سنبھل: انوج چودھری کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کا حکم دینے والے جج کے تبادلے سے ناراض وکلاء کا عدالت کے باہر احتجاج
چندوسی میں عدالت کے باہر بڑی تعداد میں وکلاء نے ریاستی حکومت اور انتظامیہ کے خلاف جم کر احتجاج کیا۔ وکلاء نے ’سی جے ایم صاحب کو واپس لاؤ‘ اور ’یوگی جب جب ڈرتا ہے، پولیس کو آگے کرتا ہے‘ کے نعرے لگائے۔

اترپردیشن کے سنبھل میں سی جے ایم وبھانشو سدھیر کے ٹرانسفر اور ڈیموشن کے بعد سنبھل کے وکلاء کافی غصے میں ہیں۔ بدھ کو درجنوں وکلاء نے عدالت کے باہر جم کر نعرے بازی کی۔ اس دوران وکلاء نے ’سی جے ایم صاحب کو واپس لاؤ‘ کے نعرے بھی لگائے۔ ان لوگوں نے حکومت کے فیصلے پر ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے تبادلے کی ٹائمنگ پر سوال اٹھایا ہے۔
واضح رہے کہ وبھانشو سدھیر وہی جج ہیں جنہوں نے سنبھل تشدد کے دوران ایک نوجوان کی موت کے معاملے میں اُس وقت کے اے ایس پی انوج چودھری سمیت کئی پولیس اہلکاروں کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کا حکم دیا تھا۔ لیکن اس حکم کے کچھ دنوں بعد ہی حکومت نے ان کا ڈیموشن کرتے ہوئے تبادلہ کر دیا۔ ان کی جگہ آدتیہ سنگھ سنبھل کے نئے چیف جوڈیشل مجسٹریٹ مقرر کیے گئے ہیں۔
سی جے ایم وبھانشو سدھیر کے تبادلے پر وکلاء نے محاذ کھول دیا ہے۔ آج چندوسی میں عدالت کے باہر بڑی تعداد میں وکلاء نے ریاستی حکومت اور انتظامیہ کے خلاف جم کر نعرے بازی اور احتجاج کیا۔ وکلاء نے ’سی جے ایم صاحب کو واپس لاؤ‘ اور ’یوگی جب جب ڈرتا ہے پولیس کو آگے کرتا ہے‘ کے نعرے لگائے۔ احتجاج کر رہے وکلاء کا الزام ہے کہ عالم نامی نوجوان کی موت کے معاملے میں پولیس کے خلاف کارروائی کا حکم دینے کی وجہ سے ہی سی جے ایم کا سلطان پور تبادلہ کیا گیا ہے۔ ساتھ ہی سزا کے طور پر ان کا ڈیموشن بھی کر دیا گیا ہے۔ وکلاء نے اس کی ٹائمنگ پر سوال اٹھاتے ہوئے اسے پولیس کے دباؤ کا نتیجہ قرار دیا ہے۔
سی جے ایم وبھانشو سدھیر کے تبادلے نے قانونی اور انتظامی حلقوں میں ہلچل مچا دی ہے۔ دراصل پورا معاملہ 24 نومبر 2024 کے سنبھل تشدد سے منسلک ہے، جس میں یامین نامی شخص نے اپنے بیٹے کو 3 گولیاں مارنے کا الزام پولیس پر عائد کیا تھا۔ اس درمیان 18 ستمبر 2025 کو وبھانشو سدھیر نے چیف جوڈیشل مجسٹریٹ کے طور پر عہدہ سنبھالا۔ چارج سنبھالنے کے کچھ ہی ماہ بعد انہوں نے 9 جنوری 2026 کو اے ایس پی انوج چودھری سمیت کم و بیش 15 پولیس اہلکاروں کے خلاف ایف آئی آر کا حکم دیا تھا، جو 12 جنوری کو منظر عام پر آیا۔ پولیس انتظامیہ نے اس پر بغاوتی رخ اختیار کرتے ہوئے ایف آئی آر درج کرنے سے منع کر دیا تھا اور ہائی کورٹ جانے کی بات کہی تھی۔ لیکن اس درمیان 22 جنوری کو ایف آئی آر درج کرنے کی مدت ختم ہونے سے عین قبل، 20 جنوری کی رات سی جےایم کا اچانک سلطان پور تبادلہ کر دیا گیا۔ وکلاء نے تبادلے کی ٹائمنگ پر سوال اٹھاتے ہوئے اسے پولیس کے دباؤ کا نتیجہ قرار دیا ہے۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔