جنسی ہراسانی معاملہ: عدالت نے برج بھوشن شرن سنگھ کو جواب داخل کرنے کا آخری موقع دیا

عدالت نے برج بھوشن کو 4 خاتون پہلوانوں کی جانب سے درج کرائے گئے مبینہ جنسی ہراسانی کے معاملے میں انہیں بری کیے جانے کے فیصلے کو چیلنج کرنے والی اپیل پر اپنا جواب داخل کرنے کا آخری موقع دیا ہے۔

<div class="paragraphs"><p>برج بھوشن شرن سنگھ /&nbsp; تصویر: آئی اے این ایس</p></div>
i

دہلی کی ایک عدالت نے بدھ کے روز ریسلنگ فیڈریشن آف انڈیا (ڈبلیو ایف آئی) کے سابق صدر برج بھوشن شرن سنگھ کو 4 خاتون پہلوانوں کی جانب سے درج کرائے گئے مبینہ جنسی ہراسانی کے معاملے میں انہیں بری کیے جانے کے فیصلے کو چیلنج کرنے والی اپیل پر اپنا جواب داخل کرنے کا آخری موقع دیا ہے۔ راؤز ایونیو کورٹ نے سنگھ کو ایک ہفتے کے اندر اپنا جواب داخل کرنے کی ہدایت دی۔ عدالت نے کہا کہ سنگھ کو جواب دینے کا مزید کوئی موقع نہیں دیا جائے گا۔ یہ اپیل 4 خاتون پہلوانوں نے دائر کی ہے، جس میں سنگھ اور ڈبلیو ایف آئی کے سابق اسسٹنٹ سکریٹری ونود تومر کو بری کرنے کے ٹرائل کورٹ کے فیصلے کو چیلنج کیا گیا ہے۔ اپیل میں ونود تومر کو مجرمانہ دھمکی دینے کے الزام سے بری کیے جانے کے فیصلے کو بھی چیلنج کیا گیا ہے۔

اپیل دائر کرنے والوں نے کہا ہے کہ ٹرائل کورٹ کا فیصلہ قانونی طور پر برقرار رہنے کے قابل نہیں ہے اور ریکارڈ پر موجود شواہد کا درست طریقے سے جائزہ نہیں لیا گیا ہے۔ 28 ستمبر کو راؤز ایونیو کورٹ نے سنگھ اور تومر کو نوٹس جاری کر کے اپیل پر ان کے جواب طلب کیے تھے۔ اس کے بعد 9 اکتوبر کو معاملہ سماعت کے لیے درج کیا گیا، جب عدالت نے جواب دہندگان کو اپنے جواب داخل کرنے کے لیے مزید وقت دیا اور آئندہ سماعت کے لیے 28 اکتوبر کی تاریخ مقرر کی۔ 3 اگست کو سنائے گئے فیصلے میں ایڈیشنل چیف جوڈیشل مجسٹریٹ اشونی پوار نے سنگھ اور تومر کو بری کر دیا تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ استغاثہ ان کے خلاف الزامات کو بلا شبہ ثابت کرنے میں ناکام رہا ہے۔


یہ معاملہ جنوری 2023 کا ہے، جب اولمپین ونیش پھوگاٹ، ساکشی ملک اور بجرنگ پونیا سمیت کئی پہلوانوں نے دہلی کے جنتر منتر پر احتجاجی مظاہرہ کیا تھا۔ اس دوران برج بھوشن شرن سنگھ پر جنسی ہراسانی اور دھمکی دینے کے الزامات لگائے گئے تھے۔ پہلوانوں نے ڈبلیو ایف آئی کے سربراہ کے عہدے سے سنگھ کے استعفے اور فیڈریشن کو ختم کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ اس تنازعہ کے بعد انڈین اولمپک ایسوسی ایشن (آئی او اے) کی صدر پی ٹی اوشا کو شکایت موصول ہونے پر ایک تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دی گئی۔ اس کے بعد مرکزی وزارت کھیل نے ڈبلیو ایف آئی کے کام کاج کو معطل کر دیا۔ مئی 2024 میں راؤز ایونیو کورٹ نے سنگھ کے خلاف جنسی ہراسانی اور 5 خاتون پہلوانوں کی عزت مجروح کرنے کے الزامات طے کیے۔ سنگھ نے خود کو بے قصور بتایا تھا اور مقدمے کی سماعت کا سامنا کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔