت ایک بار پھر غیر آرام دہ سوالات سے بچنے کی کوشش کر رہی ہے۔
Published: undefined
خیال رہے کہ راہل گاندھی نے سابق فوجی سربراہ منوج مکند نرونے کی کتاب ’فور اسٹار آف ڈیسٹنی‘ کا ذکر کرتے ہوئے اپنی بات رکھنی شروع کی لیکن وزیر دفاع راجناتھ سنگھ نے اعتراض ظاہر کیا کہ وہ کتاب شائع نہیں ہوئی ہے لہذا اس کا حوالہ نہیں دیا جا سکتا۔ اس پر راہل گاندھی نے الزام عائد کیا کہ حکومت نے اس کتاب کو شائع کرنے پر پابندی عائد کر دی ہے، تاہم انہوں نے ایک میگزین کے کوٹ (اقتباس) کا حوالہ دیا اور کہا کہ ڈوکلام سے متعلق اہم حقائق کو دبانے کی کوشش کی جا رہی ہے اور سچ کو سامنے آنے سے روکا جا رہا ہے۔
راجناتھ سنگھ نے فوراً مداخلت کرتے ہوئے کہا کہ اتنے سنگین الزامات بغیر مستند ثبوت کے نہیں لگائے جا سکتے اور پھر واضح کیا کہ مذکورہ کتاب شائع نہیں ہوئی ہے۔ بعد ازاں امت شاہ نے بھی اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ جو کتاب شائع ہی نہیں ہوئی، اس کا حوالہ ایوان میں کیسے دیا جا سکتا ہے۔
Published: undefined
انہوں نے یہ الزام بھی لگایا کہ میگزین کی کتاب میں حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا ہے۔ وزیر داخلہ نے بی جے پی رکنِ پارلیمان تیجسوی سوریہ کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اپوزیشن کی حب الوطنی پر کوئی سوال نہیں اٹھایا، جبکہ راہل گاندھی نے اس کے برعکس الزام لگایا تھا۔
اس پورے تنازعہ کے دوران لوک سبھا اسپیکر اوم برلا نے واضح کیا کہ پارلیمانی قواعد کے تحت کسی بھی غیر شائع شدہ کتاب یا اخبار کا حوالہ ایوان میں نہیں دیا جا سکتا، بلکہ شائع شدہ کتاب کو پڑھ کر یا اس کا اقتباس پیش کرنا بھی قواعد کے خلاف ہے۔ اسپیکر نے کہا کہ اس بارے میں پہلے ہی تمام اراکین کو ہدایات دی جا چکی ہیں۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined