سورت میں وندے بھارت پر پتھراؤ، ٹرین میں گورنر آنندی بین پٹیل بھی کر رہی تھیں سفر

مغربی ریلوے کے مطابق وندے بھارت ایکسپریس پر پتھراؤ کا واقعہ اُتران اور کوساڈ کے درمیان پیش آیا، جس کی وجہ سے سی-6 اور سی-10 کی کھڑکیوں کے شیشے ٹوٹ گئے۔

<div class="paragraphs"><p>تصویر، سوشل میڈیا&nbsp;<a href="https://x.com/ians_india">@ians_india</a></p></div>
i

گجرات کے سورت میں ممبئی-احمدآباد وندے بھارت ایکسپریس پر پتھراؤ کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ ٹرین نمبر 22961 وندے بھارت ایکسپریس پر منگل کی شام 6:30 سے 6:45 بجے کے درمیان پتھر پھینکے گئے۔ اسی ٹرین میں اتر پردیش کی گورنر اور گجرات کی سابق وزیر اعلیٰ آنندی بین پٹیل بھی سفر کر رہی تھیں۔ وہ ٹرین کی ایگزیکٹیو کوچ میں تھیں۔ رپورٹس کے مطابق پتھراؤ سے کوچ نمبر 6 اور 10 کی کھڑکیاں ٹوٹ گئیں۔ حالانکہ اس واقعہ میں ان کے یا کسی دیگر مسافر کے زخمی ہونے کی خبر نہیں ہے۔

پتھراؤ معاملے میں پولیس نے ایک مشتبہ شخص کو حراست میں لیا ہے۔ فی الحال معاملے کی تحقیقات جاری ہے۔ ریلوے پولیس کے ساتھ گجرات پولیس بھی معاملے کی تحقیقات کر رہی ہے۔ مغربی ریلوے کے مطابق وندے بھارت ایکسپریس پر پتھراؤ کا واقعہ اُتران اور کوساڈ کے درمیان پیش آیا، جس کی وجہ سے سی-6 اور سی-10 کی کھڑکیوں کے شیشے ٹوٹ گئے۔ اس کے بعد آر پی ایف کی ٹیم موقع پر پہنچی اور ریلوے ٹریک کے پاس سے تقریباً 30 سال کے ایک مشتبہ شخص کو حراست میں لیا۔


رپورٹس کے مطابق ابتدائی تحقیقات میں پتہ چلا کہ گرفتار مشتبہ شخص شدید نشے میں تھا۔ پولیس اور آر پی ایف کی ٹیم فی الحال اس کی شناخت اور واقعہ کے پیچھے کی وجوہات کا پتہ لگانے کے لیے اس سے پوچھ تاچھ کر رہی ہے۔ دوسری جانب پتھراؤ کے واقعہ کے بعد ریلوے افسران نے علاقے میں ریلوے ٹریک کے آس پاس سیکورٹی بڑھا دی ہے۔ آر پی ایف اور جی آر پی کے جوان جائے وقوع اور آس پاس کے علاقوں میں مزید تحقیقات میں مصروف ہیں۔

واضح رہے کہ وندے بھارت ٹرین پر پتھراؤ کا یہ واقعہ کوئی نئی بات نہیں ہے۔ اس سے قبل 23 اگست کو بھی پٹنہ-گومتی نگر وندے بھارت ایکسپریس پر پتھراؤ کا واقعہ سامنے آیا تھا، جس کی وجہ سے ٹرین کی ایک کھڑکی کو نقصان پہنچا تھا۔ زونل ریلوے کے کے مطابق یہ واقعہ صبح تقریباً 6:40 بجے پیش آیا جب ٹرین بہٹا اسٹیشن کے پاس سے گزر رہی تھی۔ واقعہ کے بعد ریلوے پروٹیکشن فورس (آر پی ایف) فوری طور پر جائے وقوع پر پہنچ گئی اور تحقیقات شروع کر دی۔ بعد میں ریلوے ایکٹ کی دفعہ 153 کے تحت نامعلوم افراد کے خلاف معاملہ درج کیا گیا تھا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔