
جامعہ ملیہ کے قریب موجود پولیس اہلکار / فائل تصویر
جامعہ ملیہ اسلامیہ کے طلبا تقریباً 2 ہفتوں سے طلبا یونین الیکشن کی بحالی اور الیکشن کی حتمی تاریخ کے اعلان کا مطالبہ کرتے ہوئے احتجاجی مظاہرہ کر رہے ہیں۔ جامعہ کی انتظامیہ نے بھلے ہی یقین دلایا ہے کہ طلبا یونین الیکشن کی بحالی ہو جائے گی، لیکن انھوں نے اب تک انتخاب کے لیے تاریخ مقرر نہیں کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بڑی تعداد میں طلبا کا احتجاج جاری ہے۔ اس معاملہ میں کانگریس نے جامعہ کے طلبا کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک بھر کے دیگر طلبا کی طرح ہی جامعہ ملیہ اسلامیہ کے طلبا بھی ’طلبا یونین‘ کے مستحق ہیں۔
کانگریس کے سینئر لیڈر پون کھیڑا نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر جاری ایک پوسٹ میں لکھا ہے کہ ’’یہ اس ملک میں جمہوری صورت حال (خصوصاً نوجوانوں کے نقطۂ نظر سے) کی ایک نہایت شرمناک عکاسی ہے کہ اکیسویں صدی کے ہندوستان میں دہلی کی جامعہ ملیہ اسلامیہ کے طلبا کو اپنے اس بنیادی حق کے مطالبہ کے لیے 2 ہفتوں سے زیادہ عرصہ تک احتجاج کرنا پڑا، جس کی ضمانت آئین کی دفعہ (1)(c)19 کے تحت انہیں حاصل ہے۔ یہ حق ایک منتخب طلبا یونین تشکیل دینے کی آزادی سے متعلق ہے۔‘‘ وہ یہ بھی لکھتے ہیں کہ ’’انتظامیہ نے ’اسلام پسند‘ نعرے بازی کا بیانیہ گھڑ کر احتجاج کو بدنام کرنے اور اس کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کی کوشش بھی کی۔‘‘
پون کھیڑا نے اس معاملہ میں جامعہ ملیہ اسلامیہ کی انتظامیہ کو کٹہرے میں کھڑا کرتے ہوئے کہا کہ ’’جب طلبا نے مجرموں کی شناخت کے لیے سی سی ٹی وی فوٹیج پولیس کے حوالے کرنے کا مطالبہ کیا، تو انتظامیہ پیچھے ہٹ گئی۔ آخرکار یونیورسٹی نے یہ عذر پیش کر کے اپنی ذمہ داری سے بچنے کی کوشش کی کہ نعرے بازی کے مقام کے قریب لگے تینوں کیمرے اس وقت کام نہیں کر رہے تھے۔‘‘ اس عذر پر حیرانی ظاہر کرتے ہوئے کانگریس لیڈر نے کہا کہ ’’یہ ایک بے کار بہانہ ہے، جو اس معاملے میں انتظامیہ کی ملی بھگت کو بے نقاب کرتا ہے۔‘‘
پون کھیڑا کا کہنا ہے کہ طلبا یونین تشکیل دینے کا حق بابا صاحب امبیڈکر کے دیے ہوئے نعرے ’تعلیم حاصل کرو، احتجاج کرو، منظم ہو‘ کو عملی جامہ پہنانے کے لیے ضروری ہے۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ جامعہ کے طلبا بھی ملک بھر کے دیگر تعلیمی اداروں سے منسلک طلبا کی طرح اس حق کے مستحق ہیں اور ہم ان کی جدوجہد میں ان کے ساتھ کھڑے ہیں۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔