
دہلی کی مشہور شراب پالیسی معاملہ میں سماعت کے دوران ایک بڑی پیش رفت سامنے آئی ہے۔ عام آدمی پارٹی کے لیڈران اروند کیجریوال، منیش سسودیا اور ان کے ساتھ درگیش پاٹھک کے ذریعہ عدالتی کارروائی کا بائیکاٹ کیے جانے کے بعد دہلی ہائی کورٹ نے کہا کہ 3 سینئر وکلاء کو ’ایمیکس کیوری‘ کے طور پر مقرر کیا جائے گا۔
Published: undefined
جسٹس سورن کانتا شرما کی بنچ نے منگل کو کہا کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں گی کہ ملزمان کا موقف عدالت میں رکھا جائے اگرچہ وہ خود پیش نہ ہوں۔ عدالت نے کہا کہ وہ جمعہ (8 مئی) کو ایمیکس کیوری کی تقرری پر باضابطہ حکم جاری کرے گی، جس کے بعد معاملے کی سماعت ہوگی۔ ایمیکس کیوری کا مطلب عدالت کا دوست ہوتا ہے۔ دراصل ایمیکس کیوری ایک سینئر اور تجربہ کار وکیل ہوتا ہے، جو کسی بھی فریق کا نمائندہ ںہیں ہوتا، لیکن عدالت کی مدد کے لیے مقرر کیا جاتا ہے۔ اس کا کام قانونی مسائل کو واضح کرنا اور منصفانہ سماعت کو یقینی بنانا ہوتا ہے۔
Published: undefined
واضح رہے کہ 20 اپریل کو جسٹس شرما نے خود کو معاملے سے الگ کرنے والی عرضی کو خارج کر دیا تھا۔ اس کے بعد کیجریوال اور سسودیا نے عدالت کو خط لکھ کر کہا تھا کہ وہ نہ تو ذاتی طور پر اور نہ ہی وکیل کے ذریعہ پیش ہوں گے۔ انہوں نے اپنے موقف کو مہاتما گاندھی کے ستیہ گرہ کے راستے پر چلنا قرار دیا اور عدالتی کارروائی کا بائیکاٹ کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس سے قبل 27 فروری کو ٹرائل کورٹ نے تمام ملزمان کو بری کر دیا تھا۔ اس وقت عدالت نے کہا تھا کہ استغاثہ کا مقدمہ عدالتی جانچ میں ٹکنے میں مکمل طور پر ناکام رہا ہے۔
Published: undefined
اس کے بعد 9 مارچ کو ہائی کورٹ نے سی بی آئی کی اپیل پر سماعت کرتے ہوئے نوٹس جاری کیا تھا۔ عدالت نے ٹرائل کورٹ کے بعض نتائج کو پہلی نظر میں غلط قرار دیا تھا۔ اس کے ساتھ ہی تفتیشی افسر کے خلاف کارروائی کی سفارش پر بھی روک لگا دی گئی تھی۔ اس سے قبل کیجریوال اور سسودیا سمیت تمام ملزمان نے جسٹس شرما پر جانبداری کا خدشہ ظاہر کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ جج کے اہل خانہ مرکزی حکومت کے پینل میں وکیل ہیں۔ اس معاملہ میں سالیسٹر جنرل سی بی آئی کی طرف سے پیش ہو رہے ہیں۔ حالانکہ عدالت نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے انہیں بے بنیاد قرار دیا تھا۔
Published: undefined
Follow us: WhatsApp, Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined