’ہندوستان اور یورپ کا موازنہ کرنا سیب اور سنترے کا موازنہ کرنے جیسا‘، دائیں بازو کے صحافیوں پر پون کھیڑا کا حملہ
پون کھیڑا نے سوال اٹھایا کہ ’’اگر دائیں بازو کا نظام یورپ میں احتجاجی مظاہرہ سے سبق لینے کے لیے اتنا ہی بے تاب ہے، تو پھر وہ دنیا کے دوسرے حصوں کی مثالوں کو کیوں نظرانداز کرتا ہے؟‘‘

’’ہندوستان اور یورپ کا موازنہ کرنا سیب اور سنترے کا موازنہ کرنے جیسا ہے۔ سینئر صحافیوں سے بہتر کی توقع کی جاتی ہے، چاہے ان کا تعلق دائیں بازو کے نظام سے ہی کیوں نہ ہو۔‘‘ یہ تبصرہ کانگریس کے سینئر لیڈر اور قومی ترجمان پون کھیڑا نے آج اپنے آفیشیل ’ایکس‘ ہینڈل پر جاری ایک تفصیلی پوسٹ میں کیا ہے۔ انھوں نے دائیں بازوں کے میڈیا کو ہدف تنقید بناتے ہوئے کہا کہ ’’وہ ایک بار پھر ایک فرسودہ اور خطرناک تصور کو دہرا رہے ہیں۔ وہ مسلمانوں کو فطری طور پر تشدد پسند، عسکریت پسند، وحشی اور غیر مہذب کے طور پر پیش کرنا اور یورپ میں ہونے والے احتجاج کو ایک ’مسلم مسئلہ‘ ظاہر کر رہے ہیں۔ اس سے جو اشارہ ملتا ہے وہ بالکل واضح ہے، یعنی ہندوستان کو بھی اپنے یہاں موجود ’مسلم مسائل‘ سے خبردار رہنا چاہیے۔‘‘
کانگریس لیڈر کا کہنا ہے کہ ’’بات صرف یورپ کو ایک عبرت ناک مثال کے طور پر پیش کرنے کی نہیں ہے۔ ہم نے ہندوستان میں بھی یہی طریقۂ کار، یہی ہتھکنڈے بارہا استعمال ہوتے دیکھے ہیں۔ دہلی میں حالیہ احتجاج کے دوران بھی آر ایس ایس سے وابستہ افراد کو مسلمانوں کا بھیس بنا کر فرقہ وارانہ انتشار بھڑکانے اور تشدد کا سہارا لینے کی کوشش کرتے دیکھا گیا۔‘‘ بعد ازاں وہ سوال اٹھاتے ہیں کہ ’’اس کے مقاصد کیا ہیں؟ تعلیم، انتخابی دیانت داری، شفافیت اور انصاف کے لیے چلائی جانے والی پُرامن اور جائز تحریکوں کو ’عبدل‘ کے نام نہاد ’ ہندوستان مخالف ایجنڈے‘ کا حصہ قرار دے کر بدنام کرنا اور ہندوستانی مسلمانوں کو ویلن کے طور پر پیش کرنا۔‘‘
اس معاملہ کو مزید واضح کرتے ہوئے پون کھیڑا نے اپنی سوشل میڈیا پوسٹ میں لکھا ہے کہ ’’یہاں ایک بنیادی فرق ہے، جسے یہ بیانیہ جان بوجھ کر چھپاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یورپ میں احتجاج کرنے والے ہی فساد برپا کر رہے ہیں۔ ہندوستان میں ایسا کرنے والے حکومت کی سرپرستی میں کام کرنے والے غیر ریاستی عناصر، یعنی آر ایس ایس کے دستے ہیں۔ مودی-شاہ کی پولیس نے بارہا پُرامن مظاہرین کے خلاف وحشیانہ طاقت کا استعمال کیا ہے اور دائیں بازو کے ان ’کارکنوں‘ نے بھی ایسا کیا ہے جو پولیس کا روپ دھارے ہوئے تھے۔‘‘ ان کا کہنا ہے کہ یہ بنیادی طور پر 2 مختلف صورت حال ہیں۔ ان دونوں کو ایک جیسا قرار دینا تجزیہ نہیں، بلکہ پروپیگنڈا ہے۔
پون کھیڑا نے اپنی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے کہا کہ ’’ہندوستان گاندھی کی سرزمین ہے، جن کی لازوال میراث نے عدم تشدد اور سچائی کو ہمارے سیاسی شعور کے مرکز میں رکھا ہے۔ اپوزیشن کی ان کوششوں کو تسلیم کرنے کے بجائے، جن کے ذریعہ عوام کے غصہ اور بے اطمینانی کو پُرامن و گاندھی وادی احتجاج کی راہ پر لانے کی کوشش کی جا رہی ہے، دائیں بازو کے میڈیا اداروں نے خوف و ہراس پھیلانے کی اپنی گھٹیا مہم چلانے کا انتخاب کیا ہے۔‘‘ اس صورت حال کو کانگریس لیڈر فکری بددیانتی اور شدید مایوس کن قرار دیا ہے۔
ایک دیگر سوشل میڈیا پوسٹ میں پون کھیڑا لکھتے ہیں کہ ’’اگر دائیں بازو کا نظام یورپ سے سبق لینے کے لیے اتنا ہی بے تاب ہے، تو پھر وہ دنیا کے دوسرے حصوں کی مثالوں کو کیوں نظرانداز کرتا ہے؟ جاپان کی مثال لیجیے، جہاں ہزاروں شہریوں نے وزیر اعظم سانے تکائچی کے استعفیٰ کا مطالبہ کرتے ہوئے پُرامن مظاہروں میں حصہ لیا ہے۔ یہ احتجاج حکومت کی جانب سے دوبارہ عسکری قوت بڑھانے کی مہم اور امریکہ کے ساتھ اس کے بڑھتے ہوئے فوجی اتحاد کے خلاف ہیں۔‘‘ وہ یہ بھی بتاتے ہیں کہ ’’ان مظاہروں سے ملک کے جنگ عظیم دوئم کے بعد اختیار کیے گئے امن پسندانہ ڈھانچے پر نظرثانی کی کوششوں کے بارے میں عوامی تشویش کا اظہار ہوتا ہے۔‘‘
مودی حکومت کو نشانے پر لیتے ہوئے پون کھیڑا نے کہا کہ ’’ہندوستان شاید ابھی امریکہ کے ساتھ فوجی اتحاد کے اس درجے تک نہ پہنچا ہو، لیکن واشنگٹن کے تئیں ہماری اپنی خارجہ پالیسی بھی تنقید اور جانچ پڑتال سے بالاتر نہیں ہے۔ خاص طور پر مودی کی امریکہ کے تئیں غیر معمولی وابستگی کہیں زیادہ عوامی و سیاسی جانچ پڑتال کی مستحق ہے۔‘‘ کانگریس لیڈر 3 سوالات بھی قائم کرتے ہیں، جو اس طرح ہیں:
ہمیں یورپ سے ہی سبق کیوں سیکھنا چاہیے، جاپان سے کیوں نہیں؟
دائیں بازو کا میڈیا مودی کی امریکہ سے غیر معمولی وابستگی کے معاملے میں حکومت کو گھیرنے کے لیے جاپان کی مثال کیوں نہیں دیتا؟
وہ ان مظاہروں کو ہندوستان میں سیاسی اپوزیشن پر دباؤ ڈالنے کے لیے کیوں استعمال نہیں کرتا، تاکہ ہندوستان کی خارجہ پالیسی، خصوصاً امریکہ کے ساتھ اس کے تعلقات، عوامی بحث کا ایک اہم موضوع بنیں؟
ان سوالات کا خود ہی مختصراً جواب دیتے ہوئے پون کھیڑا سوشل میڈیا پوسٹ میں لکھتے ہیں ’’اس کی وجہ یہ ہے کہ جاپان کی مثال اس بیانیے میں فٹ نہیں بیٹھتی جسے وہ بڑی بے تابی سے پیش کرنا چاہتے ہیں۔‘‘ ساتھ ہی انھوں نے کہا کہ ’’دائیں بازو کا نظام یورپ میں ہونے والے احتجاج کو ایک ’مسلم مسئلہ‘ بنا کر پیش کرنا چاہتا ہے، تاکہ ہندوستان میں ہونے والے احتجاج کو ناجائز قرار دینا آسان ہو جائے۔ جاپان کی مثال اس مضحکہ خیز تصویر کو توڑ دیتی ہے۔ یہ ثابت کرتی ہے کہ احتجاج کسی ایک مذہب، طبقے یا نظریے کی اجارہ داری نہیں ہے۔ یہ ایک عالمگیر جمہوری ذریعہ ہے، جس کے ذریعہ شہری ’اقتدار کے استعمال‘ کو چیلنج کرتے ہیں۔ اور یہی وجہ ہے کہ جاپان کو ان کے بیانیے میں کوئی جگہ نہیں ملتی۔‘‘
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
