قومی خبریں

کھڑگے نے تہواروں پر دکھایا عام آدمی کی رسوئی کا حساب، بے تحاشہ مہنگائی پر مودی حکومت کو کٹہرے میں کھڑا کیا

ملکارجن کھڑگے کا کہنا ہے کہ ’’دھیان بھٹکانے والے اسٹنٹس اور بے تُکی باتوں میں الجھا کر بی جے پی اپنی کرتوتوں سے پیچھا چھڑانا چاہتی ہے، لیکن کانگریس پارٹی اور عوام مہنگائی پر سوال پوچھتی رہے گی۔‘‘

<div class="paragraphs"><p>کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے / یو این آئی</p></div>

کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے / یو این آئی

 

گزشتہ کچھ دنوں میں چینی اور پیاز کی قیمتیں اچانک بہت بڑھ گئی ہیں۔ اس معاملہ میں مرکز کی مودی حکومت کو لگاتار تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ آج کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے تو عام آدمی کی رسوئی کا حساب ہی سامنے رکھ دیا ہے، جس نے مودی حکومت میں بے تحاشہ بڑھ رہی مہنگائی پر سے پردہ ہٹا دیا ہے۔ عید میلاد النبی اور اونم کے موقع پر کھڑگے نے رسوئی کا یہ حساب اپنے آفیشیل ’ایکس‘ ہینڈل پر شیئر کیا ہے۔

سوشل میڈیا پوسٹ میں کھڑگے نے لکھا ہے کہ ’’دھیان بھٹکانے والے اسٹنٹس اور بے تُکی باتوں میں الجھا کر بی جے پی اپنی کرتوتوں سے پیچھا چھڑانا چاہتی ہے، لیکن کانگریس پارٹی اور عوام مہنگائی پر سوال پوچھتی رہے گی۔‘‘ انھوں نے آگے لکھا ہے کہ ’’تہواروں پر عام آدمی کی رسوئی کا حساب دیکھیے... پیاز کی قیمت سال بھر میں 59 فیصد تک بڑھ گئی، کئی شہروں میں یہ 50 سے 60 روپے کلو فروخت ہو رہی ہے۔ اسی طرح چینی 60 سے 70 روپے کلو اور کہیں 72 روپے کلو تک فروخت ہو رہی ہے۔ سرسوں کا تیل 200 روپے فی لیٹر کے پاس ہو گیا ہے۔‘‘ کانگریس صدر نے خوردنی اشیا کی شرح مہنگائی 5.52 فیصد اور ہول سیل شرح مہنگائی 9.78 فیصد ہونے کی جانکاری بھی دی۔

راجیہ سبھا میں حزب اختلاف کے قائد ملکارجن کھڑگے نے اپنی سوشل میڈیا پوسٹ میں ایک گرافکس بھی دی ہے، جس میں ضروری خوردنی اشیا کی ایک فہرست ہے اور 2013 و 2026 میں اس کی قیمت کا موازنہ کیا گیا ہے۔ اس گرافکس کے مطابق چینی کی قیمت مئی 2013 میں 37 روپے کلو تھی، جو اگست 2026 میں 127.03 فیصد بڑھ کر 84 روپے کلو ہو چکی ہے۔ پیاز کی قیمت مئی 2013 میں 23 روپے کلو تھی، جو اگست 2026 میں 217.39 فیصد بڑھ کر 73 روپے کلو ہو گئی ہے۔ اسی طرح ٹماٹر کی قیمت مئی 2013 میں 17.50 روپے کلو تھی، جو اگست 2026 میں 585.71 فیصد بڑھ کر 120 روپے کلو ہو گئی ہے۔

اس گرافکس میں آلو، تور دال، اڑد دال، چنا دال، سرسوں تیل، مونگ پھلی تیل، دودھ، آٹا اور چاول کی مئی 2013 اور اگست 2026 کی قیمتوں کا موازنہ بھی کیا گیا ہے۔ دی گئی جانکاری کے مطابق مئی 2013 میں آلو 24 روپے، تور دال 75 روپے، اڑد دال 71 روپے، چنا دال 50 روپے، سرسوں تیل 102 روپے، مونگ پھلی تیل 165 روپے، دودھ 36 روپے، آٹا 21 روپے اور چاول 29 روپے فی کلو/لیٹر تھے، لیکن اگست 2026 میں ان کی قیمت بالترتیب 51 روپے، 180 روپے، 180 روپے، 125 روپے، 263 روپے، 286 روپے، 85 روپے، 69 روپے اور 71 روپے ہو گئی۔ اس طرح یہ اضافہ بالترتیب 112.50 فیصد، 140 فیصد، 153.52 فیصد، 150 فیصد، 157.84 فیصد، 73.33 فیصد، 136.11 فیصد، 228.57 فیصد اور 144.83 فیصد رہا۔

یہ سبھی جانکاریاں شیئر کرنے کے بعد کانگریس صدر نے لکھا ہے کہ ’’12 سال سے بی جے پی حکومت ہے، اور ’اچھے دنوں‘ کا عالم یہ ہے کہ کبھی دال، کبھی سبزی، کبھی تیل، کبھی چینی عام آدمی کا بجٹ بگاڑ دیتی ہے۔‘‘ گزشتہ کچھ دنوں میں چینی کی قیمت بہت بڑھ گئی ہے، جس کی وجہ سے اپوزیشن پارٹیاں برسراقتدار طبقہ کو نشانہ بنا رہی ہیں۔ الزام عائد کیا جا رہا ہے کہ بڑی مقدار میں گنّے کا استعمال ایتھنول بنانے میں کیا جا رہا ہے، تاکہ ای-20 پٹرول تیار کرنے میں اس کا استعمال کیا جا سکے۔ اس وجہ سے چینی بنانے کے لیے گنّے کی کمی ہو گئی ہے اور نتیجہ یہ ہے کہ چینی کی قیمتیں بڑھتی جا رہی ہیں۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔