’حکومت ہی فیصلہ کرے گی‘، مردم شماری میں او بی سی ذاتوں کی الگ فہرست کے مطالبے پر سپریم کورٹ کا تبصرہ
عرضی میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ آن لائن مردم شماری فارم میں او بی سی ذاتوں کی فہرست ڈراپ-ڈاؤن مینو میں دستیاب کرائی جائے، تاکہ مختلف پسماندہ ذاتوں کو فہرست میں درج کیا جا سکے۔

سپریم کورٹ نے مردم شماری میں دیگر پسماندہ طبقات یعنی او بی سی کی ذاتوں کو درج کرنے کے طریقوں کو لے کر داخل عرضی نمٹا دی ہے۔ یہ عرضی او بی سی فیڈریشن آف انڈیا کی طرف سے داخل کی گئی تھی۔ عرضی میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ آن لائن مردم شماری فارم میں او بی سی ذاتوں کی فہرست ڈراپ-ڈاؤن مینو میں دستیاب کرائی جائے، تاکہ مختلف پسماندہ ذاتوں کو فہرست میں درج کیا جا سکے۔
بدھ (28 اکتوبر) کو سماعت کے دوران چیف جسٹس آف انڈیا جسٹس سوریہ کانت، جسٹس جوئے مالیہ باگچی اور جسٹس وی موہنا کی بنچ نے کہا کہ یہ معاملہ پالیسی پر مبنی فیصلہ سے منسلک ہے اور اس پر حکومت ہی غور کر سکتی ہے۔ حالانکہ بنچ عرضی گزار کو ہندوستان کے رجسٹرار جنرل برائے مردم شماری کے سامنے اپنے مطالبے رکھنے کی چھوٹ دے دی۔ فیڈریشن کی طرف سے پیش وکیل انجنی اینگر نے عدالت کو بتایا کہ عرضی گزار پسماندہ طبقات سے تعلق رکھتے ہیں۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا تھا کہ جاری آن لائن مردم شماری کے عمل میں او بی سی ذاتوں کے لیے ڈراپ-ڈاؤن مینو کا انتظام کیا جائے۔
عرضی میں کہا گیا کہ مردم شماری کے شیڈول کے کالم نمبر 10 میں درج فہرست ذاتوں (ایس سی)، درج فہرست قبائل (ایس ٹی) اور ذات سے متعلق معلومات طلب کی گئی ہیں۔ لیکن ایس سی اور ایس ٹی کے علاوہ دیگر لوگوں کے لیے ذات درج کرنے کا اختیار اوپن ٹیکسٹ فیلڈ کی شکل میں دیا گیا ہے۔ اس میں لوگوں کو اپنی ذات کا نام خود لکھنا پڑتا ہے۔ عرضی گزار کا کہنا ہے کہ او بی سی ذاتوں کے لیے بھی ڈراپ ڈاؤن مینو ہونا چاہیے، جیسا کہ 2011 کی مردم شماری میں ایس سی اور ایس ٹی ذاتوں کے لیے کیا گیا تھا۔ ان کے مطابق اس سے مختلف او بی سی ذاتوں کو فہرست میں درج کرنے میں مدد ملے گی۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
