دہلی احتجاجی مظاہرہ: پولیس کی بربریت کا شکار طالبہ ادیرا کے بیان پر کیرلم پولیس نے درج کی ’زیرو ایف آئی آر‘
ادیرا کی شکایت کی بنیاد پر بھارتیہ نیائے سنہتا (بی این ایس) کی مختلف دفعات کے تحت معاملہ درج کیا گیا ہے۔ اب اسے آگے کی تحقیقات کے لیے دہلی پولیس کو ٹرانسفر کیا جائے گا۔

کیرلم پولیس نے این ایس یو آئی کی خاتون کارکن اور دہلی یونیورسٹی کی طالبہ ادیرا وجین کے ساتھ مبینہ مار پیٹ کے معاملے میں زیرو ایف آئی آر درج کی ہے۔ الزام ہے کہ چیف الیکشن کمشنر (سی ای سی) گیانیش کمار کے استعفیٰ کے مطالبے کو لے کر احتجاج کے دوران دہلی پولیس نے ان کے ساتھ مار پیٹ کی تھی۔ ادیرا نے کیرلم کے ڈائریکٹر جنرل آف پولیس (ڈی جی پی) سے شکایت کر کارروائی کا مطالبہ کیا تھا۔ شکایت کی بنیاد پر بھارتیہ نیائے سنہتا (بی این ایس) کی مختلف دفعات کے تحت معاملہ درج کیا گیا ہے۔ اب اسے آگے کی تحقیقات کے لیے دہلی پولیس کو ٹرانسفر کیا جائے گا۔ ایف آئی آر میں کچھ نامعلوم یا قابل شناخت افراد کو ملزم بنایا گیا ہے۔
کیرلم پولیس نے بی این ایس کی دفعہ 74، 76، 115، 126، 296(بی)، 351(3) اور 3(5) کے تحت معاملہ درج کیا ہے۔ یہ دفعات خاتون کے ساتھ مجرمانہ طاقت کے استعمال، چوٹ پہنچانے، غلط طریقے سے روکنے، مجرمانہ دھمکی اور دیگر متعلقہ جرائم سے وابستہ ہیں۔ واضح رہے کہ زیرو ایف آئی آر کسی بھی پولیس تھانے میں درج کی جا سکتی ہے، اگرچہ وہ واقعہ اس تھانہ کے دائرہ اختیار میں پیش نہ آیا ہو۔ بعد میں اسے تحقیقات کے لیے متعلقہ علاقہ کے پولیس تھانہ کو بھیج دیا جاتا ہے۔ اس معاملے میں الزامات کی تصدیق تحقیقات کے بعد ہی ہو سکے گی۔
واضح رہے کہ لوک سبھا میں حزب اختلاف کے قائد اور کانگریس رہنما راہل گاندھی نے بدھ (14 اکتوبر) کو دہلی میں احتجاج کے دوران حراست میں لیے گئے طلبہ کے ساتھ پریس کانفرنس کی تھی۔ اس دوران طلبہ نے دہلی پولیس پر مار پیٹ اور بربریت کے سنگین الزامات عائد کیے تھے۔ پریس کانفرنس کے دوران ادیرا نے کہا تھا کہ ’’جب پولیس نے ہمیں حراست میں لیا تو بس میں کوئی خاتون پولیس اہلکار موجود نہیں تھی۔ ہم نے خاتون کانسٹیبل بھیجنے کا مطالبہ کیا، لیکن اس کے باوجود انہوں نے بس آگے بڑھا دی۔ پولیس اہلکاروں نے مجھے سڑک پر گھسیٹا۔ وہ مجھے بیسمنٹ میں لے گئے، وہاں میرے چہرے پر گھونسے مارے۔ انہوں نے میرے شرم گاہ اور پیٹ کے اوپری حصے پر بھی مارا۔ انہوں نے میرے ساتھ انسان یا عورت جیسا سلوک تک نہیں کیا۔‘‘ کانگریس کے مطابق دہلی یونیورسٹی کی طالبہ ادیرا کی شکایت ہے کہ پولیس نے ان کے ایک کان پر مارا، جس کے بعد اس کان سے ان کی قوت سماعت ختم ہو گئی۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
