جامعہ میں طلبہ یونین کی بحالی کے لیے احتجاج 16ویں روز بھی جاری، طلبہ کا انتخابات کی تاریخ کا مطالبہ

جامعہ ملیہ اسلامیہ میں طلبہ یونین کی بحالی کے لیے احتجاج 16ویں روز بھی جاری رہا۔ طلبہ انتخابات کی تاریخ اور آئین کی منظوری کے لیے مقررہ مدت چاہتے ہیں

<div class="paragraphs"><p>تصویر سوشل میڈیا</p></div>
i

جامعہ ملیہ اسلامیہ میں طلبہ یونین کی بحالی کے مطالبے پر جاری احتجاج منگل کو 16ویں روز بھی جاری رہا۔ یونیورسٹی انتظامیہ نے اعلان کیا ہے کہ طلبہ یونین کے آئین کی منظوری کے 15 دن کے اندر انتخابات کرائے جائیں گے، تاہم مظاہرین نے اس فیصلے کے باوجود تحریک ختم کرنے سے انکار کیا ہے۔ طلبہ کا مطالبہ ہے کہ انتظامیہ انتخابات کی حتمی تاریخ بتائے اور یونین کے آئین کی منظوری کے لیے بھی واضح مدت مقرر کرے۔ جامعہ میں 2006 کے بعد سے طلبہ یونین کے انتخابات نہیں ہوئے۔

یونیورسٹی نے ایک روز قبل حکم جاری کر کے کہا تھا کہ آئین کی منظوری کے بعد 15 دن کے اندر انتخابات ہوں گے۔ حکم کے تحت موجودہ احتجاج کے دوران طلبہ کو جاری کیے گئے معطلی کے احکامات اور وجہ بتاؤ نوٹس واپس لینے اور مظاہرے کے دوران سکیورٹی اہلکاروں کے رویے کی جانچ کے لیے کمیٹی بنانے کی بات بھی کہی گئی۔

تاہم طلبہ کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ ان کے مطالبات پورے نہیں کرتا، کیونکہ آئین کی منظوری کب تک دی جائے گی، اس بارے میں حکم میں کوئی آخری تاریخ نہیں بتائی گئی۔ غیر معینہ بھوک ہڑتال پر بیٹھے طلبہ میں شامل ریحان خان نے پیر کو کہا تھا کہ ان کا بنیادی مطالبہ طلبہ یونین کے انتخابات کی بحالی اور ان کی تاریخ کا اعلان ہے۔


جامعہ انتظامیہ نے پیر کی دیر رات خان کو حکم جاری کرکے احتجاجی مقام فوراً خالی کرنے کی ہدایت دی تھی۔ حکم میں کہا گیا کہ ایسا نہ کرنے کی صورت میں قانونی کارروائی کی جا سکتی ہے۔ انتظامیہ کے مطابق مظاہرین نے اس بات پر اتفاق کیا تھا کہ وہ احتجاج کے دوران انتظامیہ کے خلاف دیے گئے ہتک آمیز بیانات، اقدامات اور سوشل میڈیا پوسٹس پر پریس کانفرنس میں عوامی طور پر معافی مانگیں گے۔ حکم میں پوسٹس فوری طور پر ہٹانے کو بھی کہا گیا تھا، اور دعویٰ کیا گیا تھا کہ حکم جاری ہونے کے بعد احتجاج ختم کر دیا جائے گا۔

پیر کو جامعہ میں سکیورٹی بڑھائے جانے کے بعد مظاہرین اور نیم فوجی دستوں کے اہلکاروں کے درمیان جھڑپ ہوئی۔ کشیدگی کے باعث یونیورسٹی نے تمام کورسز کی کلاسیں آن لائن منتقل کر دیں۔ بعد میں پولیس اہلکاروں نے انتظامیہ کے خلاف نعرے لگاتے طلبہ کو جامعہ میں داخل ہونے سے روک دیا۔

اسی روز جامعہ نگر کے سیدہ منزل میں ’جامعہ کلیکٹو‘ کے زیر اہتمام پریس کانفرنس ہوئی۔ سابق طلبہ، جامعہ کے بانی خاندانوں کے ارکان، فنکاروں، وکلا اور طلبہ نمائندوں نے مظاہرین سے یکجہتی کا اظہار کیا اور کیمپس میں جمہوری جگہوں کی بحالی کا مطالبہ کیا۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ وہ انتخابات کی تاریخ اور آئین کی منظوری کے لیے مدت مقرر ہونے تک اپنا احتجاج جاری رکھیں گے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔