قومی خبریں

کوٹ دوار تنازعہ: بجرنگ دل کی شکایت پر ’محمد دیپک‘ کے خلاف ایف آئی آر درج

دکان کے نام کے تنازعہ کے معاملے میں پولیس نے بجرنگ دل کی شکایت پر دیپک کارکی کے خلاف ایف آئی آر درج کر لی ہے۔ دیپک وہی نوجوان ہیں جنہوں نے ہجوم کے سامنے سیکولر اقدار کے دفاع میں مداخلت کی تھی

<div class="paragraphs"><p>تصویر سوشل میڈیا</p></div>

تصویر سوشل میڈیا

 

اتراکھنڈ کے کوٹ دوار میں دکان کے نام کو لے کر پیدا ہوئے تنازعہ میں نئی پیش رفت سامنے آئی ہے۔ پولیس نے بجرنگ دل کی شکایت پر محمد دیپک (اصل نام دیپک کارکی) کے خلاف ایف آئی آر درج کر لی ہے۔ پولیس کے مطابق دیپک پر نظم و نسق اور امن عامہ سے متعلق دفعات لگائی گئی ہیں، جو فی الحال ضمانتی بتائی جا رہی ہیں۔ اس پیش رفت نے اس معاملے کو مزید حساس بنا دیا ہے، کیونکہ یہی وہ نوجوان ہیں جو ہجوم کے دباؤ کے دوران ایک مسلم دکاندار کے حق میں سامنے آئے تھے۔

Published: undefined

پولیس کے مطابق، واقعے کے دوران حالات کشیدہ ہو گئے تھے اور دونوں فریقوں کے بیانات کی بنیاد پر کارروائی کی گئی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ مقصد کسی ایک فریق کو نشانہ بنانا نہیں بلکہ صورتحال کو قابو میں رکھنا اور امن برقرار رکھنا ہے۔ پولیس کا یہ بھی کہنا ہے کہ معاملے کی جانچ جاری ہے اور تمام پہلوؤں کو دیکھا جا رہا ہے۔

خیال رہے کہ گزشتہ روز کانگریس رہنما راہل گاندھی نے اس واقعے کے بعد دیپک کی کھل کر تعریف کی تھی۔ راہل گاندھی نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ دیپک نفرت کے ماحول میں آئین اور انسانیت کے ساتھ کھڑے نظر آئے اور وہ سیکولر اقدار کی علامت ہیں۔ ان کے مطابق ایسے نوجوانوں کی ضرورت ہے جو دباؤ کے سامنے جھکنے کے بجائے اصولی موقف اختیار کریں۔

Published: undefined

یہ پورا تنازعہ کوٹ دوار کے پٹیل مارگ پر واقع ایک کپڑوں کی دکان سے شروع ہوا تھا۔ دکان ایک مسلم تاجر کی ہے اور اس کے بورڈ پر ’بابا‘ کا لفظ درج تھا، جبکہ بورڈ پر دکاندار کا نام بھی لکھا ہوا تھا۔ اس کے باوجود بجرنگ دل کے کچھ کارکن وہاں پہنچے اور دکان کے نام پر اعتراض کرتے ہوئے بورڈ سے ’بابا‘ لفظ ہٹانے کا مطالبہ کرنے لگے۔ دکاندار کے مطابق اس دوران ان کے ساتھ سخت لہجے میں بات کی گئی اور دباؤ بنایا گیا۔

اسی وقت دیپک کارکی موقع پر پہنچے۔ انہوں نے پہلے صورتحال کو پرامن طریقے سے سلجھانے کی کوشش کی اور کارکنوں کو سمجھایا کہ کسی کو زبردستی نام یا شناخت بدلنے پر مجبور کرنا غلط ہے۔ جب کارکن پیچھے نہیں ہٹے تو تلخ کلامی شروع ہو گئی۔ وائرل ویڈیو میں دیکھا گیا کہ جب دیپک سے ان کی شناخت پوچھی گئی تو انہوں نے مسلم تاجر سے یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے بلند آواز میں کہا کہ وہ ’محمد دیپک‘ ہیں۔

Published: undefined

دیپک کی مداخلت کے بعد ہجوم کو پیچھے ہٹنا پڑا اور مسلم دکاندار کو وقتی طور پر راحت ملی۔ تاہم اگلے دن بڑی تعداد میں بجرنگ دل کے کارکن کوٹ دوار پہنچے اور مظاہرہ کیا، جس کے باعث شہر کا ماحول کشیدہ ہو گیا۔ پولیس کو حالات قابو میں رکھنے کے لیے اضافی نفری تعینات کرنی پڑی۔

اب جبکہ دیپک کارکی کے خلاف ایف آئی آر درج ہو چکی ہے، یہ معاملہ محض ایک مقامی تنازعہ نہیں رہا۔ یہ سوال بھی اٹھ رہا ہے کہ کیا ہجوم کے سامنے کھڑے ہو کر سیکولر اقدار اور انسانیت کی بات کرنا بھی قانونی کارروائی کا سبب بن سکتا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ وہ تمام فریقوں سے بات چیت کے ذریعے معاملے کو سلجھانے کی کوشش کر رہی ہے، جبکہ شہر میں امن برقرار رکھنے کے لیے نگرانی بڑھا دی گئی ہے۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined