’ایران پر امریکہ و اسرائیل کا حملہ درست‘، پہلی بار ناٹو نے ایران کے خلاف کارروائی کو صحیح ٹھہرایا
آئی آر جی سی نے دعویٰ کیا ہے کہ وسطی ایران کے آسمان میں ایک امریکی ’ایف 35‘ جنگی طیارہ کو نشانہ بنایا ہے۔ ایران کا کہنا ہے کہ حملہ کے بعد طیارہ کا مستقبل نامعلوم ہے، لیکن ممکن ہے کہ وہ گر گیا ہے۔

امریکہ و اسرائیل کے ذریعہ ایران پر کیے گئے مستقل حملوں میں ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای سمیت کچھ اہم ایرانی لیڈران کی موت ہو گئی ہے۔ کئی ممالک ایران پر حملوں کو نامناسب قرار دے رہے ہیں، جبکہ کئی ممالک امریکہ و اسرائیل کے ساتھ کھڑے دکھائی دے رہے ہیں۔ اس درمیان پہلی بار ناٹو نے ایک بیان جاری کر ایران کے خلاف کارروائی کو صحیح ٹھہرایا ہے۔ ناٹو چیف مارک روٹے نے ایران پر امریکہ و اسرائیل کے حملوں کو جائز ٹھہرایا ہے اور کہا ہے کہ ایران کی طاقت کو کم کرنا درست ہے۔
تشویش ناک خبر یہ ہے کہ اسرائیل و امریکہ کے حملے ایران پر لگاتار جاری ہیں اور ایران کی طرف سے بھی جوابی حملے کیے جا رہے ہیں۔ خلیجی ممالک کو اس جنگ کے سبب شدید نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔ ایران نے اپنے کچھ پڑوسی ممالک پر میزائل حملے کیے ہیں، جن سے کافی نقصانات ہوئے ہیں۔ آئیے ذیل میں آج کی کچھ اہم اپڈیٹ پر نظر ڈالیں۔
امریکی وزیر دفاع پیٹر ہیگسیتھ نے جنگ کے لیے کانگریس (پارلیمنٹ) سے اضافی 200 بلین ڈالر کی منظوری کا مطالبہ کیے جانے پر اپنا رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ’’برے لوگوں کو مارنے کے لیے پیسے کی ضرورت ہوتی ہے۔‘‘ دوسری طرف امریکہ کے محکمۂ جنگ کی جانب سے کہا گیا ہے کہ ہم اس وقت تک نہیں رکیں گے جب تک مشن مکمل نہیں ہو جاتا۔
ایران نے اسرائیل کی حیفہ ریفائنری پر میزائل حملہ کیا، جس کے بعد وہاں سے دھواں اٹھتا دیکھا گیا۔ یہ اسرائیل کی سب سے بڑی اور اہم ریفائنری ہے، جو ملک کی تقریباً 50 سے 60 فیصد ایندھن کی ضروریات پوری کرتی ہے۔ قابل ذکر یہ ہے کہ اسرائیل میں صرف 2 ریفائنریاں ہیں۔ بہرحال، سیکورٹی وجوہات کی بنا پر اسرائیل نے حیفہ میں ہونے والے حملوں سے متعلق کسی بھی قسم کی فلم بندی یا اشاعت پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے تاکہ ایران کو دفاعی نظام کے بارے میں معلومات نہ مل سکیں۔
قطر میں دنیا کے سب سے بڑے ایل این جی پلانٹ کو ایرانی میزائل حملہ کے بعد شدید نقصان پہنچا ہے۔ اس حملہ کے نتیجے میں ایل این جی پیداوار کی صلاحیت کا تقریباً 17 فیصد حصہ 5 سال کے لیے بند ہو گیا ہے۔ ’قطر انرجی‘ کے سی ای او سعد الکعبی نے بتایا کہ اس بندش سے سالانہ تقریباً 20 ارب ڈالر کا نقصان ہوگا اور یورپ و ایشیا کو سپلائی متاثر ہو سکتی ہے۔ ان حملوں میں قطر کی 14 ایل این جی یونٹس میں سے 2، اور 2 جی ٹی ایل تنصیبات میں سے ایک کو نقصان پہنچا ہے، جبکہ مرمت کے باعث آئندہ 3 سال تک سالانہ 12.8 ملین ٹن ایل این جی کی پیداوار متاثر رہے گی۔
ہندوستانی وزیر اعظم نریندر مودی نے قطر کے امیر تمیم بن حماد الثانی سے آج بات چیت کی اور انہیں عید کی مبارکباد دی۔ وزیر اعظم نے اس بات چیت کی جانکاری ’ایکس‘ پر دیتے ہوئے لکھا ہے کہ ’’ہم قطر کے ساتھ یکجہتی کے ساتھ کھڑے ہیں اور خطہ کے توانائی ڈھانچے پر ہونے والے حملوں کی سخت مذمت کرتے ہیں۔‘‘ انہوں نے ہندوستانی برادری کو دی گئی سہولتوں پر قطر کے امیر کا شکریہ بھی ادا کیا اور خطہ میں امن و استحکام کی خواہش ظاہر کی۔ ساتھ ہی انہوں نے آبنائے ہرمز میں محفوظ اور بلا رکاوٹ جہاز رانی کی حمایت کا اعادہ کیا۔
ایران کی اسلامک ریوولیوشنری گارڈ کارپس (آئی آر جی سی) نے دعویٰ کیا ہے کہ وسطی ایران کی فضاؤں میں ایک امریکی’ایف 35 لائٹننگ II‘ جنگی طیارے کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ ایران کے مطابق حملہ کے بعد طیارے کا انجام واضح نہیں، لیکن امکان ہے کہ وہ تباہ ہو گیا ہو۔ اس واقعہ کی ابھی تک کوئی سرکاری تصدیق نہیں ہوئی، تاہم ایران پہلے بھی امریکی اور اسرائیلی طیارے گرانے کے دعوے کرتا رہا ہے۔ ایران کے پاس ’باور-373‘ نامی جدید فضائی دفاعی نظام موجود ہے، جو اسٹیلتھ طیاروں کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
امریکی ہوابازی کمپنی ’لاکہیڈ مارٹن‘ کے شیئرز میں زبردست گراوٹ آئی ہے، کیونکہ ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے امریکی ایف-35 طیارے کو کامیابی سے نشانہ بنایا ہے۔ یہ کمپنی پانچویں نسل کے اسٹیلتھ جنگی طیارے ایف-35 تیار کرتی ہے۔
امریکہ کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران دنیا کے لیے ایک سنگین خطرہ ہے اور ہر ملک اس بات سے متفق ہے۔ اپنی فوج ایران بھیجنے کے سوال پر انہوں نے کہا کہ وہ کہیں بھی فوج نہیں بھیج رہے، اور اگر بھیجتے تو اس کی اطلاع نہیں دیتے۔ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایران کی بحریہ اور فضائیہ تقریباً ختم ہو چکی ہے اور اس کے فضائی دفاعی نظام بھی ناکارہ ہو چکے ہیں۔
جاپان کی وزیر اعظم سانے تکائیچی نے خبردار کیا کہ مشرق وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی عالمی معیشت کو بڑا دھچکا دے سکتی ہے اور اس کے منفی اثرات جاپان کی معیشت پر بھی پڑ سکتے ہیں، خاص طور پر تیل کی بڑھتی قیمتوں کے سبب۔
برطانیہ، فرانس، جرمنی، اٹلی، نیدرلینڈز اور جاپان نے مشرق وسطیٰ کی جنگ اور آبنائے ہرمز کی صورتحال پر مشترکہ بیان جاری کیا، جس میں ایران کے حملوں کی مذمت کرتے ہوئے فوری طور پر کارروائیاں روکنے کی اپیل کی گئی ہے۔
امریکی انٹیلی جنس چیف تلسی گبارڈ نے تسلیم کیا ہے کہ ایران کے خلاف جنگ میں امریکہ اور اسرائیل کے مقاصد مختلف ہیں۔ ان کے مطابق امریکی صدر ٹرمپ کے اہداف اسرائیلی حکومت کے اہداف سے الگ ہیں۔ اسرائیل کی توجہ ایرانی قیادت کو کمزور کرنے پر مرکوز ہے، جبکہ امریکہ کی کوشش ایران کی بیلسٹک میزائل صلاحیت، پیداواری نظام اور بحری طاقت کو ختم کرنا ہے۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔