
اترپردیش کے سنبھل میں چیف جوڈیشیل مجسٹریٹ (سی جے ایم) کے تبادلے کو لے کر وکلاء میں شدید غصہ دیکھنے کو مل رہا ہے۔ اسی سلسلے میں ’مراد آباد دی بار ایسوسی ایشن اینڈ لائبریری‘ کے جنرل ہاؤس میں جمعرات (22 جنوری) کی دوپہر سنبھل کے سی جے ایم وِبھانشو سدھیر کے تبادلے کی وکلاء نے سخت مخالفت کی۔ ان لوگوں نے کہا کہ اس واقعہ سے عدلیہ کی آزادی اور غیر جانبداری کو گہرا زخم پہنچا ہے۔ چیف جوڈیشل مجسٹریٹ کے عدالتی حکم کی خلاف ورزی والے بیان دینے والے افسران کے خلاف ہائی کورٹ سے از خود توہین عدالت کی کارروائی کی توقع ظاہر کی۔
Published: undefined
جنرل ہاؤس کے اجلاس کی صدارت بار کے صدر آنند موہن گپتا نے کی۔ اجلاس میں وکلاء نے کہا کہ پولیس کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کا عدالتی حکم جاری کرنے کے بعد سی جے ایم کا تبادلہ انتہائی افسوسناک ہے۔ یہ واقعہ نہ صرف عدلیہ کی آزادی بلکہ عدلیہ کی غیر جانبداری، وقار اور ادارہ جاتی عزت نفس کے لحاظ سے بھی انتہائی تشویشناک ہے۔
Published: undefined
بار ایسوسی ایشن اینڈ لائبریری کا واضح موقف ہے کہ اگر کسی عدالتی افسر کے ذریعہ اپنی عدالتی بصیرت سے جاری کردہ قانونی احکامات کے بعد اس قسم کے انتظامی فیصلے لیے جاتے ہیں تو اس سے عدلیہ کی سالمیت مجروح ہوتی ہے۔ ساتھ ہی عام شہریوں کے ذہنوں میں یہ تاثر پیدا کیا جاتا ہے کہ عدالتی آزادی پر دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔
Published: undefined
جنرل ہاؤس میں موجود تمام لوگوں نے کہا کہ ہائی کورٹ الٰہ آباد کے چیف جسٹس کو اس تجویز سے آگاہ کرایا جائے گا۔ اس سلسلے میں ڈسٹرکٹ جج مرادآباد کے ذریعہ انہیں ایک میمورنڈم بھیجا جائے گا۔ اجلاس میں یہ بھی فیصلہ لیا گیا کہ اگر اس تعلق سے کوئی تسلی بخش فیصلہ نہیں لیا جاتا ہے تو آئندہ کے لائحہ عمل کے لیے دوبارہ غور کیا جائے گا۔ قابل ذکر ہے کہ 2 روز قبل ہائی کورٹ نے سنبھل کے سی جے ایم وِبھانشو سدھیر سمیت 14 ججوں کا تبادلہ کر دیا تھا۔ وِبھانشو سدھیر کو سلطان پور بھیج دیا گیا ہے۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined
تصویر: شاہد صدیقی علیگ
تصویر: پریس ریلیز