’مودی حکومت عدم اتفاق کو دبا رہی‘، سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر عائد کی جا رہی پابندیوں سے کانگریس خفا
کانگریس ترجمان سپریا شرینیت نے کہا کہ سرکاری افسران طے کر رہے ہیں کہ کون سا مواد چلے گا اور کیا نہیں۔ انھیں خود 11 ایسے ای میل سوشل میڈیا پلیٹ فارمز سے موصول ہو چکے ہیں۔
کانگریس نے سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر عوامی مسائل اٹھانے والے مختلف اکاؤنٹس کو بلاک کرنے، ان کا مواد ہٹانے اور کریئیٹرز کے خلاف کارروائی کو اظہار رائے کی آزادی پر سنگین حملہ قرار دیا ہے۔ کانگریس دفتر میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سوشل میڈیا و ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کی چیئرپرسن سپریا شرینیت نے اس تعلق سے کہا کہ سوشل میڈیا پر نریندر مودی حکومت پر تنقید کرنے اور عوامی مسائل اٹھانے والی آوازوں کو منظم طریقے سے دبایا جا رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ آج صبح ’ایکس‘ پر کئی ایسے اکاؤنٹس کو ہندوستان میں بلاک کر دیا گیا، جو حکومت کی ناکامیوں کو اجاگر کرتے تھے اور عام لوگوں کے مسائل اٹھاتے تھے۔
سپریا شرینیت نے ’4 پی ایم چینل‘ کے دوبارہ معطل کیے جانے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اسی طرح کئی یوٹیوب چینلز کو بھی معطل کیا گیا ہے، جبکہ انسٹاگرام اکاؤنٹس اور ریلس کو بھی ہدف بنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ’کارواں‘ میگزین کو وزیر اعظم کی تصویر کے ساتھ ’ہیرو آف ہیٹرڈ‘ کے کیپشن والی کور فوٹو پوسٹ کرنے پر اسے ہٹانے کا حکم دیا گیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ مرکزی وزیر اشونی ویشنو کے آئی ٹی اور اطلاعات و نشریات کی وزارت کے ذریعہ یہ کارروائیاں کی جا رہی ہیں، جہاں سرکاری افسران یہ طے کر رہے ہیں کہ کون سا مواد چلے گا اور کون سا نہیں۔ شرینیت نے کہا کہ انہیں خود سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کی جانب سے ایسے 11 ای میل موصول ہو چکے ہیں۔
کانگریس لیڈر کا کہنا ہے کہ مودی حکومت اقتصادی، سفارتی، سیاسی اور سماجی ہر محاذ پر ناکام ثابت ہوئی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ حکومت سے وابستہ بااثر افراد کے نام ایپسٹین فائل میں شامل ہیں اور مختلف معاملات میں وزیر اعظم نریندر مودی اور ان کی حکومت کی مبینہ غلطیوں کا انکشاف ہو رہا ہے، جس کے باعث اپوزیشن اور عوام حکومت سے سوالات کر رہے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ حکومت نے مین اسٹریم میڈیا کو اپنے زیر اثر کر لیا ہے، جبکہ عوام کے لیے سوال اٹھانے کا سب سے بڑا ذریعہ اب سوشل میڈیا بن گیا ہے۔ ایسے میں حکومت چاہتی ہے کہ جو سوالات مین اسٹریم میڈیا نہیں اٹھا رہا، وہ سوشل میڈیا پر بھی نہ اٹھائے جائیں۔
سپریا نے مثال پیش کرتے ہوئے کہا کہ روپے کی قدر مسلسل گر رہی ہے، لیکن مین اسٹریم میڈیا میں اس پر کوئی بحث نہیں ہو رہی، حالانکہ سوشل میڈیا پر اس معاملے میں گفتگو جاری ہے۔ اسی لیے اس پر بھی کنٹرول کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ میں مائک بند کر دیا جاتا ہے اور باہر سوشل میڈیا اکاؤنٹس۔ یہ سبھی آوازوں کو دبانے کی کوشش ہے۔
پریس کانفرنس میں سپریا شرینیت نے حکومت کی کوششوں کو ناکام بنانے کا عزم بھی کیا۔ انھوں نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی سے ہر حال میں سوالات پوچھے جائیں گے۔ ساتھ ہی انہوں نے کچھ اہم سوالات سامنے بھی رکھ دیے۔ انھوں نے پوچھا کہ بدنام زمانہ جنسی مجرم جیفری ایپسٹین کے ساتھ تعلقات رکھنے والے افراد حکومت میں کیوں شامل ہیں؟ امریکہ کے ساتھ تجارتی معاہدوں میں ہندوستانی کسانوں کے مفادات کو کیوں نظر انداز کیا گیا؟ مغربی ایشیا کی صورت حال، ایل پی جی بحران، ایران کے ساتھ تعلقات میں کشیدگی، روپے کی گرتی قدر اور چین کے ساتھ سرحدی حالات جیسے اہم مسائل پر حکومت وضاحت کیوں نہیں دے رہی؟
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔