قومی خبریں

جنتر منتر کی پکار سنیے!... اے جے فلپ

احتجاجی مظاہرہ کوئی مل جل کر وقت گزارنے والا جماؤڑا نہیں ہوتا۔ یہ عدم اتفاق کا عوامی اعلان ہے جس کا مقصد اقتدار کی توجہ اپنی طرف مبذول کرنا ہوتا ہے۔

<div class="paragraphs"><p>جنتر منتر، گرافکس ’ایکس‘</p></div>

جنتر منتر، گرافکس ’ایکس‘

 

60 سال سے بھی پہلے، جب میں کیرالہ کے پتھنم تھٹا میں اسکول کا طالب علم تھا، ایک بزرگ نے احتجاج کو اپنا معمول بنا لیا تھا۔ ہر کام کے دن وہ تعلقہ دفتر کے دروازے کے قریب اپنا چھوٹا سا تہہ ہونے والا خیمہ لگاتے اور بیٹھ جاتے۔ وہ ایک ایسے مقصد کے لیے لڑ رہے تھے جسے وہ جائز سمجھتے تھے۔ وہ ایک معالج تھے اور ان کا مطالبہ تھا کہ حکومت ہر قسم کی نان ویج غذا پر پابندی عائد کرے۔ سینکڑوں دن تک ان کی تحریک جاری رہی۔ آخرکار ان کا انتقال ہو گیا اور اسی کے ساتھ ان کا دھرنا بھی ختم ہو گیا۔ اسکول جاتے وقت میں انہیں تقریباً ہر روز دیکھتا تھا۔ ایک بچے کی حیثیت سے میں ان کے مطالبے کی منطق نہیں سمجھ پاتا تھا۔ وہ مطالبہ اگر پوری طرح ناقابل عمل نہیں تو کم از کم غیر منطقی ضرور معلوم ہوتا تھا۔ اس کے باوجود کسی نے ان کے پُرامن احتجاج کے حق پر سوال نہیں اٹھایا۔

بچپن کی وہ یاد اس وقت تازہ ہو گئی جب میں لندن گیا۔ جن مقامات کو میں سب سے پہلے دیکھنا چاہتا تھا، ان میں ہائیڈ پارک اور خاص طور پر اس کا ’اسپیکرز کارنر‘ شامل تھا، جہاں روایتی طور پر لوگ کسی بھی موضوع پر اپنے خیالات کا اظہار کرنے کے لیے جمع ہوتے رہے ہیں۔ مجھے یاد آیا کہ جارج برنارڈ شا نے اپنے خیالات کی تشہیر اور روایتی سوچ کو چیلنج کرنے کے لیے اس پارک میں عوامی تقریر کی روایت کا استعمال کیا تھا۔ اسپیکرز کارنر ایک طویل عرصے سے پختہ یقین، غیر معمولی نظریات اور کبھی کبھی عجیب و غریب عقائد رکھنے والے لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کرتا رہا ہے۔ کسی کی بات سے اتفاق کیے بغیر بھی اس کے بولنے کے حق کا احترام کیا جا سکتا ہے۔

اس کے بعد میں نے واشنگٹن ڈی سی، برلن اور پیرس میں عوامی مظاہروں سے وابستہ مقامات کا دورہ کیا۔ ہر شہر میں عوامی زندگی میں احتجاج کی واضح موجودگی دکھائی دیتی ہے۔ ماحولیاتی کارکنوں اور ویج (سبزی پر مشتمل) غذا کے حامیوں سے لے کر ہم جنس پرستوں کے حقوق کے کارکنوں اور سیاسی مخالفین تک، لوگ اپنے مطالبات اٹھانے کے لیے عوامی مقامات کا رخ کرتے ہیں۔ کچھ لوگ حکومتوں کے خلاف مظاہرہ کرتے ہیں تو کچھ سماجی برائیوں، معاشی پالیسیوں یا بین الاقوامی واقعات کے خلاف۔

جس بات نے مجھے سب سے زیادہ متاثر کیا، وہ یہ تھی کہ احتجاج کے یہ مقامات کسی گمنام گوشے میں چھپائے نہیں گئے تھے۔ وہ اکثر نمایاں مقامات پر واقع تھے اور کئی بار تو ان اداروں کی براہ راست نظروں کے سامنے تھے جن پر اثر انداز ہونا ان مظاہروں کا مقصد تھا۔ واشنگٹن میں لافایٹ اسکوائر، وائٹ ہاؤس کے بالکل سامنے، پنسلوانیا ایونیو کی دوسری جانب واقع ہے۔ یہ مقامات اب سیاحتی دوروں کا بھی حصہ بن چکے ہیں۔ سیاح صرف یادگاروں اور عمارتوں کو دیکھنے نہیں آتے، بلکہ ان مقامات کو بھی دیکھنے آتے ہیں جہاں شہریوں نے اپنے حقوق کا مطالبہ کیا ہے۔

دہلی کا احتجاجی مظاہروں کے ساتھ تعلق کہیں زیادہ پیچیدہ رہا ہے۔ برسوں تک انڈیا گیٹ کے قریب بوٹ کلب کے سبزہ زار مظاہروں اور عوامی اجتماعات کے لیے پسندیدہ مقام ہوا کرتے تھے۔ یہ ایک مثالی جگہ تھی۔ یہ شہر کے مرکز میں واقع تھی، یہاں پہنچنا آسان تھا اور یہ حکومتی اقتدار کے اداروں کے انتہائی قریب تھی۔ وہاں جمع ہونے والے کسی بڑے ہجوم کو نہ تو حکمراں نظر انداز کر سکتے تھے اور نہ ہی عام لوگ۔

1988 میں مہندر سنگھ ٹکیت کی قیادت میں کسانوں کے ایک بڑے اجتماع نے اس صورت حال کو پوری طرح بدل دیا۔ دسیوں ہزار کسان بوٹ کلب کے علاقے میں جمع ہو گئے، جس سے راجدھانی کی زندگی ٹھہر سی گئی اور حکومت کو یہ سوچنے پر مجبور ہونا پڑا کہ کیا شہر کے عین وسط میں اتنے بڑے مظاہروں کی اجازت دی جانی چاہیے۔ آخرکار حکومت نے جنتر منتر کو احتجاج کے باضابطہ مقام کے طور پر مقرر کر دیا۔ 1990 کی دہائی کے اوائل تک یہ ایسی جگہ کے طور پر ابھر چکا تھا جہاں شہری اپنی شکایات درج کرانے کے لیے جمع ہو سکتے تھے۔ اس انتظام کا ایک واضح انتظامی فائدہ تھا۔ پولیس محدود داخلی راستوں کے ذریعے مظاہرین کی آمد و رفت کو کنٹرول کر سکتی تھی، جس سے ہجوم کو سنبھالنا آسان ہو جاتا تھا۔ 3 دہائیوں سے زیادہ عرصے تک اس انتظام نے دونوں فریقوں کے کام کو بخوبی سنبھالا۔ مظاہرین پارلیمنٹ، سرکاری دفاتر اور وزیروں و اعلیٰ افسران کی رہائش گاہوں کے مناسب فاصلے پر جمع ہو سکتے تھے۔ دوسری طرف اقتدار میں بیٹھے لوگ مظاہروں پر نظر رکھ سکتے تھے اور انہیں قابو میں رکھ سکتے تھے۔ مظاہرین کو یہ نفسیاتی اطمینان حاصل رہتا تھا کہ وہ ان لوگوں کے قریب ہیں جن کا وہ سامنا کرنا چاہتے ہیں، جبکہ انتظامیہ خود کو یہ تسلی دے سکتی تھی کہ عدم اطمینان کو پوری راجدھانی میں پھیلانے کے بجائے ایک ہی جگہ سمیٹا جا رہا ہے۔

جنتر منتر آہستہ آہستہ دہلی کے ایک قطعۂ زمین سے کہیں بڑھ کر بن گیا۔ اس نے ملک کے جمہوری شعور میں اپنی جگہ بنا لی۔ کسان، طلبہ، مزدور، سرکاری ملازمین، سماجی کارکن اور حاشیے پر موجود طبقات کے نمائندے انصاف کا مطالبہ لے کر وہاں جمع ہوتے رہے۔ بعض تحریکوں میں مٹھی بھر لوگ ہی جمع ہوتے، جبکہ دوسری تحریکوں نے بڑی تعداد میں لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کیا اور قومی سطح پر توجہ حاصل کی۔ یہ مقام شہریوں اور حکومت کے درمیان جاری مسلسل بحث کا ایک معروف پلیٹ فارم بن گیا۔ لیکن شاید انتظامیہ یہ بھول چکی ہے کہ ایسا مقام فراہم کرنے کا اصل مقصد کیا تھا۔ احتجاجی مقام کا مطلب پولیس کے لیے مظاہروں کو آسان بنانا نہیں ہوتا۔ اس کا اصل مقصد یہ ہوتا ہے کہ لوگ اپنی شکایات ان لوگوں تک پہنچا سکیں جو ان پر حکومت کرتے ہیں۔

دہلی میں حالیہ احتجاجی مظاہروں نے عوامی عدم اطمینان کے تئیں حکومت کی برداشت کا سخت امتحان لیا ہے۔ حکومت کو یہ سمجھنا چاہیے تھا کہ ہجوم کا حجم عوامی غصے کی گہرائی اور جمع ہونے والے لوگوں کے جذبات کی شدت کو ظاہر کر رہا تھا۔ اس پیغام کو سمجھنے کے بجائے انتظامیہ نے ایک مبینہ انتظامی حل نکالا: جنتر منتر کو احتجاج کے باضابطہ مقامات کی فہرست سے خارج کرنا اور اس کی جگہ رام لیلا میدان، بُراڑی گراؤنڈ اور سی بی ڈی گراؤنڈ جیسے متبادل مقامات مقرر کرنا۔ رام لیلا میدان پہلے ہی بڑے عوامی اجتماعات اور مذہبی تقریبات کے لیے معروف رہا ہے، جبکہ دیگر مجوزہ مقامات اقتدار کے مرکز سے کافی دور ہیں۔

اس کا عملی نتیجہ واضح ہے۔ دور دراز کے میدان میں ہونے والے مظاہرے کے دوران پولیس کے لیے انتظامات برقرار رکھنا اگرچہ آسان ہو سکتا ہے، لیکن حکومت کے لیے اسے نظر انداز کرنا بھی آسان ہو جاتا ہے۔ اگر دس لاکھ لوگ بھی وزیروں اور آئینی اداروں کے دفاتر سے دور جمع ہوں تو ان کی موجودگی سے اقتدار میں بیٹھے لوگوں کو کوئی خاص پریشانی نہیں ہوگی۔ وہ مظاہرین کی نظروں سے اوجھل رہ کر اپنا سرکاری کام کاج معمول کے مطابق جاری رکھ سکتے ہیں۔

تاہم، یہ قدم احتجاج کے بنیادی مقصد کو ہی ختم کر دیتا ہے۔ کوئی مظاہرہ ایسے لوگوں کا اجتماع نہیں ہوتا جو آپس میں وقت گزارنا چاہتے ہوں۔ یہ اختلاف کا ایک عوامی اعلان ہوتا ہے، جس کا مقصد توجہ حاصل کرنا اور ذمہ دار لوگوں کو جواب دینے پر مجبور کرنا ہوتا ہے۔ اسی لیے مظاہرے کا مقام کوئی معمولی انتظامی رسمی کارروائی نہیں ہے، بلکہ وہ خود اس پیغام کا ایک حصہ ہوتا ہے۔

ستم ظریفی یہ ہے کہ جس انتظام کو حکومت اب ختم کرنا چاہتی ہے، اسے قائم کرنے میں اسی نے مدد کی تھی۔ بوٹ کلب سے مظاہروں کو ہٹا کر جنتر منتر تک محدود کرنے کے بعد، اب انتظامیہ مظاہرین کو راجدھانی کے مرکزی علاقے سے مزید دور دھکیلنے کی تیاری کر رہی ہے۔ جو انتظام کبھی قابل کنٹرول سمجھا جاتا تھا، وہ اچانک اس لیے ناقابل قبول ہو گیا ہے کہ لوگ اسے اس سطح پر غصے کا اظہار کرنے کے لیے استعمال کر رہے ہیں جس کی حکومت نے توقع نہیں کی تھی۔

60 سال سے بھی قبل میں نے جس بزرگ معالج کو دیکھا تھا، ان کا مطالبہ شاید ناممکن تھا۔ ممکن ہے کہ انہوں نے سینکڑوں دن ایک ایسے مقصد کے پیچھے ضائع کیے ہوں جسے کبھی قبول نہیں کیا جا سکتا تھا۔ اس کے باوجود ان کے چھوٹے سے خیمے نے عوامی زندگی میں اپنی جگہ بنا لی تھی اور وہاں سے گزرنے والے لوگ انہیں دیکھ کر سمجھ سکتے تھے کہ وہ کسی بات سے غیر مطمئن ہیں۔ یہی جمہوریت کا حقیقی جوہر ہے۔ احتجاج کا حق صرف ان لوگوں تک محدود نہیں ہے جن کے مطالبات معقول ہوں، جن کے دلائل ناقابل تردید ہوں یا جن کی تحریکوں کو عوام کی بڑی حمایت حاصل ہو۔ یہ حق ان لوگوں کو بھی اتنا ہی حاصل ہے جن کے خیالات ہمیں ناپسند ہوں، جن کے دلائل کو ہم مسترد کرتے ہوں اور جن کی تحریکوں کو ہم بے معنی سمجھتے ہوں۔ یہی وجہ ہے کہ جنتر منتر کو ایسی جگہ بنے رہنا چاہیے جہاں اختلاف کی آواز سنی جائے، نہ کہ اسے خاموش کر دیا جائے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔